ن لیگ کا ضمنی انتخابات لڑنے کا فیصلہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ +این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) نے حکومت کو 31 جنوری تک ڈیڈ لائن دی ہے، میڈیا ذرائع کے مطابق ن لیگ نے ضمنی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے، دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) نے اتفاق کیا ہے کہ یکم جنوری کو پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں بلاول بھٹو زر داری کو سنیں گے جس کے بعد مشترکہ فیصلے کئے جائینگے،بلاول کو سنے بغیر قیاس آرائی کر نا مناسب نہیں،موجودہ جعلی حکومت بطور ایک ہتھیار کے نیب کو استعمال کررہا ہے،گرفتاریوں پر آرام سے نہیں بیٹھیں

گے، گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کو حتمی شکل دینے پر مشاورت کر ینگے، حکمران ہمارے احتساب کے شکنجے میں آ چکے ہیں، اگر گرفتاری ہو ئی تو دیکھ لینگے۔ بدھ کو پاکستان مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر مریم نواز اپنے وفد کے ہمراہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی جس میں موجودہ سیاسی صورتحال اور پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے کئے گئے فیصلوں کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ مجھے پتہ چلا کہ مریم نواز اسلام آباد میں ہیں اس کو موقع غنیمت سمجھ کر دعوت دی، گزشتہ روز میاں نوازشریف سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا اور خواجہ آصف کی گرفتاری پر بات ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ بلاول بھٹو زر داری کی اس بات پر خراج تحسین پیش کیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہم اپنی تجاویز پی ڈی ایم کے سامنے رکھیں گے،میرے خیال میں مثبت قسم کا رویہ سامنے آیا ہے، اسی کو آگے لیکر پی ڈی ایم کاسربراہی اجلاس ہوگا اور حتمی فیصلہ ہونگے اور آگے کا مستقبل اس حوالے سے طے کیا جائیگا۔مریم نواز نے کہاکہ میں مولانا فضل الرحمن کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے دعوت،بہت اچھا کھانا کھلایا، مہمان نواز ی بھی کا شکریہادا کر تے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میاں نوازشریف بھی ویڈیو شریک ہوئے،کھانے کے بعد نشست میں بہت ساری چیزیں ڈسکس ہوئیں،حتمی فیصلہ یکم جنوری کو رائیونڈ میں ہونے اولے سربراہی اجلاس میں کیا جائیگا، تمام چیزیں زیر بحث لائیں گے اور حتمی فیصلہ کئے جائینگے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس میں جو باتیں کہیں وہ اچھی باتیں تھیںاور کہا سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں جو بھی سفارشات آئی ہیں وہ پی ڈی ایم کے سامنے رکھیں گے اور پھر مشترکہ فیصلہ ہوگا،ہم پیپلزپارٹی کو موقع دینگے کہ یکم جنوری کو پی ڈی ایم کے اجلاس کے اندر سب باتیں رکھیں اور ڈسکس کرینگے اور مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائیگا۔انہوں نے کہاکہ مفروضات پر کچھ نہیں کہنا چاہتا، ہم بلاول بھٹو زر داری کو خود سننا چاہیں گے؟وہ کیا بات پیڈی ایم کے سامنے رکھتے ہیں اور پھر اس کے بعد مشاورت ہوگی اور جو فیصلہ ہوگا مشترکہ ہوگا،انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم ان کی بات سنے گی اور سمجھے گی اور آگے لیکر چلے گی، پہلے سے قیاس آرائی کر نا مناسب نہیں ہے۔خواجہ آصف کی گرفتاری انتقامی سیاست کا تسلسل ہے ہماری موجودہ جعلی حکومت بطور ایک ہتھیار کے نیب کو استعمال کررہا ہے ماضی بھی گرفتاریاں کیہیں چھاپے مارے ہیں،سیاستدانوں کی توہین اور تذلیل کی ہے اور پھر میڈیا کے ذریعے ٹرائل ہوتا ہے اور جب تک سب جھوٹ کا پتہ چلتا ہے تب تک اس بیچارے کے سیاسی کیریئر کو میڈیا کے ذریعے تباہ کر دیا جاتا ہے اس سازش کی ہم مذمت بھی کرینگے اور عملی طورپر رد عمل کیلئے بھی مشاورت کرینگے، ایسا نہیں ہے کہ آرام سے لوگوں کو پکڑتے چلے جائیں گے اور ہم خاموشرہیں گے، ہم اس وقت باقاعدہ مظاہرہ کر نے، احتجاجی کر نے اور عملی شکل دینے کیلئے تجویز پر مشاورت کرینگے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ضمنی انتخابات اور سینٹ الیکشن کے حوالے سے ابھی تک (ن)لیگ نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا،ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ بھی پی ڈی ایم کے پلیٹ فار م سے ہوگا۔ ایک سوال پر مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہم سباکٹھے ہیں، تضاد کی بات نہ کی جائے، میں کچھ مصروفیت کے باعث گڑھی خدا بخش نہیں جا سکا، ہمارا وفد گیا تھا حالانکہ میں نے کار ساز اور ملتان کے جلسے میں شرکت کی ہے۔ صحافی نے سوال کیا کہ مولانا شیرانی نے نئی جماعت بنالی ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ مجھے نہیں پتہ کون سی جماعت بنی ہے۔انہوں نے کہا کہان کا احتسا ب غیر موثر ہو چکا ہے اب وہ ہمارے احتساب کے شکنجے میں ہیں۔ مریم نواز نے کہاکہ میاں نوازشریف کا پاسپورٹ منسوخ ہوگا تو ساری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔صحافی نے مولانا فضل الرحمن سے سوال کیاکہ اگر آپ کی گرفتاری ہوئی تو؟ جس پر مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اگر ہوئی تو دیکھ لیں گے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: