غرب اردن میں یہودیوں کے لیے 46 ہزار گھروں کی تعمیر کے منصوبے کا انکشاف


مقبوضہ بیت المقدس : اسرائیل کی ایک خاتون وزیر نے انکشاف کیا ہے حکومت مقبوضہ مغربی کنارے میں 46 ہزار نئے ہاؤسنگ یونٹ بنانے کے منصوبوں کی تیاری کررہی ہے۔

صدی کے مبینہ معاہدے پر عمل درآمد کے بعد یہ تعداد 3 گنا بڑھا دی جائے گی۔ ہائوسنگ کی اسرائیلی وزیرہ یفعات شاشا بیٹون کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے وزارت کی منصوبہ بندی ٹیموں کو مغربی کنارے میں آبادی کو بڑھانے کے منصوبے تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کے اس منصوبے تحت آئندہ کچھ عرصے کے دوران 46 ہار گھروں کی تعمیر کا منصوبہ زیرغور ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے سنچری ڈیل منصوبے پر عمل درآمد کے بعد یہ تعداد تین گنا بڑھ جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے “صدی کی ڈیل” کو عمدہ قرار دیا ہے اور وہ پہلی بار امریکی تعاون سے وادی اردن کے علاقے میں اسرائیلی خودمختاری کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کریں گے۔

اسرائیلی وزیرہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے منظوری کے بعد مغربی کنارے میں تقریبا 4 4 ہزار نئے ہاؤسنگ یونٹس تعمیر کیے جائیں گے۔ یفعات نے بتایا کہ گذشتہ سال وزارت سنھبالنے کے بعد وہ انہوں نے القدس میں 1077 گھروں کی تعمیر کی منظوری دی تھی۔

اسرائیلی وزیرہ کا یہ اعلان بیت المقدس شہر کے مشرق میں “E1” نامی سیکٹر میں 3500 گھروں کی تعمیر فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو نے حال ہی میں سیکٹروں میں 3500 گھروں کی تعمیر کی منظوری دی تھی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ عالمی برادری فلسطین میں یہودی کالونیوں اور ان میں بنائے گئے گھروں کو بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیتی ہے۔ فلسطین میں اسرائیلی آبادکاری جنیوا کنونشن اورسلامتی کونسل کی قراردادوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔


%d bloggers like this: