لاہور والوں کیلئے چمکتی ٹرین اور کراچی والوں کیلئے چنگچی دیکھتے ہیں تو خون جلتا ہے،مصطفی کمال کی حکومت پر چڑھائی

کراچی (این این آئی) پاک سرزمین پارٹی کے چئیرمین سید مصطفی کمال نے کہاہے کہ حکمران ملک کوآئینی بحران کی طرف دھکیل رہے ہیں،کراچی والوں پرملازمتوں کے دروازے بند ہیں،انقلاب کے ڈرامے نہیں چلیں گے اب کراچی حساب لے گا، کراچی والے کب تک تیسرے درجے کے شہری بن کر زندگی گزاریں گے، لاہور والوں کیلئے چمکتی ٹرین اور کراچی والوں کیلئے چنگچیدیکھتے ہیں تو خون جلتا ہے ، چیف جسٹس ہماری تعداد 3 کروڑ بتاتے ہیں ، ادارے ہمیں ایک کروڑ گنتے ہیں، کراچی دنیا کا بدترین شہر ہوگیا ہے جہاں پانی اور سیوریج نہیں ہے،اب کراچی کو بدترین

ٹرانسپورٹ کا شہر قرار دیا گیا ہے، وزیراعظم ابھی تک الیکشن مہم سے باہر نہیں نکلے،وہ ایک طرف ملک میں جمہوریت کی بات کرتے ہیں مگردوسری طرف اپوزیشن جماعتوں سے بات کرنے کوتیارنہیں،یہ کیسی جمہوریت ہے،ایک دوسرے کوچور کہنا بند کرواورعوامی مسائل حل کرنے کے لیے ڈائیلاگ کرو،آج پاکستان میں جتنی مایوسی ہے ، اتنی مایوسی کبھی نہیں ہوئی ۔ پہلے لوگ حکمرانوں سے مایوس ہوتے تھے تو اپوزیشن سے امید ہوتی تھی ، اپوزیشن سے ناامید ہوتے تھے تو حکومت سے امید ہوتی تھی ۔ ایک ادارے سے مایوس ہوتے تھے تو دوسرے ادارے سے امید ہوتی تھی ۔ آج پاکستان کے عوام تمام سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن سے اور اداروں سے بھی مایوس ہیں۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے باغ جناح میں منعقدہ جلسے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسے سے پاک سرزمین پارٹی کے صدرانیس قائمخانی، جنرل سیکرٹری پی ایس پی حسان صابر، سینئر وائس چیئرمین اشفاق منگی،۔ پی ایس پی کے وائس چیئرمین ارشد وہرا،۔ وائس چیئرمین پاکستان سرزمین پارٹی شبیر احمد قائمخانی، کے وائس چیئرمین ڈاکٹر حفیظ الدین شیخ، جوائنٹ سیکرٹری پی ایس پی بلقیس مختار، جوائنٹ سیکرٹریعطا اللہ کرد نے بھی خطاب کیا۔ چیئر مین سید مصطفی کمال نے کہاکہ آج پاکستان کے عوام تمام سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن سے اور اداروں سے بھی مایوس ہیں ۔ اب سے ڈھائی سال پہلے اس ملک پر حکومت آئی اور ڈھائی سال گزرجانے کے باوجود ان کو یقین نہیں آ رہا ہے کہ وہ اب ملک کے حکمران ہیں ۔ وہ حکومت کو الیکشن کمپین کی طرح چلا رہے ہیں ۔ تمام سیاسی جماعتوں کااتحاد بن گیا ہے انہوں نے الائنس بنا کر پی ڈی ایم نام رکھ دیا ہے ۔ پورے پاکستان میں عوام کے نام پر جلسے جلوس کر رہے ہییں ۔ ان 11 جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ کراچی جو پاکستان کا معاشی حب ہے یہاں عوام سے بات کی جائے جلسہ کیا جائے ۔ اسی مقام پر پاکستان کی 11 بڑی سیاسی جماعتیں آئیں اور اپنے سرکاری وسائل خرچ کیے ۔ ان 11 جماعتوں نے 18 اکتوبر کو باغ جناح میںجلسہ کیا اسمیں کوئی بھی کراچی کا نہیں تھا ، اس جلسیمیں ملک بھر سے لوگوں کو بلایا گیا ۔ ایک لفظ بھی پاکستان کے عوامی مسائل کے لیے نہیں بولا گیا ۔ ساری سیاسی جماعتوں نے ایک ہی مدعے پر بیان کیا کہ اس حکمران کو اتارو اور ہمیں حکمران بنا دو ۔ یہ تمام اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں اپوزیشن ہونے کا ڈرامہ کر رہی ہیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اس کو لیڈ کر رہےتھے ۔ 12 سال سے پیپلز پارٹی سندھ میں حکومت کر رہی ہے اور وہ پی ڈی ایم کو چلا رہی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ آج آپ کے پاس ایک کونسلر بھی نہیں ہے ۔ آپ کیسے غریبوں کی بات کر رہے ہیں ۔ آپ کیسے لوگوں سے ووٹ مانگنے جائیں گے ۔ آپ نے کراچی میں جلسہ کرکے غلطی کردی ۔ آپ نے کراچی والوں سے جھوٹ بول کر غلطی کر دی ہے ۔ آپ یہ ڈرامہ پورے پاکستان میں کرتےلیکن کراچیمیں کرکے آپ نے غلطی کر دی ہے ۔ عمران خان کی حکومت نے ہمیں بچایا نہیں ہے اس نے ہمیں تمہیں ہاتھوں مرنے کے لیے چھوڑ دیا ہے ۔ ہمیں عمران خان کی حکومت نے نہیںمارا ہے ، ہمیں تم نے مارا ہے کیونکہ تم 12 سال سے سندھ پر حکومت کر رہے ہو ۔ پچھلے 12 سالوں سے سندھمیں 70 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں ۔ وہ سندھمیں حکمرانی کر رہے ہیں ، اعلی عدالتوںمیں کتے کو کاٹنے پر بات ہو رہی ہے ۔ یہ مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا ہے ۔ عدالتیں فیصلہ دے رہی ہیں کہ اگر کتے نے کسی کو کاٹا تو اس علاقے کے ڈپٹی کمشنر کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے ۔ تمہارے اندر اتنی جرات ہے تو عوام کے حقوق کی بات کرو ۔ اب مصطفی کمال اور اس کے لوگوں کا داور ہے ۔ پی ایس پی والے کراچی کے وارث ہیں ۔ صوبے اور پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑیںگے ۔ تمہارا دور ختم ہونے والا ہے ۔ کسی قوم کو توڑنا ہو تو اس سے امید چھین لو ۔ آج کسی حکمران کو یہ توفیق نہیں ہے کہ ان کی حکمرانی سے عوام کو کیا فائدہ ہے ۔ یہ حکمران صرف چور چور کا نعرہ لگاتے رہتے ہیں عوام کا کسی کو خیال نہیں ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے 10 سالہ دور میں این ایف سی اایوارڈ کے تحت 6694 ارب روپے دس سالوں میں ملے ہیں ۔ اس کراچی سےانہوں نے ان دس سالوں سے ٹیکس کی مد میں 1 ایک ارب روپے سے زائد وصول کیے ہیں ۔ 8 ہزار342 ارب روپے تہمارے نام پر اس پیپلز پارٹی کی حکومت کو ملے۔ سندھ حکومت 8 ہزار 342 ارب روپے پچھلے 10 سالوں میں کھا گئی ہے ۔ رکشے والوں کے اکانٹ میں اربوں روپے نکل رہے ہیں ۔ تین سو ارب روپے سے میں نے کراچی میں سیکڑوں سڑکیں اور اندر پاسز اورفلائی اور بنائے ۔ میں سگنل فری کوریڈور بنائے ، 400 سے زائد پارکس بنائے ۔ پورے شہر کو روشن کیا ۔ مجھے صرف 300 ارب روپے خرچ کرنے پر دنیا بھر سے ایوارڈ ملے ۔ انہوں نے دس سالوں میں 8 ہزار 342 ارب خرچ کر دیئے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی اب ان سے حساب لے گا ۔ چیخ چیخ کر تقریر کرنے سے حقائق کو کوئی نہیں چھپا سکتا ۔ تم یہاں پر آکر غیربوں کی بات کرتےہو ہمیں تم نے غریب کیا ہے ۔ یہاں پر سرکاری اسپتالوں میں غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ تم نے کراچی کے پڑھے لکھے لوگوں کو نوکریاں نہیں دیں ۔ تم نے سارے صنعت کاروں کو تباہ کر دیا ۔ تم نے سڑکیں تباہ کیں ، تم نے کراچیکو پانی نہیں دیا ۔ تم نے یہاں کے صنعت کاروں کو ہجرت پر مجبور کیا ۔ یہاں کے نوجوان سے اب پرائیویٹ نوکری بھی چھینی جا رہی ہے ۔ تم نے12 سالوں سے ایک قطرہ پانی اس کو نہیں دیا۔ تم نے ٹینکر مافیا سے مل کر کراچی والوں کو ان کا ہی پانی بیچا ہے ۔ تم نے 12 سالوں نسے کراچی کو کوئی بس نہیں دی ۔ دنیا والے کہہ رہے ہیں کہ کراچی دنیا کی سب سے خراب ٹرانسپورٹ والا ملک ہے ۔ کراچی کا نام پورے دنیا میں خراب شہروں کی لسٹ میں شامل ہے ۔ کراچی دنیا کا بدترین شہر ہو گیا ہے ۔ آج سے 70 سال پہلے ٹرام چلتیتھی ۔ آج لاہور میں جگمگاتی ہوئی اورینج ٹرین چل رہی ہے ۔ ہم اپنے پنجاب کے بھائیوں کی ترقی دیکھ کر خوش ہیں ۔ ہم کراچی والے بھی انسان ہیں فرشتے نہیں ہین ۔ ہم جب پنجاب میں چمچاتی ہوئی ٹرین اور بس دیکھتے ہیں تو ہم کراچی والوں کے دل میں یہ خیال ضرور آتا ہے کہ کیا ہم پاکستانی نہیں ہیں ۔ کیا کراچی والوں کو ہمیشہ حب الوطنی کا ثبوت دینا پڑے گا ۔ اے حکمرانوں بتا کراچیوالے اپنے خون پسینے کیکمائی سے پاکستان نہیں چلا رہے ہیں ۔ کراچی والوں کو زہر ملا پانی پلانا بند کرو ، کراچی میں کوئی نیا اسکول ، یونیورسٹی یا کوئی تعلیمی ادارہ تعمیر نہیں ہوا ہے ۔ کراچی میں ذرا سی بارش ہوتی ہے تو لوگ سڑکوں پر کرنٹ لگنے سے مرنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ مصطفی کمال نے کہا کہ ہم کس سے فریاد کریں ۔ آج سے دو مہینے پہلے اس شہر کی سب سےبڑی خبر یہ تھی کہ بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا ہے ۔ بارشوں میں لوگ مر گئے ۔ لوگوں نے اپنے گھروں سے نکل مکانی کی ۔ اتنی تباہی اور بربادی ہوئی کہ چیف جسٹس کو عدالت لگانی پڑی اور آرمی چیف کو دو راتوں کے لیے کراچی میں رکنا پڑا ۔ عمران خان نے کراچی والوں کو 11 سو ارب روپے کا پیکیج کا اعلان کرکے چلے گئے ۔ کراچی میں جلسہ کرنے والوں نے کراچیکے حق میں کوئی بات نہیں کی ۔ اس شہر میں پھر بارش ہو گی اور اس شہر میں ماں کے بچے تڑپ تڑپ کے مریں گے ۔ اے ملک چلانے والوں کراچی والوں کا فیصلہ کرو ۔ ہمیں ایک مرتبہ بتا دو کہ اس ملک میں کراچی میں رہنے والے تیسرے درجے کے شہری ہیں ۔ کراچی والوں کی گنتی کبھی صحیح نہیں ہوئی ۔ کوئی ادارہ ہماری صحیح گنتی بتانے کو تیار نہیں ہے ۔ آصف زرداری کہتے ہیںکہ ہم تین کروڑ ہیں اور پاکستان کے سرکاری ادارے کہتے ہیں ہم ایک کروڑ 60 ہیں ۔ ہم کتنے ہیں ، ہمیں بتا دو ۔ ہم پاکستان بنانے والوں کی اولادیں ہیں اور پاکستان چلانے والوں کی نسلیں ہیں ، کوئی ہماری صحیح گنتی کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ ہم کدھر جائیں ۔ آج سے چار سال پہلے ہم نے سچ بولنا شروع کیا تو اس شہر میں سچ بولنے کی سزا موت تھی ۔ ہم نے اپنے خاندانوں کی جانوں کوہتھیلی پر رکھ کر پاکستان کی خاطر آئے ۔ ہم نے یہاں آکر بھائی کو بھائی سے ملایا ۔ ہمارے اپنوں نے ہمیں غدار کہا ۔ میں ایم پی اے تھا میں میئر تھا ، میں سینیٹر تھا ۔ میں غدار نہیں تھا ۔ لیکن بہت سی مائیں اپنے بچوں کو اس ٹائم پر دفن کر چکی ہیں ۔ میں آج غدار بھی ہوں لیکن آج کسی ماں کا بیٹااور بہن کا بھائی ضائع نہیں ہوتا ۔ میں ایسی غداری کے لیے ہزاروں مرتبہ مرنے کو تیا رہوں ۔ پاکستانچلانے والوں اب اس شہر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے ۔ اب تمہیں ہمارا فیصلہ کرنا پڑے گا ۔ اس امن کو ہماری کمزوری نہ سمجھو ۔ اس خاموش انقلاب کو سنو ۔ یہ میری ماں بہنوں کی اس موجودگی کو محسوس کرو ۔ یہ میرے بزرگوں کا چل کر آنا محسوس کرو ۔ ان نوجوانوں کا ولولہ محسوس کرو ۔ یہ کوئی سرکاری پارٹی کا جلسہ نہیں ہے ۔ پی ڈی ایم کی سیاسی جماعتوں کے رہنماں کو بلاولبھٹو سے پوچھنا چاہئے تھا کہ تمہارے صوبے میں کتے کے کاٹے سے لوگ مر رہے ہیں ۔ کراچی میں 64 لوگ مر گئے ہیں ۔ ان کو مریم نواز سے پوچھنا چاہئے تھا کہ بی آر ٹی لائن اور گرین بنوا کر گئے اس پر زنگ لگ رہا ہے ۔ ہمارے نصیب میں وہی چنگی رکشے اور پرانی بسیں ہیں ۔ تم زبان کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کر رہے ہو ۔ تم نے کراچی کے سسٹم کو تباہ کر دیا ہے ۔ اس جلسے میںپورے سندھ کے محروم لوگوں نے شرکت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے جلسوںمیں ملک کے اداروں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے ۔ لاپتہ لوگوں کا مسئلہ پورے پاکستان میں ہے ۔ بلوچستان کے جلسے کا منظر دیکھ کر میرا دل دہل گیا ۔ لاپتہ لوگوں کے اہل خانہ کے لیے مشکلات پیدا ہوئیں ۔ مریم نواز آپ نے اپنے والد کے دور میں ان لاپتہ لوگوں کا مسئلہ حل کیوں نہیں کیا ۔ پوائنٹ اسکورنگکرنا بہت آسان ہے ۔ میرے پاس ساڑھے 550 سے زائد لاپتہ لوگوں کی مائیں آئیں ۔ میں نے ان لاپتہ لوگوں کا مقدمہ لڑا ۔ پاکستان کے اداروں کو برا بننے کا کوئی شوق نہیں ہے ۔ ان لاپتہ لوگوں نے کسی کے کہنے پر غلط راستہ اختیار کر لیا تھا ۔ میں نے بہت سے لاپتہ ماں کے بچے بازیاب کرا کے ان کی ماں کے پاس پہنچائے ۔ ہم نے لاپتہ لوگوںکو میڈیا میں خبریں نہیں چلوائیں ۔ ہم پاکستانکی خدمت کرنے آئے ہیں ۔ ان اداروں کو آپ نے پہلے اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا ہے اور اب ان اداروں کو کوئی دوسرا استعمال کر رہا ہے تو آپ ان اداروں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہین ۔ عمران خان آپ حکومت کر رہے ہو الیکشن کمپین نہیں چلا رہے ۔ آپ پاکستان کے حکمران ہیں ۔ آپ جب یہ کہتے ہیں کہ اپوزیشن والے چور ہیں میں ان سے بات نہیں کروں گا ۔ آپ نے جس دن یہ اعلانکیا کہ میں ان سے بات نہیں کروں گا آپ نے اس ملک میں سیاسی بحران پیدا کر دیا ۔ آپ کو آئین کے مطابق اپوزیشن سے مشورہ کرنا ہے ۔ آپ ان سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ اس ملک میں آپ نے سیاسی بحران پیدا کر دیا ہے ۔ آپ نے نواز شریف کے جانے کے بعد ان پر تنقید شروع کر دی ۔ ملک میں مہنگائی کا طوفان ہے ۔ غریب کے لیے دو وقت کی روٹی مشکل ہو گئی ہے ۔ معیشتتباہ ہو گئی ہے ۔ بے روزگاری مسلسل بڑھ رہی ہے ۔ اس ملک کے حکمرانوںکو عوام کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ اس ملک میں معصوم بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا جا رہا ہے ، اس کے ذمہ داران حکمران ہیں ۔ مودی کشمیریوں کا قاتل ہے آپ سے بات کرنے کے لیے تیار ہو لیکن اپنے ملک کی اپوزیشن کی جماعتوں سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہو ۔ کیا یہ اپوزیشن والے ملک کے وفادار نہیںہین۔ یہ جیسی بھی حکومت ہے اور جیسی بھی ہے اپوزیشن ہے ۔ عمران خان جمہوریت کی بات کرتے ہیں لیکن وہ آئین پر عمل نہیں کر رہے ۔ بلدیاتی اداروں کو اختیارات نہیں دیئے جا رہے ۔ بلوچستان میں سرکاری افسروں سے بلدیاتی ادارے چلوائے جا رہے ہیں لیکن بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے جا رہے ۔ جب بلدیاتی اداروں کو اختیارات نہیں ملیں گے لوگوں کی قسمت نہیں بدلے گی ۔ آپ کواختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنا ہوں گے ۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے کہا کہ آ آج مل کر بات کرتے ہیں ۔ جرگہ کرتے ہیں ۔ کن اصولوں پر پاکستان کو چلانا ہے اس کا فیصلہ کرتے ہیں۔ پاکستان کو بچانے کے لیے ایک دوسرے سے مل کر کر بات کرنے کی ابتدا کرتے ہیں ۔ کراچی نے آج بتا دیا ہے کہ وہ پاکستان کو لیڈ کرے گا ۔ کراچی میں صوبائی اسمبلی کی 55 اور قومیاسمبلی کی 40 سیٹیں کرنا ہو گی ۔ اب کراچی والوں کے خلاف سازشیں بند کر دو۔ اب پی ایس پی کراچی والوں کے ساتھ کھڑی ۔ یہاں آنے والے سرکاری ملازمین نہیں ہیں ۔ کراچی پاکستان کو سیاسی طور پر لیڈ کرنے کے لیے تیار ہے ۔ اس نظام سے ملک نہیں چلے گا اس کو ہمیں بدلنا پڑے گا ۔ اس سے پہلے کہ لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے اے حکمرانوں اس ملک میں ریفارمز کرتےہیں ، اپنی عدالتوں ، سرکاری اداروں ، اسپتالوں ، پولیس والوں کا ریفارمز کرتے ہیں ۔ اس ملک میں ریفارمز کرکے نئی شروعات کرتے ہیں ۔ ایک دوسرے کو چور ڈاکو کہنا بند کردو ۔ عمران خان آپ کہتے ہیں کہ میں برطانیہ کے وزیرا عظم سے بات کرکے نواز شریف کو لاں گا ۔ اگر برطانیہ کا وزیر اعظم آپ کا دوست ہے تو اس سے کشمیر کا مسئلہ حل کرا اپنے دوست سے کہو کہ کشمیریوںکے حقوق کا فیصلہ کرے ۔ پاکستان میں آکر صنعتیں لگائیں ۔ آج پاک سرزمین پارٹی کراچی سے نکل کر گلگت بلتستان تک پہنچ گئی ہے ۔ پاکستان کی ساری سیاسی جماعتوں کے رہنما گلگت بلتستان پہنچے ہوئے ہیں ۔ میں گلگت کے عوام سے کہتا ہوں کہ پاک سرزمین پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دیں ۔ ان سیاسی جماعتوں کو ووٹ نہ دیں جنہوں نے آپ کے لیے آج تک کچھ نہیں کیا ۔ میںبہت جلد گلگت بلستان جاں گا ۔ یہ میرا خواب تھا کہ کراچی میں بسنے والی تمام قومیں ایک ہو جائیں ۔ اس پنڈال میں پاکستان کی تمام قومیتوں کی نمائندگی موجود ہے ۔ اس حکمرانوں نے ہمیں بہت لڑا لیا ، آج کراچی ایک ہو گیا ہے ۔ آج کراچی میں رہنے والے سب پی ایس پی کے پرچم کے نیچے آ گئے ہیں ۔ پاک سرزمین پارٹی کے صدر انیس قائم خانی نے باغ جناح میں منعقدہ جلسے کے شرکا سےاپنے خطاب میں کہا کہ کچھ لوگ سازشیں کرتے ہیں ۔ کراچی والوں کا کوئی وارث نہیں ہے ۔ کراچی پر قبضہ کر لو ۔ کراچی کا وارث مصطفی کمال ہے ۔ سندھ حکومت سے کہتے ہیں کہ یہاں کی سڑکیں بنا ، کراچی والوں کو نوکری نہیں ملتی ۔ پیپلز پارٹی والوں کو تنبنہ کرتا ہوں کہ اگر کراچی کو اس کا حق نہیں دیا تو آج یہ جلسہ یہاں جمع ہوا ہے ، اگلی بار سڑکوں پر ہو گا ۔ پی ڈی ایم نے کراچیمیں جلسہ کیا لیکن کراچی والوں کی بات نہیں کی تو اس کے بعد مصطفی کمال نے فیصلہ کیا کہ ہم بھی اسی گرانڈ میں جلسہ کریں گے ۔ 11 جماعتیں ایک طرف اور پی ایس پی ایک ۔ ہمارے لیے یہ گرانڈ بہت چھوٹا ہے ۔ جنرل سیکرٹری پی ایس پی حسان صابر نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کراچی کے لوگوں نے ثابت کر دیا ہے کہ کراچی لاوارث نہیں ہے ۔ اس شہ رکا وارث مصطفی کمالہے ۔ تمام سیاسی جماعتیں اس شہر کو لولی پاپ دے کر چلی گئی ہیں ۔ اس شہر کی معیشت سے اس ملک کا پہہ چلتا ہے ۔ کراچی پورے ملک کو چلا رہا ہے ۔ اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ کراچی والے آج اپنے حق کے لیے جمع ہو گئے ہیں ۔ کراچی والوں کو امداد نہیں ، ان کا حق چاہئے ۔ سینئر وائس چیئرمین اشفاق منگی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نام نہاد سیاست دانوں کوپاکستان اور سندھ کے عوام کے ساتھ ناانصافی نہیں کرنے دیں گے ۔ کراچی سندھ کا دارالحکومت ہے اور آپ پورے سندھ کے ساتھ انصافی کر رہے ہیں ۔ کراچی آج اپنی ضرورتوں سے محروم ہے ۔ کراچی میں پانی ، بجلی اور دیگر چیزوں کا بحران ہے ۔ سندھ حکومت نے کراچی شہر کو تباہ و برباد ک کر دیا ہے ۔ کراچی کو آج کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ آج کراچی کی عوام نے بتا دیا ہے کہ وہمصطفی کمال کے ساتھ ہیں ۔ پی ایس پی کے وائس چیئرمین ارشد وہرا نے اپنے خطاب میں کہا کہ مصطفی کمال کی قیادت میں اس شہر کو ہم بنا کر دکھائیں گے اور صوبے کو بھی ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ وائس چیئرمین پاکستان سرزمین پارٹی شبیر احمد قائمخانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کراچی کے عوام کو جلسہ کامیاب کرنے پرمبارکباد پیش کرتے ہیں۔ آج کا جلسہ اس بات کیگواہی ہے کہ کراچی کے عوام نے مصطفی کمال کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے ۔ وفاقی حکومت نے اپنے ڈھائی سالہ دور میں عوام کے لیے کچھ نہیں کیا ۔ وفاقی حکومت کہتی ہے کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے ۔ اشیائے خورد نوش کی قیمتیں آسمان پر پہنچ چکی ہیں اور یہ عوام کو صرف ایک ہی جملہ بول رہے ہیںکہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے ۔ سندھ کی ایک جماعت روٹی ، کپڑا اور مکان کا نعرہلگاتی ہے ، وہی سندھ کی اصل دشمن ہے ۔ پاک سرزمین پارٹی کے وائس چیئرمین ڈاکٹر حفیظ الدین شیخ نے اپنے خطاب میں کہا کہ تاریخ میں ملک کے ساتھ جو کچھ ہوا اس سے ملک کے عوام پریشان ہیں ۔ پاکستان کی معاشی صورت حال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے ۔ پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں آج بھی اقتدار میں موجود ہیں ۔ مگر امن ، معیشت اور عوام کی حالت زار ڈگرگوںہے ۔ کراچی کا بیٹا مصطفی کمال اس سسٹم کے خلاف حق کا نعرہ بلند کر چکا ہے ۔ پاکستان کا معاشی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے ۔ سندھ کے دارالحکومت کراچی کو تباہ کر دیا گیا ہے ۔ ہم سب مصطفی کمال کے ساتھ مل کر پاکستان کی تقدیر بدلنا چاہتے ہیں ۔ سندھ میں پیپلز پارٹی موروثی سیاست ہے ۔ جوائنٹ سیکرٹری پی ایس پی بلقیس مختار نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 11 جماعتیںایک طرف اور پاک سرزمین پارٹی ایک طرف ہے ۔ صرف ایک جماعت نے باغ جناح بھر دیا ہے ۔ کراچی کو سب سے پہلے اور آخر میں مصطفی کمال نے ہی بنایا ہے ۔ مصطفی کمال کو پاکستان میں بسنے والی ہر قوم کا درد ہے ۔ پاکستان کی تما م سیاسی جماعتیں کراچی سے فائدہ اٹھا رہی ہیں ۔ پیپلز پارٹی 12 سالوں سے ایوانوں میں بیٹھی ہے لیکن کراچی کے لیے کسی نے کچھ نہیں کیا ۔ ہمسب کو مصطفی کمال کا ساتھ دینا ہے ۔ پاک سرزمین پارٹی کے جوائنٹ سیکرٹری عطا اللہ کرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے عوام مہنگائی کی وجہ سے بہت پریشان ہیں ۔ حکمران اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام ہو چکے ہیں ۔ پورے پاکستان کے عواممصطفی کمال کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ کراچی کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ اس نے ایک ایسا بیٹا دیا ، جو پورے پاکستان کی آواز ہے ۔ اب پورے پاکستان میں صرف مصطفی کمال چلے گا ۔ عطا اللہ کرد نے بلوچی عوام سے بلوچ میں بھی خطاب کیا ۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: