مولانا فضل الرحمان کا بھی نمبر لگ گیا چیئرمین نیب نے بڑا حکم جاری کر دیا

اسلام آباد (این این آئی) چیئر مین نیب نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ، امیر مقام ، کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر و دیگر کے خلاف تما م انکوائریاں انویسٹگیشنز قانون کے مطابق آزادانہ،منصفانہ، شفافیت،میرٹ اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پرمکمل کر نے کی ہدایت کی ہے ۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کیزیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام آبادمیں منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل اکاؤ نٹبلٹی نیب،ڈی جی آپریشن نیب، ڈی جی نیب خیبر پختونخوا نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت

کی۔ نیب کی یہ دیرینہ پالیسی ہے کہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بارے میں تفصیلات عوام کو فراہم کی جائیں جو طریقہ گزشتہ کئی سالوں سے رائج ہے جس کا مقصد کسی کی دل آزاری مقصود نہیں، تمام انکوائریاں اورانویسٹی گیشنز مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں جوحتمی نہیں،نیب قانو ن کے مطابق تمام متعلقہ افراد سے بھی ان کا موقف معلوم کر نے کے بعد مزید کاروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں مالم جبہ سوات کیس میں معزز پشاور ہائیکورٹ کے فیصلہ کی مصدقہ نقول کی روشنی میں قانون کے مطابق کیس پر کارروائی کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں آفیسرز/آفیشلزآف بنک آف خیبر پشاور اور دیگر کے خلاف قواعد و ضوابط کی مبینہ طور پر خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پربھرتیاں کرنے کے الزام میں انوسٹی گیشن کی منظوری دی گئی۔اس کے علاوہ انجینئر امیر مقام،مولانا فضل الرحمان، کیپٹن ریٹائرڈمحمد صفدراورشیراعظم وزیر کے خلاف مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں انکوائریوں اوربلین ٹری سونامی کیس،نوابزادہ محمود زیب ودیگر،عثمان سیف اللہ اور دیگر کے خلاف جاری انویسٹگیشنز پر اب تک کیپیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تما م انکوائریاں انویسٹگیشنز قانون کے مطابق آزادانہ،منصفانہ، شفافیت،میرٹ اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پرمکمل کی جائیں اور متعلقہ تمام افراد سے قانو ن کے مطابق ان کا موقف حاصل کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کئے جا سکیں۔ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب ملک سے بدعنوانی کےخاتمہ اور کرپشن فری پاکستان کے لئے انتہائی سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے کیونکہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی نہ صرف اولین ترجیح ہے بلکہ اس کیلئے تمام وسائل بروئے کارلائے جا رہے ہیں۔نیب نے احتساب سب کیلئے کی پالیسی کے تحت 466 ارب روپے بلواسطہ اور بلا واسطہ طور پر بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے جو ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الا قوامی اداروں نے سراہا ہے جو نیب کیلئے اعزازکی بات ہے۔نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت،گروہ اور فرد سے نہیں بلکہ صرف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مفرور اور اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لئے قانو ن کے مطابق اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ بدعنوان عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکے جہاں قانون اپناراستہ خودبنائے گا۔ چیئرمین نیب نے ہدایت کی کہ شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز مقررہ وقت کے اندر قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچائی جائیں اور تمام انوسٹی گیشن آفیسرز اور پراسیکوٹرز پوری تیاری، ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق معزز عدالتوں میں نیب کے مقدمات کی پیروی کریں تاکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جاسکے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: