مصباح الحق اور وقار یونس سے ذہنی طور پر ٹارچر کرتے تھے، محمد عامر

مصباح الحق اور وقار یونس سے ذہنی طور پر ٹارچر کرتے تھے، جو میرے لیے مزید برداشت کرنا ممکن نہ تھا، محمد عامر

حال ہی میں انٹرنیشنل کرکٹ سے کنارہ کشی کرنے والے محمد عمر کا لاہور میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مجھے مسلسل چیف سلیکٹر مصباح الحق اور بالنگ کوچ وقاریونس کی جانب سے ذہنی طور پر ٹارچر کیا جاتا رہا ہے جو میرے لئے مزید برداشت کرنا ممکن نہیں تھا، جس کی وجہ سے میں نے دکھی ہو کر کرکٹ کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کیا۔

محمد عامر کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ گزشتہ روز میری وقاریونس سے ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے مجھے کہا کہ میرے کچھ بیانات کی وجہ سے انہیں دکھ پہنچا ہے لیکن مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ انہیں بھی اس چیز کا احساس ہوا ہے کہ کسی کے بیانات کی وجہ سے انہیں بھی تبدیلی ہو سکتی ہے، اسی طرح سے مجھے بھی ان کے بیانات سی تکلیف پہنچتی تھی، لیکن انہیں یہ احساس نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب آسٹریلیا کے ساتھ ختم ہوئی تھی تو ان کی جانب سے کہا جاتا تھا کہ محمد عامر نے دھوکا دیا ہے اور کبھی یہ کہا جاتا تھا کہ میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا ہی نہیں چاہتا ، یہ بیان مجھے ذہنی طور پر ٹارچر کررہے تھے

ہاں یہ بات بھی سچ ہے کہ فٹنس کے مسئلہ کی وجہ سے میری گیند کرانے کی رفتار کم ہوگئی تھی جس کے بارے میں نے انہیں پہلے ہی آگاہ کر چکا تھا، لیکن پھر بھی مجھ پر تنقید کی جاتی رہی۔

محمدعمر نے کہا کہ ان لوگوں کی جانب سے صبر کی بات کی جاتی ہے لیکن یہ مجھ سے زیادہ صبر کسی نے نہیں کیا ہوگا کیونکہ میں نے 5 سال تک کرکٹ میں واپسی کے لیے انتظار کیا ہے اور یہ انتظار میرے لئے بہت مشکل وقت بھی تھا جس دوران میں گیند کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا تھا، پابندی کے پانچ سالوں کے دوران میں نے ہمت نہیں ہاری تو اب کیسے ہمت ہار دیتا جب میں کرکٹ میں واپس آ چکا تھا، کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ایک ہی بار پرفارم کرتے ہیں تو انہیں ٹیم میں شامل کر لیا جاتا ہے پھر چاہے وہ کچھ بھی نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ چیف سلیکٹر مصباح الحق نے میری گیند کرانے کی سپیڈ پر بھی اعتراض کیا تھا، جس کی بنیادی وجہ میری فٹنس تھی، لیکن جب میں مکمل فٹ ہوکر بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں 21 وکٹیں لے چکا تھا اور اس دوران میں نے 145 فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی گیند پھینکی تھی لیکن پھر بھی مجھے ٹیم میں سے ڈراپ کر دیا گیا جو میرے لئے بہت دکھ اور صدمے کی بات تھی۔ مجھے اپنے اوپر پورا یقین ہے کہ میں ابھی بھی کم بیک کر سکتا ہوں۔

محمد عامر کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنٹرل کنٹریکٹ پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پہلے مجھے یہ کہہ کر سینٹرل کنٹریکٹ میں سے باہر نکال دیا گیا کہ تینوں فارمیٹس میں کھیلنے والوں کو سینٹرل کنٹریکٹ میں رکھا جائے گا، لیکن پھر ایک ایک فارمیٹ والوں کو بھی سینٹرل کنٹریکٹ دے دیا گیا، میں تب بھی نہیں بولا چپ رہا۔

فاسٹ باولر محمد عامر نے مزید کہا کہ مجھے یہ کہا گیا کہ غیرملکی ٹور پر اس کو لے کر جایا جائے گا جو ٹیم کو تینوں فارمیٹ سے میں دستیاب ہوگا، اس پر بھی میں کچھ نہ بولا کر چپ رہا، لیکن جب میں پرفارمنس دینے کیلئے لیگ کھیلنے کے لیے گیا تو کہا گیا کہ محمد عامر ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا نہیں چاہتا بلکہ وہ لیگ کھیلنا چاہتا ہے، جس کی وجہ سے اسے ٹور پر ساتھ نہیں لے جایا گیا۔

The post مصباح الحق اور وقار یونس سے ذہنی طور پر ٹارچر کرتے تھے، محمد عامر appeared first on Siasat.pk Urdu News – Latest Pakistani News around the clock.

%d bloggers like this: