موسمیاتی تبدیلیاں،شہری منصوبہ بندی اور شاداب ملیرکا مستقبل: ‘ہمارے ملک میں ترقیاتی منصوبے صرف معاشی لحاظ سے ناپے جاتے ہیں’

دنیا بھر میں زمین کے استعمال اور تزئین کےطریقوں کے تیزی سے تبدیل ہونے کے ساتھ ہی شہری منصوبہ بندی اور اس سے متعلقہ آگاہی کے  ذرائع اب پیچیدہ سے پیچیدہ ہوگئے ہیں ، خاص طور پر آب و ہوا میں تبدیلی  اور اس کے بارے میں ارتقائی بصیرت کے ذریعہ سے زمین کے استعمال کو  شہری منصوبہ بندی سے جوڑا جارہا ہے-تاہم  پاکستان میں اب بھی یہ روابط منقطع ہیں اور ترقیاتی عمل  کو آب و ہوا اور ماحولیاتی تبدیلیوں  اور اس کے اثرات سے علیحدہ دیکھا جاتا ہے -خاص طور پر کراچی جیسے بڑے شہر میں جہاں مختلف ادوار میں  پانچ ماسٹر پلان بنائے گئے  لیکن ان  میں سے ایک کا بھی اطلاق نہ ہوسکا۔    ویسے بھی ہمارے ملک میں ترقیاتی منصوبوں کے اثرات اکثر معاشی لحاظ سے ناپے جاتے ہیں  جس میں ماحولیات ، حیاتیاتی تنوع ، زمینی استعمال  اور غذائی  نظام  کو تصور نہیں کیا جاتا  جسکے سبب ہم  اس ترقیاتی عمل کے دوران  شہر کی ثقافت ، تاریخ اور شہریوں کے طرز زندگی، روزگار اور رہائش  جیسی متعدد متغیرات کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور اس کے طویل المیعاد   اثرات مرتب ہوتے ہیں۔  کراچی  میں غیر منظم و بے ترتیب  ترقیاتی کاوشیں  اور منصوبے جن میں بنیادی طور پر شہری منصوبہ بندی کے مروجہ طریقوں کو مد نظر نہیں رکھا جاتا   وہ شہری اکثریت  بالخصوص پسماندہ طبقات کے معیار زندگی پربدترین  اثرت ڈالتے ہیں۔

ماضی کے ناکام منصوبوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے ہمیشہ  پچھلی خامیوں کو سامنے رکھتے ہوئے مستقبل  کی منصوبہ بندی  کی جاتی ہے-  اسی شہر کراچی  میں   بیشتر منصوبے ناکامی سے دو چار ہوئے  جیسا کہ لیاری ایکسپریس وے کے منصوبے میں ہوا کہ جس کا مقصد یہ تھا کہ  بھاری ذرائع نقل وحمل کو  ایک علیحدہ راہداری فراہم کی جاسکے مگر  اس کی تعمیر کے مکمل ہونے کے بعد اس پر  بھاری ذرائع نقل وحمل کی پابندی لگادی گئی اور   نہ صرف شہر کے سنگ و خشت میں اضافہ کیا بلکہ  ستتر ہزار خاندانوں کو ان کی رہائش اور روزگار سے بے دخل  بھی کیا-جس میں سے کچھ خاندان  سموں گوٹھ ملیر میں جاکر آباد ہوگئے تھے  مگر  اب ایک نئے ترقیاتی منصوبے ملیر ایکسپریس وے کی بدولت وہ ایک بار پھر بے دخلی کے خطرے سے دوچار ہیں  یہاں بات صرف بے دخلی تک محدود نہیں بلکہ سنجیدہ حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ  ملیر ایکسپریس وے منصوبہ  ٹریفک کے مسئلے کا حل ہے یا پھر  ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنے گا؟

سندھ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 39 کلو میٹر طویل ملیر ایکسپریس وے کا بڑا حصہ شہر کے اُس مقام پر تعمیر ہو گا جو ہریالی سے بھرپور اور  زرعی پیداوار کی فراہمی  کے ساتھ شہر کے  ماحول کو معتدل رکھنے میں کلیدی کردار بھی ادا کرتا ہے۔ماحولیات کے  ماہرین کا کہنا ہے کہ سبزے کی جگہ سنگ و خشت نے لی تو کراچی کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہو گا۔ ماحولیاتی اعتبار سے دیکھیں تو ملیر کراچی کا آکسیجن حب ہے ساتھ ہی  ملیر کی زرخیز مٹی ، میٹھا پانی ، منفرد ذائقہ دار پھلوں اور سبزیوں کی ساکھ سے انکار ناممکن  ہے۔

عمومی طور پر پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں اور شہری منصوبہ بندی سے متعلق روابط اور انسانی  زندگیوں پر پڑنے والے اثرات سے لے کر  دیگرعوامل  پر غور کرنے کا فقدان  نظر آتا ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کو دنیا بھر میں ایک بڑے چیلنج کے طور پر دیکھا جارہا ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے اور ماحول کی حفاظت کے لئے بڑے پیمانے پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں لیکن پاکستان میں اجتماعی سوچ کی کمی کی وجہ سے  ایسا کچھ نظر نہیں آتا اور  موسمیاتی تبدیلی کے پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے  شہری منصوبہ بندی کی  بدولت ہم اپنے ہاتھوں سے ماحول کو تباہ کرنے پر تلے ہیں –کچھ ایسی ہی صورتحال  ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر میں نظر آرہی ہے کہ  یہ منصوبہ  سبزے ، درختوں ، کھلی جگہوں ، زرعی اراضی کو کم کرنے اور پہلے سے ہی بھاری تعمیر شدہ شہر میں بجری اور سیمنٹ میں اضافےکے مترادف ہے جس کے نتیجے میں شہر میں گرمی کی لہر ، خوراک کی قلت جیسے خراب موسمی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

شہر کے لئے تجویز کردہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو آب و ہوا کی تبدیلی اور ماحولیات کے بنیادی خدشات پر غور کرنا چاہئے ، خاص طور پر گرمی ، کھلی جگہوں کے ساتھ ساتھ غذائی اجناس کی حفاظت کے حوالے سے ان پر توجہ ضروری ہے۔ عوامی نقل و حمل  کے ساتھ ساتھ ماحول دوست فن تعمیر اور کھلیان لازمی پہلو ہیں جن کو زیادہ تر ترقیاتی منصوبوں میں نظرانداز کیا جاتا ہےجیسا کہ ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر میں دیکھا جا سکتاہے۔ کراچی کے لوگ پہلے ہی شدید موسمی واقعات ، شدید گرمی کی لہر، خشک سالی ، شہری سیلاب اور جبری بے دخلی سے دوچار ہیں اور  وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صورتحال کے  مزید خراب ہونے کا امکان ہے۔ اس کے ساتھ ہی دریائے سندھ ڈیلٹا کے ساتھ  سمندر کی سطح میں اضافے کا مشاہدہ کیا جارہا ہے۔ جس کی بدولت  اکثر خاندان  اپنے آبائی علاقوں سے  کراچی ہجرت کرنے پر مجبور ہیں اس صورتحال میں  یہ  شہر دوسرے علاقوں سے آئے ہوئے   ماحولیاتی پناہ گزینوں کے لئے ایک مرکز کا کام کرتا ہے-

ان ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ قومی اور صوبائی موسمیاتی تبدیلی کے عملی منصوبوں کے مطابق کوئی بھی دستاویز  اور اس پرعمل درآمد نہیں ہے۔ اگرچہ  پاکستان اقوام متحدہ کے ایجنڈا 2030 (پائیدار ترقیاتی اہدافSDGs-) ، اور پیرس آب و ہوا کے معاہدے پر دستخط کنندہ ہے ،جو  اس طرح کی صورتحال کو حل کرنے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔  اسی طرح پاکستان  ماحولیاتی حفاظتی قانون  1997  موجود ہے جس کے مطابق  تمام بڑے منصوبوں کے بارے میں عوامی مشاورت کی ضرورت ہے  مگر اکثر اوقات تو ان منصوبوں کی جائزہ رپورٹ تک کو عوام کے سامنے نہیں لایا جاتا  جیسا کہ   ملیر ایکسپریس وے  منصوبے میں نظر آتا ہے۔ ایک طرف حکومت پائیدار ترقیاتی اہدافSDGs-اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے موافقت پر توجہ مرکوزکر رہی ہے جبکہ دوسری جانب  ملیر ایکسپریس وے جیسے ترقیاتی منصوبوں میں اور  مقامی اور علاقائی منصوبہ بندی میں پائیدار ترقیاتی اہدافSDGs-اور ماحولیاتی تبدیلیوں کو حکومتی حکام نے بالکل نظرانداز کیا۔

یہاں سب کچھ ترقی کے نام پر کیا جاتا ہے ، ہمارے خیال میں شہر میں بجری اور سیمنٹ کا اضافہ ترقی ہے جبکہ حقیقتا ایسا نہیں۔ ہم یہ نہیں سوچ رہے ہیں کہ شہر اور اس کے شہریوں کو کیا ضرورت ہے؟  یہاں ترقیاتی منصوبوں کی  نشاندہی  شہریوں کی ضروریات کی بنیاد  پر نہیں کی جاتی بلکہ اکثر منصوبے  بغیر کسی تکنیکی تشخیص اور ماہرین کی رائے کے  صرف ٹھیکیداروں کےمفاد  کے لئے  شروع کیے جاتے ہیں۔حتیٰ کہ حکومت کے تجویز کردہ منصوبے سے پہلے عوامی اور مقامی متعلقین کے ساتھ جمہوری مشاورت کا کوئی تصور نہیں ہے۔

ہمیں شہری منصوبہ بندی کی مضبوط حکمت عملی اور اس پر عمل درآمد  کی ضرورت ہے-تاریخ شاہد ہے  کہ  سرسبزوشاداب ملیر کی رگوں سے ریت اور بجری کی شکل میں خون نچوڑ کر شہر کراچی کو فلک بوس عمارتوں سے سجایا گیا ہےجس کے نتیجے میں  بڑے پیمانے پر ریت اور بجری کے اخراج سے زیرزمین میٹھے پانی کے ذخائر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا اور میٹھے پانی کی سطح مسلسل گرتی رہی۔ دوسری طرف ٹھیکیداروں جیسے کہ بحریہ ٹاؤن اور دیگر  متعدد رہائشی منصوبوں نے شاداب ملیر کو مسمار کرکے سنگ و خشت میں تبدیل کردیا ہے۔ اس کے بعد بھی ایک بار پھر ملیر ایکسپریس وے منصوبے کے ذریعے  ملیر میں باقی باغات ، ہریالی اور زرعی اراضی کو تباہ کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔

موجودہ صورتحال میں شہر خراب شہری منصوبہ بندی کے ساتھ خودکارطور  پر چل رہا ہے- ضرورت اس امر کی ہے کہ شہری منصوبہ بندی میں پائے جانے والی  خامیوں کو دور کیا جائے اور اشتراکی  منصوبہ بندی کی جانب قدم بڑھایا جائے تاکہ عوام کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے   ترقیاتی منصوبے بنائے جائیں کیونکہ شہر کی ترقی بجری اور سیمینٹ میں اضافے کے سبب نہیں بلکہ لوگوں  کی ترقی کی بدولت ہے – اگر ہم بہتری چاہتے ہیں تو اس کی کچھ فوری ضرورتیں  ہیں جیسے تمام تر ترقیاتی منصوبوں میں عوامی مشاورت ، خاص طور پر وہ جن کا  عوام پر براہ راست   اثر پڑتا ہو-  نیز علاقائی اور نچلی سطح کے منصوبوں پر نظر ثانی کرنا جس  میں  حکومتی عہدیداران ، شہری منصوبہ ساز ، معمار اور دوسرے ماہرین سے لے کر کمیونٹی کی شرکت بھی لازمی ہونی چاہئے۔

بڑے سے چھوٹے منصوبے کے ڈیزائن تحقیق پر مبنی ہونے چاہئیں اور متعلقین / کمیونٹی کی مشاورت کے بغیر اس کو حتمی شکل نہیں دی جانی چاہئے۔ مقصد یہ ہونا چاہئے کہ ان ترقیاتی منصوبوں کو محلوں کی سطح کی  منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جاسکے۔ مختلف متعلقین اور محکموں کے ساتھ ہم آہنگی کے بغیر منصوبے  شہر کے لئے ایک تباہی کے سوا کچھ نہیں۔منصوبوں ، پالیسیوں اور منصوبوں کے نفاذ کے سلسلے میں صحیح سمت بھی ضروری ہے کیونکہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ماضی میں متعدد پالیسیاں اور منصوبے بنائے گئے تھے لیکن ان پر عمل درآمد نہ ہوسکا یا غلط طریقے سے عمل درآمد  ہوا۔

آخرمیں، میں محترمہ سیما لیاقت صاحبہ کا مشکور ہوں جو میری تحاریر میں اردوقواعدوضوابط پر نظر ثانی کرتی ہیں.

اربن پلانر، ریسرچر کراچی اربن لیب آئی بی اے

%d bloggers like this: