نواز شریف کی پاکستان سے غداری کے مصدقہ ثبوت کس شخصیت کے پاس ہیں اور جلد اس شخصیت کی دھواں دھار پریس کانفرنس پاکستان کے حال و مستقبل پر کیا اثرات مرتب کر سکتی ہے ؟ تہلکہ خیز حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) تحریک انصاف 2011سے روایتی اور سوشل میڈیا کے ماہرانہ استعمال کے ذریعے اپنا بیانیہ لوگوں تک پہنچانے میں حیران کن حد تک کامیاب رہی ہے۔اس کی مہارت کو ذہن میں رکھتے ہوئے حیرت ہورہی ہے کہ نواز شریف کی ’’بھارت نوازی‘‘ کو بے نقاب کرنے پرانی کہانیاں پرانے چہروں


کی زبانی ہی کیوں بیان ہورہی ہیں ۔ نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔عمران حکومت مجھ جیسے صحافیوں کو لفٹ نہیں کرواتی۔ ہم دو ٹکے کے رپورٹروں کو ’’لفافے‘‘ بھی نہیں دئیے جاتے۔ میڈیا کے ذریعے بیانیے کا فروغ مگر ایک پیچیدہ ہنر ہے۔اس ہنر کی تھوڑی پہچان رکھتے ہوئے میری تحریک انصاف سے دست بستہ التجا ہے کہ شہبازگِل صاحب کے ذریعے نواز شریف کی ’’بھارت نوازی‘‘ کی داستانیں دہرانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس ضمن میں مؤثر ترین کردار مثال کے طورپر 1985سے شریف خاندان کے بہت قریب رہے چودھری نثار علی خان ادا کرسکتے ہیں۔نواز شریف کی تیسری حکومت میں وہ بہت طاقت ور وزیر داخلہ بھی رہے ہیں۔چکری کے راجپوت اپنے DNAکی وجہ سے ’’مارشل ریس‘‘بھی شمار ہوتے ہیں۔ عمران خان صاحب کے ایچی سن کالج کے دنوں میں جگری یار بھی رہے۔مناسب یہ ہوگا کہ ان سے رجوع کیا جائے ۔وہ اگر ’’ذاتی معلومات‘‘ کی بنیاد پر نواز شریف کو ’’بھارت نواز‘‘ ثابت کرنے کے لئے کوئی دھواں دھار پریس کانفرنس سے خطاب کرنے کو آمادہ ہوگئے تو رونق لگ جائے گی۔ خلقِ خدا کی مؤثر تعداد سنجیدگی سے نواز شریف کی حب الوطنی کی بابت سوال اٹھانے کو مجبور ہوجائے گی۔ فقط شہباز گِل اور فیاض چوہان کے ذریعے دہرائی داستانیں اس ضمن میں مطلوب نتائج فراہم نہیں کرسکتیں۔چودھری نثار علی خان صاحب بول اُٹھے تو نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کے چند نمایاں اراکین پارلیمان بھی سابق وزیر اعظم سے دوری کا اعلان کرنے کی جرأت دکھاپائیں گے۔ ’’اداروں‘‘ کی حرمت کو توانا رکھنا یقینی ہوجائے گا۔اپنی دانست میں ایک ’’مجرب نسخہ‘‘ مفت فراہم کرنے کے بعد میں ایک اور تناظر میں ہوئے حیران کن واقعہ کو بیان کرنے کے لئے مجبور محسوس کررہا ہوں۔ساری عمر توہم پرستی سے محفوظ رہا۔ اقبالؔ کے ’’ستارہ کیا میری تقدیر کی خبر دے گا‘‘ والے پیغام پر شدت سے کاربند رہا۔آج سے چند ہفتے قبل مگر امریکہ میں مقیم ایک محقق’’علی الالومی‘‘نے مجھے اس برس کے دسمبر میں متوقع زحل کے جانے کس سیارے سے ملاپ کی بابت متنبہ کیا۔ باور کیا جاتا ہے کہ ایسا ملاپ دنیا بھر میں حیران کن تبدیلیاں لاتا ہے۔ہر شے اتھل پتھل ہوجاتی ہے۔اس کے دکھائے راستے پر چلتے ہوئے گھر میں فارغ بیٹھا میں گزشتہ چند ہفتوں سے کئی گھنٹے یوٹیوب کے ذریعے نجومیوں کے خیالات سننے میں خرچ کرنا شروع ہوگیا۔امریکی تاریخ میں آندھی آئے یاطوفان صدارتی انتخاب ہمیشہ نومبر کے پہلے منگل کے روز منعقد ہوتے رہے ہیں۔سوال اٹھ رہا ہے کہ برسوں سے قائم یہ روایت اب برقرار رہ پائے گی یا نہیں۔







%d bloggers like this: