غیر ملکی مالی اعانت سے چلنے والے بجلی کے منصوبے تعطل کا شکار،غیرملکی فنڈز کی ادائیگی روکنے کا انکشاف

اسلام آباد(این این آئی)غیر ملکی مالی اعانت سے چلنے والے بجلی کے زیادہ تر منصوبے سست رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں جس کے نتیجے میں غیر ملکی فنڈز کی ادائیگی روک دی گئی ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی رابطہ کمیٹی برائے غیر ملکی فنڈڈ منصوبے (این سی سہ ایف ایف پی) نے تشویش ظاہر کی کہ توانائی کے شعبے میں 14 میں سے 8 منصوبے مسئلہ یاجزویطور پر اطمینان بخش بن گئے ہیں۔ان منصوبوں کے لئے غیر ملکی قرض دینے والی ایجنسیوں اور دوطرفہ قرض دہندگان کے ذریعہ کل 3 ارب 42 کروڑ ڈالر فنڈز

حاصل ہونے تھے تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے سست پیشرفت کی وجہ سے 3 ارب 3 کروڑ ڈالر سے زائد کی رقم فراہم نہیں کی جاسکی۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ چند منصوبے ’سفید ہاتھی‘ بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کے لیے ادائیگی تقریبا 0.2 فیصد رہی ہے اور ملک 2 فیصد سے اپنے عزم پر معاوضے ادا کررہا ہے،یہ ایسے وقت میں ہوا جب پاکستان کو بیلنس آف پیمنٹ (ادائیگی کے توازن) کی حمایت میں غیر ملکی فنڈز کے بہاؤ کی اشد ضرورت ہے۔ایشین ڈویلپمنٹ بینک، ورلڈ بینک، اسلامک ڈویلپمنٹ بینک، جاپان، فرانس، جرمنی اور امریکا کے مالی تعاون سے بجلی کے شعبے کے ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے طلب کیے گئے اس اجلاس میں شریک ایک سینئر سرکاری عہدیدار کے مطابق وعدے کیے گئے پورٹ فولیو کے خلاف کل ترسیل 10 فیصد سے تھوڑا سا اوپر ہے کیونکہ 3 ارب 40 کروڑ روپے میں سے صرف 37 کروڑ 30 لاکھ ڈالر استعمال کیا گیا ہے، اس سے ڈونر برادری کے درمیان ہماری ساکھ متاثر ہورہی ہے۔88 کروڑ 30 لاکھ غیر ملکی فنڈ کے 6 منصوبے (14 میں سے) پر ہونے والی پیشرفت کو ‘اطمینان بخش بتایا گیا حالانکہ ان کے لیے مجموعی طور پر 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالرکی فراہمی ہوئی تھی اور تقریبا 74 کروڑ 20 لاکھ ڈالر باقی تھے۔8 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے غیر ملکی فنڈز کے دو منصوبوں کو جزوی طور پر اطمینان بخش بتایا گیا،ان منصوبوں کے لیے ادائیگیوں کی مالیت 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہے اور 4 کروڑ 40 لاکھ ڈالر باقی ہیں۔2 ارب 45 کروڑ کے 6 منصوبوں کو ’مسئلہ‘ کے طور پر بیان کیا گیا جس میں 20 کروڑ 50 لاکھ کی رقم ادا کیجاچکی ہے اور 2 ارب 24 کروڑ کی ادائیگی باقی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیر توانائی نے کام کو تیز کرنے اور متعلقہ اداروں کے معاملات کو حل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔سکرٹری اور پاور ڈویژن کے لائن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہان، ڈپٹی چیئرمین، پلاننگ کمیشن، سیکریٹری ای اے ڈی، وزیر اعظم کے دفتر کے نمائندگان، فنانس ڈویژن اور صوبائی پی اینڈ ڈی محکموں اور بورڈ آف ریونیو کے نمائندوں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: