مولانا فضل الرحمان نے کرم ایجنسی اور ڈسکہ میں الیکشن نتائج ماننے سے انکار کر دیا

پشاور( آن لائن)پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کے انتخابی حلقے کرم ایجنسی اور ڈسکہ میں دھاندلی کے ذریعے نتائج تبدیل کیے گئے جو کسی قیمت پر قابل قبول نہیں، ایسے کوئی شواہد نہیں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہے، 2018 الیکشن کے بارے میں جو موقف ہے اس پر قائم ہیں۔پشاور میں میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نتائج روکے ہوئے ہیں اور اس پر انہیں حقیقت پسندانہ انداز کے ساتھ اپنا فیصلہ صادر کرنا چاہیے اور اس الیکشن کو منسوخ کردینا چاہیے الیکشن سے قبل ہی

کرم ایجنسی میں 600 جعلی ووٹ پوسٹل ووٹ پکڑے گئے اور وہ ثابت ہوچکے ہیں، اس کے بعد پی ٹی آئی کے امیدوار کو نا اہل قرار دینے کے بجائے انہیں انتخاب میں حصہ لینے دیا گیا اور تیسرے نمبر پر آنے والے کو پہلے نمبر پر لایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ واضح طور پر دھاندلی ہوئی ہے اور موقع پر موجود پولنگ افسر یا تو اس میں ملوث ہیں یا بے بس، ہم انتخاب کے نتائج کو تسلیم نہیں کرسکتے الیکشن کمیشن نے نوٹس لینے کے بجائے ضمنی انتخاب کے نتائج روکے ہوئے ہیں، الیکشن کمیشن کو اپنا فیصلہ سنانا چاہیے، دھاندلی دھاندلی ہے جس سطح پر بھی ہو، الیکشن کمیشن کو چاہئے کہ وہ دونوں حلقوں میں دوبارہ انتخاب کرائے۔سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں خفیہ ووٹنگ کے حوالے سے ججز کے ریمارکس میں آئین سے متعلق کہا گیا کہ آئین خاموش ہے، جس جگہ آئین خاموش ہو وہاں پارلیمنٹ تشریح کرتی ہے، عدالت کو خود کوفریق نہیں بنانا چاہیے، ایسے کوئی شواہد نہیں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہے، 2018 الیکشن کے بارے میں جو موقف ہے اس پر قائم ہیں، پی ڈی ایم کا انتخابی اتحاد کےحوالے سے کہنا قبل ازوقت ہے، سینٹ الیکشن میں حکومت کے لئے سرپرائز یہی ہوگا کہ ہم کامیاب ہوں گے، سینٹ الیکشن کا اسلام آباد سے مارچ سے کوئی تعلق نہیں، طے شدہ فارمولے کے تحت 26 مارچ کو قافلے اسلام آباد کی طرف جائیں گے۔ انہوںنے مزید کہاکہ جنوبی وزیرستان میں قبائلی جنگ جاری ہے، خونریزی ہورہی ہے جس میں 5افراد ہلاک ہوچکے ہیں قومی اسمبلی اور اس میں مزید اضافے کا خطرہ ہے وہاں موجود انتظامیہ یا تو بے بس ہے یا سمجھتی ہے کہ قبائل آپس میں لڑے تاکہ ہمیں جن علاقوں پر جنگ ہے اس پر قبضہ کرنے کا موقع مل سکے ۔ ایک سول کے جواب میں انہوںنے کہاکہ جمعیت علما اسلام (ف) فاٹا کے امیر کو ہدایت دوں گا کہ تمام قبائل کا جرگہ بلایا جائے اور مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں فاٹا کے انضمام کے بعد وہاں نہ کوئی پرانا قانون ہے اور نہکسی نئے قانون کی عمل داری، وہاں کے لوگ پریشان زندگی گزار رہے ہیں قبائل میں جب زمینوں کی تقسیم ہوگی تو گھر گھر پر لڑائی ہوں گی اور خونریزی ہوگی۔ وہاں کی خصوصی حیثیت کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں ایک رٹ دائر کی گئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ آئین کے خلاف قدم اٹھایا گیا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پر باقاعدہ سماعت کا جلد آغاز کیا جانا چاہیے تاکہ اس مسئلے کا عدالتی حل سامنے آسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں