مولانا فضل الرحمان کے قافلے میں مدارس کے150 حفظ کرنے والے بچوں پر مشتمل 13 گاڑیاں ،آج جلسے میں جانے سے قبل مسجد میں 2 گھنٹے بیٹھ کر دوسرے مدارس سے کیامدد مانگتے رہے؟ پول کھول دینے والی خبر

لاہور(ویب ڈیسک) معاون خصوصی سیاسی روابط شہباز گل نے کہا ہے کہ ایک اورلطیفہ ہوگیا، مولانا فضل الرحمان قافلے میں مدارس کے150 حفظ کرنے والے بچے ہیں، قافلے میں13 گاڑیاں ہیں، مولانا مسجد میں 2 گھنٹے بیٹھ کر دوسرے مدارس سے مدد مانگتے رہے۔ انہوں نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ایک اورلطیفہ ہوگیا۔



مولانا فضل جن پر تکیہ تھا۔ان کے قافلے میں ٹوٹل 4 مزدے جس میں 150 حفظ کرنے والے مدرسے کے بچے اور 13 گاڑیاں۔ مولانا دو گھنٹے اضافی مسجد میں بیٹھے رہے اور دوسرے مدارس سے مدد مانگتے رہے۔ انکار ہونے پر اسی تنخواہ پر چل پڑے۔ اسی طرح شہبازگل نے سینئر صحافی حامد میر پر بھی تنقید کی۔ میرٹ پر بات کرنے پر شہباز گل کو اچھا نہیں لگا انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حامد میر صاحب فرما رہے ہیں جلسہ گاہ میں پچاس ہزار لوگ موجود ہیں۔اور لوگ ڈبل ٹریل ہو جائیں گے۔ لگتا ہے آج میر صاحب نے باجی کے ہاتھ کی چائے پی لی ہے۔ شہباز گل نے مزید کہا کہ میں تو پانچ یا چھ کا اندازہ لگا کہ بیٹھا تھا۔ بڑی بات ہے اگر چالیس گاڑیاں ہو گئی ہیں۔ بلاول کے ساتھ پنجاب میں، کافی پاپولیریٹی گین کرلی ہے۔ شہبازگل نے حامد میر پر اس لیے تنقید کی ہے کہ سینئر تجزیہ کار حامد میر نے وزیراطلاعات شبلی فراز کے چیلنج پر کہا کہ جلسہ گاہ کا اسٹیج بالکل وہاں بنایا گیا جہاں سے گراؤنڈ شروع ہوتا ہے،عمران خان کا گوجرانوالہ اسٹیڈیم میں جلسے کے دوران اسٹیج بالکل اسی جگہ بنایا گیا تھا، جہاں پر آج اسٹیج بنایا گیا ہے، عمران خان اور آج کے جلسے میں فرق یہ ہے کہ تحریک انصاف کے جلسے میں اتنے لوگ موجود نہیں تھے۔عمران خان کے جلسے میں قیادت نے تقریریں شروع کردی تھیں لیکن آج کے جلسے میں ابھی تک قیادت نہیں پہنچ سکی۔ یہاں پر مسلم لیگ ن کے ساتھ پیپلزپارٹی، جے یوآئی ف اور دوسری جماعتوں کے بھی جھنڈے نظر آرہے ہیں۔یہاں پر اگر مسلم لیگ ن کا جلسہ ہوتا تو شاید اتنی عوام نہ ہوتی لیکن پی ڈی ایم کا مشترکہ جلسہ ہے اس لیے کراؤڈ بہت زیاد ہے ، یہاں جلسے میں کورونا ایس اوپیز کا خیال نہیں رکھا جا رہا، کم لوگوں نے ماسک پہنیں ہوئے ہیں، انہوں نے ماسک جیبوں میں ڈالے ہوئے ہیں۔کارکنان اور رہنماؤں سے پوچھا تو کہتے ماسک پہن کر ہم نعرے کیسے لگائیں گے، ایک کارکن نے کہا کہ حکومت نے کنٹینر لگا کر معاہدہ توڑ دیا ہے تو ہم کیوں ان کی بات پر قائم رہیں۔حامد میر نے بتایا کہ اگر حکومت کنٹینر کھڑے نہ کرتی تو شاید اتنے لوگ نہ ہوتے۔







%d bloggers like this: