نواز شریف کو پاکستان واپس لانے کیلئے برطانیہ سے تعاون مانگ لیا گیا

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر اطلاعا ت و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے سابق وزیر اعظم نوازشریف کو پاکستان واپس کیلئے برطانیہ سے تعاون مانگتے ہوئے کہاہے کہ برطانیہ کے ساتھ ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ نہیں برطانیہ کو چاہیے ہمارے ساتھ تعاون کرے اور پاکستان کے مفرور ملزم کو یہاں بھیجے،ان کو جسٹس قیوم جیسے ججز چاہئیں، یہ جان لیں این آر او نہیں ملے گا،ملک لوٹنے
والوں کو ہم جیل میں ڈالیں گے، شہباز شریف بھی ٹی ٹی کی وجہ سے جیل میں ہیں،ملک میں مہنگائی اور بجلی گیس کی زائد قیمتوں کا ذمہ دار سابق حکومت

ہے،اگر عوام مشکل میں ہیں تو حکومت بھی کوئی عیاشی نہیں کررہی ہے۔اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن)ے ترجمان بڑے وثوق اور سے عوام کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں۔۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ عوام کے سامنے ایک ایسا بیانیہ پیش کیا جارہا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن خصوصا مسلم لیگ نون پاکستان میں صرف اقتدار کی خاطر آتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن)نے لوٹ مار اور کرپشن کے سوا اس ملک میں کچھ نہیں کیا۔انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن)ہمارے لئے بارودی سرنگیں بچھا کے گئی تھی۔انہوں نے کہاکہ ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طور پر کم رکھا گیا۔وفاقی وزیر نے کہاکہ گزشتہ حکومت ن شدید مالی مسائل وراثت میں چھوڑے۔انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن)کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے انڈسٹری کو شدید نقصان ہوا۔انہوں نے کہاکہ (ن)لیگ 5 سال میں اپنی برآمدات کو بڑا نہ سکیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ شاہد خاقان عباسی نے اسحاق ڈار کو اپنے طیارے میں فرار کروایاانہوں نے عوام کے ساتھ دشمنی کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔وفاقی وزیر نے کہاکہ لیگی ارکان روز پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے
کہاکہ اسحاق ڈار نے 23 ارب ڈالر سٹیٹ بنک میں رکھ کر ڈالر کو مصنوعی طور پر پر روکے رکھا۔انہوں نے کہاکہ حکومت ملی تو بیس ارب ڈالر کا خسارہ ساتھ ملا۔انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت 20 ارب ڈالر کو کو مثبت پر لے آئی ہے۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ٹارگٹ سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا،حکومت نے اس بار حدف سے زیادہ ٹیکس
اکٹھا کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ پاکستان کی ایکسپورٹس بڑھی ہیں غیر ملکی ترسیلات زر میں بھی اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہاکہ ٹیکسز ایک کھرب سے ذیادہ اکٹھے کئے جو حدف سے ذیادہ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پیڑول کی قیمت عالمی قیمتوں کے ساتھ منسلک ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بجلی مہنگی ہونے کی بنیادی وجہ نواز شریف حکومت کے معاہدے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بجلی کے مہنگے
معاہدے کئے گئے، انہوں نے کہاکہ رینوایبل انرجی کے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک کیا گیا۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ ایسے معاہدے کئے گئے جس میں بجلی استعمال کریں یا نہ کریں کمپنیوں کو ادائیگی کرنا لازم ہے،ایسے میں باندھا گیا جس میں پوری قوم کے مستقبل کو گروی رکھ دیا گیا۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ ماضی کے منصوبوں کی وجہ سے بجلی مہنگی ہوئی ہے۔ وزیر اطلاعات نے
کہاکہ پٹرول کی قیمت بین الاقوامی مارکیٹ کے مطابق ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ نواز شریف کی حکومت نے بجلی کے شعبے میں مہنگے کنٹریکٹ کیے۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ پیسے جمع کرنا بھی ایک بیماری ہے۔ شبلی فراز نے کہاکہ مسلم لیگ (ن)کی لیڈرشپ نے اپنی دولت کو بڑھاوا دیا اور ملک کو غریب کیا،ملک کے مسائل انھیں کی مرہون منت ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ شاہد
خاقان اکانومی کے سکرات ہیں،ایل این جی کا مہنگا معاہدہ کرکے ملک کو ایک اور مشکل میں ڈالا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ مہنگے معاہدے کرکے ملک کو مشکل میں ڈال دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے گیس کے ذخائر تلاش کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کمیشن لے کر مہنگے معاہدوں میں باندھاگیا۔ انہوں نے کہاکہ نیت ٹھیک تھی تو ملک کی معاشی صورت حال کو بہتر
بنانے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی آمدن اور اخراجات بیلنس ہیں اگر گزشتہ حکومتوں کے قرضوں کا سود ادا نہ کرنا ہو۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ حکومت نے شاہانہ طرز زندگی کو ترک کیا۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم ہاؤس میں مغلیہ خاندان کے کچن چلتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ اگر عوام مشکل میں تو حکومت بھی عیاشی نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک پاکستان
اور چائنا کی لازوال دوستی کا مظہر ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ سی پیک کے منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چائنا کی حکومت نے سی پیک کے منصوبوں پر پاکستانی حکومت کی تعریف کی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ یہ بات کرتے ہیں کہ نیب ہمارے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیب اگر پیچھے پڑی ہے تو اس کی کوئی وجہ ہے،ملک کو ذاتی
جاگیر سمجھا ہوا تھا۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ عوام کو تو کبھی خاطر میں نہیں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی کاروبار کے لیے فائدہ اٹھائے گئے۔ انہوں نے کہاکہ کوئی سزا یافتہ ہے تو کوئی ضمانت پر ہے اور بھاشن دیتے ہیں مہنگائی کا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ اگر اتنی ہمدردی ہے تو اپنی اولادوں کو پاکستان بلائیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان سے ہمدردی ہے تو جائیدادیں بیچ کر پاکستان میں
سرمایہ کاری کریں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے عوام کے مستقبل کو دا ؤپر لگایا گیا اور بیرون ملک کھربوں کی جائیدادیں بنائیں،یہ ملک میں بے چینی کی صورتحال پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک کی اقتصادی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔ انہوں نے نکہاکہ یہ جانتے ہیں کہ اگر حکومت کامیاب ہوگئی تو ان کا کوئی مستقبل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا
کہ خون ان کے منہ کو لگ چکا ہے یہ دوبارہ اقتدار میں آنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کا جو اکٹھ ہو رہا ہے اس میں دیکھ لیں کون کون سی جماعت ہے جو نواز شریف کے بیانیے کو سپورٹ کرتی ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ وزیراعظم ایسا لیڈر ہے جس پر جتنا پریشر ڈالا جائے اتنا ہی مضبوط ہوتا ہے،عوام سے وعدہ کیا تھا کہ جو ملک کو کنگال کر کے چلے گئے ان کو
کٹہرے میں لائیں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ سیاسی مخالفت کی بنیاد پر یہ جیل نہیں گئے آپ پر چوری کا الزام ہے،اثاثے کیسے بنائے پیسے کیسے باہر لے کر گئے اس کا جواب دے دیں۔۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ ایسے لوگوں کے اداروں میں لگایا گیا جو چوری میں ان کی معاونت کر سکیں،یہ چاہتے ہیں کہ پاک فوج کا ادارہ بھی ان کے نیچے ہو۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ سقوط
کشمیر کا لفظ استعمال کر کے کشمیریوں کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ عمران خان نے اقوام متحدہ میں کشمیر کا معاملہ مدلل انداز میں اٹھایا۔انہوں نے کہاکہ انہوں نے عالمی فورمز پر کلبوشن کا کبھی نام تک نہیں لیا،یہ چاہتے ہیں کہ ان پر جو کیسز بنے ہیں اس میں سہولت مل جائے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ یہ پاکستان کے عوام اور اداروں کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں،انہیں جسٹس
قیوم جیسے جج چاہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ انہوں نے ہمیشہ جمہوریت کو عدم استحکام کا شکار کیا،انہوں نے کہاکہ انہوں نے ملک کو معاشی طور پر اور اداروں کو کھوکھلا کر دیا۔وزیر اطلاعات نے نوازشریف پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ یہ تو خود کو امیرالمومنین ڈکلیئر کرنا چاہتے تھے،ان کی اپنی جماعت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ قانون کے سامنے پیش ہونا اور جواب دینا ہوں گے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: