نواز شریف بچوں اور اپنی جان بچا کر لندن میں بیٹھ گئے،جب بات نہ بنی تو اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی، لیگی رہنما ہی قائد کے خلاف بول پڑے

لاہور (آن لائن)مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی مولانا غیاث الدین نے کہا ہے کہ اس وقت سیاسی جماعتوں نے انتشار کی سیاست کا آغاز کررکھاہے،کچھ جماعتوں نے ملکی سلامتی کے اداروں سے متعلق شکوک و شہبات پیدا کرکے غلط مقاصد کا ذریعہ بنایاہے،گزشتہ کچھ عرصہ سے ملک کی سیاسی جماعتیں اپنے مقاصد حاصل کیلئے دست و گریباں ہوتی تھیں لیکن آج اکٹھے ہوکر ملککے عوام کے اندر اپنے غلط مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے جلسے کررہی ہیں۔ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ جماعتیں عوام میں انتشار پیدا کرنے کیلئے سلامتی کے اداروں

پر حملہ آور ہیں، سلامتی کے ادارے ملکی بقا ء کی علامت ہیں لیکن یہ ان کے خلاف زہر اگل رہے ہیں، سابق سپیکر ایاز صادق سلامتی اداروں کے خلاف زہر افشانی کررہے ہیں،سلامتی کے اداروں کی بنیاد پر جو وزیر اعظم بنے،سلامتی کے ادارے کے بل اور آرمی چیف کی مدت معیاد میں ووٹ دیا وہ آج عجیب زبان استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حلقے عوام کیلئے وزیر اعظم اور وزیر اعلی سے ملاقات کو پارٹی ضابطہ اخلاق قرار دیا گیا،ہم نے آج تک پارٹی کے خلاف ووٹ نہیں دیا، کسی سے ملاقات ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ قائدین نے مقاصد حاصل کرنے کیلئے غلط راستہ اختیار کیا، کچھ پرندوں کی پرواز کو روکنے کیلئے شوکاز نوٹس دیا گیا مزید کارروائی کوئی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ شہبازشریف پنجاب کے سربراہ رہے لاہور میں زرداری کا پیٹ پھاڑ کر سڑکوں پر گھسیٹنے کی بات کی اب ساتھ مل گئے ہیں،سلامتی کے اداروں نے دہشت گردی کا خاتمہ کیا، بھارتی دہشت گردی کے خلاف جانوں کے نذرانہ کر ملک کاتحفظ کیا،مسلم لیگ (ن)کے نام نہاد سربراہ اور ایاز صادق کو کہنا چاہتا ہوں ملک کو غیر مستحکم کرنے کے بیانات نہ دیں،نوازشریف خود پاکستان میںرہتے نہیں بچوں اور اپنی جان بچا کر لندن میں بیٹھ گئے،جب بات نہ بنی تو اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی۔ انہوں نے کہا کہ صاحبزادی مریم بھی لندن جانا چاہتی تھیں، میرے پاپا کہتے ہیں سینہ تان کر نکلو مجھے اس بیان سے خود شرم آتی ہے،نواز شریف کسی کی پشت پناہی سے بیانات دے رہے ہیں،نوازشریف کے بیانات سے لگ رہا ہے وہ بھارتی اور یہودی ایجنڈا پر عمل پیراہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے نانا، نانی اورنانی سمیت پورا گھر قیام پاکستان کے وقت شہید ہو گئے،آج اگر کوئی وزیر اعظم یا فوج کاسربراہ ہے تو ملک کی وجہ سے ہے،کہیں ملک غیر مستحکم ہو گیا تو بھارتی ایجنڈا پورا نہ ہو جائے۔انہوں نے کاہ کہ کتنے پرندے پرواز کو تیار ہیں ان کا نام نہیں لے سکتا،شرقپوری صاحب کے ساتھ جنہوں نے ناروا سلوک کیا وہ سب خوشامد کرنے والے ہیں،ابھی بھی مسلم لیگ میں ہوں،انہوں نے گھر میں عہدے تقسیم کر لئے ہیں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: