نواز شریف کے بیانیےنے پی ڈی ایم کا مستقبل تاریک کر دیا پیپلز پارٹی کے بعد جے یو آئی( ف) نے بھی اپنا فیصلہ سنا دیا

کوئٹہ(آن لائن)پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف)کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رائے اپنی جگہ مگر نواز شریف کے موجودہ بیانیے کا ساتھ دینے کا فیصلہ پارٹی کا نہیں۔کوئٹہ میں عرب خبر رساں ادارے سے خصوصی انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نےپاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی تشکیل کے وقت کیے گئے معاہدے سے ہٹ کر موقف اپنایا ہے۔ ن لیگ کے لندن بیانیے کا پاکستان میں کوئی والی وارث نہیں۔سابق رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ پی

ڈی ایم کے معاہدے پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔ اگر ن لیگ کے اپنے معاملات ہیں تو اس پر انہیں خود سامنے آنا چاہیے۔ اگر ن لیگ اور میاں نواز شریف مخلصانہ تحریک چلانا چاہتے ہیں تو ان کے بھائی (شہباز شریف)خود میدان میں آئیں۔ دونوں کے بیانیے میں تضاد نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے ضمانت واپس لے کر خود رضا کارانہ گرفتاری دی تاکہ وہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی قیادت سے بچ جائیں۔حافظ حسین احمد کے مطابق پی ڈی ایم کے قیام کے وقت ایک اعلامیے پر دستخط کیے گئے تھے جس میں جمہوریت کی بحالی اور آئین پر عمل درآمد اور نئے انتخابات جیسے نکات شامل تھے، مگر اب اس اعلامیے اور بیانیے سے ہٹ کر ایک اور بیانیہ سامنے آگیا ہے۔ یہ وہ بیانیہ ہے جو لندن سے نشر ہوتا ہے جس کا پاکستان میں اور مسلم لیگ ن میں کوئی وارث نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی صورت حال بالکل ایم کیو ایم جیسی ہے۔ اگر میاں نواز شریف ن لیگ کے قائد ہیں اور ان ہی کا بیانیہ چلتا ہے تو ان کی پاکستان میں موجود قیادت اس کی پیروی کیوں نہیں کررہی؟کراچی جلسے میں میاں نواز شریف نے تقریر نہیں کی مگر ان کے بیانیے کو کسی نے کیوں بیان نہیں کیا؟میں چیلنج کرتا ہوں کہ جو تقریر نواز شریف نے کوئٹہ جلسے میں کی ہے وہ تقریر کوئی بھی فرد کر لے۔رہنما جے یو آئی نے کہا کہ جس بیانیے کا بوجھ مسلم لیگ ن نہیں اٹھا سکتی، جس بیانیے کا بوجھ مریم نواز، شاہد خاقان، احسن اقبال، سعد رفیق، خواجہ آصف، عبدالقادر بلوچ اور ثنا اللہ زہری نہیں اٹھا سکتے اس کا بوجھ ہم کیوں اٹھائیں۔ اسی لیے ہم نے اپنے پارٹی اجلاسوں میں اس پر کھل کر بات کی ہے۔جے یو آئی کی مجلس شوری، مجلس عاملہ میں یہی باتیں کیں۔ مولانا فضل الرحمان اور صوبائی قیادت سے بھی یہی باتیں ڈیڑھ سال سے کہہ رہا ہوں کہ ہمارے دوست قابل اعتبار نہیں۔ یہ پہلی بار نہیں، ہر بار ان کا یہی طریقہ واردات ہوتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کی رائے اپنی جگہ مگر نواز شریف کے موجودہ بیانے کا ساتھ دینے کا فیصلہ پارٹی کا نہیں۔ پارٹی رہنماں کی اکثریت کی سوچ بھیاس بیانیے کی مخالفت میں ہے۔جو مولانا کی (رائے)ہے پارٹی نے تو یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ آپ اس بیانیے کا ساتھ دیں۔ میں غلط صحیح کی بات نہیں کہہ رہا ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ ہوسکتا ہے مولانا کی بات صحیح ہو لیکن پارٹی کا فیصلہ تو یہ نہیں۔ اس کے باوجود میں نے جو بات کی ہے میں نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ میری ذاتی رائے ہے اور اب بھی میں کہہ رہا ہوں تو میں اپنی اس رائے کو پارٹی کیرائے قرار نہیں دے رہا، باوجود اس کے کہ پارٹی کے اکثر لوگوں کی سوچ یہی ہے جو میں عرض کررہا ہوں۔ان کے بقول باقی پارٹی رہنما بھی اس اختلاف کا اظہار بند کمروں اور پیٹھ پیچھے کرتے ہیں۔ ہر پارٹی میں ایسا ہوتا ہے لیکن یہ پارٹی کے ساتھ مخلصانہ انداز نہیں ہے۔جے یو آئی کے سینیئر رہنما کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف نے عمران خان کو اقتدار میں لانے، انتخابات میں دھاندلی، مہنگائی سمیتتمام مصیبتوں کا ذمہ دار جنرل باجوہ کو قرار دیا تو پھر انہیں ووٹ کیوں دیا؟میرا سوال یہ ہے کہ جب ساری ذمہ داری ان کی ہے تو وہ کون سی چیز آپ نے حاصل کی اور ووٹ دیا۔ یعنی ایک شخص کے توسیع ملازمت کے لیے آپ ووٹ دے رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ تمام خرابیوں کے ذمہ دار یہ ہیں اوراس خرابی کے ذمہ دار کو آپ مزید وقت دے رہے ہیں تین سال کے لیے۔حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہمسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کئی مواقع پر پیچھے ہٹی ہیں اس لیے اپنے پارٹی اجلاسوں میں واضح طور کہا کہ ہمارے دوست قابل اعتبار نہیں۔ 2008 کے انتخابات سے بائیکاٹ، ایف اے ٹی ایف، پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے قانون سازی اور جے یو آئی کے آزادی مارچ میں میاں نواز شریف نے دھوکہ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام نےملین مارچ کے بعد اکتوبر2019 میں اسلام آباد کی جانب آزادی مارچ بھی آصف زرداری اور میاں نواز شریف کی آمادگی کے بعد ہی شروع کیا تھا۔نواز شریف نے جیل سے رہا ہونے کے بعد خود آکر ہمیں کہا کہ تحریک چلاتے ہیں۔ ہمیں کہا گیا کہ آپ مہربانی کریں اس (تحریک)کے لیے آگے بڑھیں۔ ان کے کہنے پر ہم نے پروگرام بنایا اور آزادی مارچ کا اعلان کیا۔حافظ حسین احمد کے بقول انہوں (ن لیگ)نےکہا کہ ہم نومبر میں نکلنے کی پوزیشن میں ہوں گے اس لیے ہم نے اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ کی تاریخ 31 اکتوبر تک بڑھا دی تاکہ اگلا دن نومبر کا ہو۔ ہم یکم نومبر کو اسلام آباد پہنچے اور انتظار کرتے رہے لیکن جو وعدہ کیا تھا وہ وفا نہیں ہوسکا۔ وہ لوگ سٹیج تک تو آگئے لیکن انہوں نے آگے معذرت کی۔ شہباز شریف نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے اس میں حصہ نہیں لیا۔ جے یو آئی نے اپنے بلبوتے پر 13 دن تک اپنے احتجاج اور آزادی مارچ کو برقرار رکھا۔ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی کے آزادی مارچ کے بعد پھر ن لیگ نے بات چیت کی جس کے نتیجے میں خون کے نمونوں کے ٹیسٹ میں فریب کاری کرکے میاں نواز شریف کو ملک سے باہر جانے کے لیے راستہ مہیا کیا گیا۔ علاج کے لیے آٹھ ماہ کی ضمانت ملی تھی مگر لندن پہنچنے کے بعد گیارہ ماہ گزر گئے مگر میاں نواز شریف نے نہ ہسپتال میں داخلہ لیا نہ کوئی علاج کرایا۔ آٹھ ہفتوں کے بعد گیارہ ماہ گزرے، اس دوران نہ صرف وہ خود خاموش رہے بلکہان کی بیٹی مریم نواز بھی خاموش رہیں۔ پنجاب حکومت، اسٹیبلشمنٹ، عدالت اور سارے خاموش تھے۔ گیارہ مہینوں کے بعد معاملات میں رخنہ پڑا کیونکہ مریم صاحبہ بھی لندن جانا چاہتی تھیں لیکن ان کا نام ای سی ایل میں شامل تھا۔ گیارہ مہینے کیوں سب خاموش رہے؟حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ نواز شریف اور الطاف حسین کو اسٹیبلشمنٹ نے پالا اور اب ان کے گلے پڑ گئے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ اب اس دن سے ڈرے کہ جنہیں وہ آج پال رہے ہیں جب وہ تخت سے تختے پر آئے گا تو وہ بھی اسی طرح کرے گا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: