لتا منگیشکر کے لیے ہر بار ’ناں‘ کہنے والے موسیقار کی داستان

فلم ساز کی خواہش تھی کہ ان کی تخلیق میں لتا منگیشکر کا بھی گیت ریکارڈ کیا جائے لیکن موسیقار ڈٹ گیا۔ جس نے دو ٹوک لفظوں میں کہہ دیا کہ ’اگر لتا منگیشکر کی آواز میں گانا ریکارڈ کرانے کی خواہش ہے تو پہلی صورت میں کسی اور موسیقار کا انتخاب کرلیں، وہ لتا منگیشکر کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ لتا کی آواز ان کی موسیقی سے مطابقت نہیں رکھتی‘۔

فلم ساز کے چہرے پر حیرت اور تعجب کے آثار نمایاں تھے کیونکہ یہ پچاس اور ساٹھ کی دہائی کا وہ دور تھا جب لتا منگیشکر نے مدھر اور دلوں کے تار چھیڑتی گلوکاری سے اپنی الگ منفرد اور مختلف شناخت بنا لی تھی۔ بھلا کون سا ایسا موسیقار اور گلوکار نہیں ہوگا جو لتا منگیشکر کے ساتھ کام کرنے کا آرزو مند ہو، لیکن یہ موسیقار اپنے فیصلے پر چٹان کی طرح ڈٹا ہوا تھا۔ موسیقار بھی وہ تھا جس نے آر پار، سی آئی ڈی، مسٹر اینڈ مسز ففٹی فائیو، ہاوڑا برج، نیا دور، تم سا نہیں دیکھا، پھگن جیسی فلموں کے گیت کمپوز کر کے خود کو صف اول کے موسیقاروں میں شامل کرا لیا تھا۔ جن کے گانے زبان زد عام تھے۔ ہر کوئی ان کے ساتھ کام کرنا چاہتا تھا۔

فلم ساز نےاب عاجزانہ انداز میں بلکہ التجا کرتے ہوئے موسیقار سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی، موسیقار نے چند لمحے گہری سوچ کے ساتھ اُسے دیکھا، کرسی سے اٹھا اور فلم ساز کے کمرے سے یہ کہتے ہوئے نکل گیا کہ لگتا ہے آپ کو میری بات سمجھ نہیں آئی، آپ کی خواہش کم از کم میرا جیسا انسان پوری نہیں کرسکتا، بہتر ہے کہ موسیقار کوئی اور ڈھونڈ لیں اب۔ یہ سرپھرا، دبنگ اور من موجی موسیقار کوئی اور نہیں امکر پرشاد نیر تھے، جنہیں فلم نگری او پی نیر سے جانتی ہے۔ جو اپنی شرائط پر کام کرتے تھے۔ جنہوں نے کئی ہدایتکاروں سے لتا کو لے کر گیت کمپوز کرنے سے معذرت کرلی تھی۔ جن کے سامنے بڑے بڑے گلوکار اُف تک نہیں کرسکتے تھے۔ جنہوں نے محمد رفیع کے ساتھ ایک سال تک محض اس لیے کام نہیں کیا تھا کیونکہ وہ ریکارڈنگ اسٹوڈیو تاخیر سے پہنچے تھے۔

او پی نیر پچاس کی دہائی میں کسی بھی فلم کے گیت ترتیب دینے کے لیے ایک لاکھ روپے معاوضہ وصول کرتے جو اس دور کا سب سے زیادہ معاوضہ تصور کیا جاتا، جبھی ہر کوئی انہیں ’لکھا موسیقار‘ کہتا۔ جس طرح رقم کے معاملے پر او پی نیر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے اسی طرح اپنی پسند اور ناپسند پر بھی، وہ کسی کے بتائے راستوں کے بجائے اپنے قاعدے اور قانون پر چلنے کے عادی تھے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ لتا منگیشکر کے لیے ہمیشہ ’ناں‘ کرنے والے او پی نیر نے ان کی بہن آشا بھونسلے کے ساتھ سب سے زیادہ گانے ریکارڈ کرائے۔ کسی زمانے میں او پی نیر کی یہ ’مہربانیاں‘ گیتا دت اور شمشاد بیگم کے لیے ہوتی تھیں۔ لیکن آشا بھونسلے کا ساتھ ملتے ہی او پی نیر ان دونوں گلوکاراؤں کو فراموش کر بیٹھے۔

اگر یہ کہا جائے تو غلط بھی نہ ہوگا کہ آشا بھونسلے کو اپنی بہن لتا منگیشکر کے مقابل منجھی ہوئی اور مستند گلوکارہ بنانے میں جس موسیقار کا کردار اہم رہا تو وہ او پی نیر ہی تھے۔

فلم نگری میں تو یہ فسانے بھی عام ہوئے کہ او پی نیر، آشا کی محبت کے قیدی بن گئے ہیں۔ جبھی دونوں کے دل میں پیار کے دیپ ایسے جلے کہ موسیقی کی دنیا میں ناقابل فراموش گیت سننے کو ملے۔ ان میں چاہے ’آیئے مہرباں ہو‘ یا پھر جایے آپ کہاں جائیں گے یا پھر آنکھوں سے اتری ہے جو دل میں، مانگ کے ساتھ تمہارا، یا پھر یہ ریشمی زلفیں ہر گانا محبت کے احساس سے ایسا رچا ہوتا کہ مقبولیت کی ساری حدیں پار کرگیا۔

کیا یہ کم نہیں تھا کہ او پی نیر اور آشا بھونسلے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر برسوں تک ممبئی کے ساحلوں پر گھومتے پھرتے رہے تھے۔ ممکن ہے کہ اس تعلق کو رشتے کا نام مل جاتا اگر ستر کی دہائی میں آشا بھونسلے کی راہول دیو برمن سے ملاقات نہیں ہوتی۔ آشا بھونسلے کو احساس ہوگیا تھا کہ او پی نیر کی مقبولیت کا سورج، موسیقی کے نت نئے رحجان کی زد میں آکر کسی بھی وقت ڈوب سکتا ہے، اسی لیے ان کی منزل پھر راہول دیو برمن بنی۔ اور پھر او پی نیر اور آشا کے درمیان فاصلے بڑھتے ہی چلے گئے۔ او پی نیر بارہا یہ کہتے رہے کہ وہ جس قسم کے شوخ و شنگ گیت ترتیب دیتے ہیں ان کے لیے لتا منگیشکر کی سادگی اور پاکیزگی سے بھری آواز جوڑ نہیں کھاتی، لیکن کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ لتا منگیشکر سے او پی نیر کی یہ دوری ممکن ہے کہ آشا بھونسلے کی کوئی ان دیکھی شرط بھی ہو، کیونکہ ایک زمانے میں دونوں بہنوں کے درمیان پیشہ ورانہ رقابت اپنے عروج پر تھی۔

او پی نیر کو کبھی بھی یہ ملال یا دکھ نہیں رہا کہ انہوں نے لتا منگیشکر کے ساتھ کوئی گانا ریکارڈ نہیں کیا بلکہ نوے کی دہائی میں جب انہیں ’لتا منگیشکر ایوارڈ ‘ کے لیے نامزد کیا گیا تو انہوں نے اسے لینے سے صاف انکار کر دیا۔ او پی نیر کا کہنا تھا کہ پہلی بات تو یہ کہ انہوں نے کبھی لتا کے ساتھ کام نہیں کیا تو وہ اس ایوارڈ کے حقدار نہیں، دوسرے کبھی بھی حیات شخصیات کے نام پر ایوارڈ کا اجرا نہیں ہوتا۔ اپنے اصولوں پر جینے والا یہ بے باک موسیقار کئی بار اپنی مدھر موسیقی پر فلم فئیر ایوارڈ کے لیے نامزد تو ہوا لیکن صرف ایک بار انیس سو اٹھاون میں ’نیا دور‘ کے لیے اس کے حقدار ٹھہرے۔ لاہور میں جنم لینے والے او پی نیر اکیاسی برس کی عمر میں اٹھائیس جنوری دو ہزار سات کو ممبئی میں زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔

%d bloggers like this: