ن لیگ کی سابق رکن اسمبلی کا پولیس پر ہراساں کرنے والوں کی حفاظت کا الزام

پنجاب اسمبلی کے سابق ممبر اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی معروف سماجی کارکن نے میری جیمز گل نے لیاقت آباد پولیس پر الزام لگایا ہے کہ پولیس نے ان کی درخواست پر لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ بااثر افراد کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔ انکا کہنا تھا کہ  با اثر افراد کی جانب سے ان کے گھر پر حملہ کیا گیا ، انکے خاندان  کے افراد کو ہراساں کیا گیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں گئیں۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والی سابق ایم پی اے میری جیمز گل نے تھانہ لیاقت آباد میں ایک درخواست درج کروائی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ 21 دسمبر کی رات ایک امریکی نژاد پاکستانی شہری سید حسیب گیلانی سمیت پانچ افراد نے ان کے گھر ماڈل ٹاون آر بلاک پر حملہ کیا اور انکو اور انکے اہل خانہ کو سنگین نتائج شدید دھمکیاں بھی دیتے رہے

انہوں نے درخواست میں لکھا کہ میں اپنے چھوٹے بھائی اور بہن کے ساتھ گھر میں موجود تھی کہ رات کے تقریباً ڈیڑھ بجے ان کے کرائے کے گھر کے اپر پورشن میں کچھ افراد زبردستی گھس آئے اور انہوں نے لوہے کے گیٹ کو زبردستی توڑنا شروع کر دیا۔ انہوں نے دھمکیاں اور نا زیبا الفاظ استعمال کرتے گیٹ کو لاٹھیوں اور ہتھوڑے سے توڑنا شروع کر دیا۔

درخواست گزار میری جمیز گل کا کہنا ہے کہ پولیس نے مقدمہ درج کرنے اور ملزمان کو پکڑنے کی بجائے ملزمان کی طرف داری شروع کر دی ہے۔

عالمی ایوارڈیافتہ معروف سماجی کارکن اور سابق رکن اسمبلی میری جیمز گل کا کہنا ہے کہ مجھے اور میرے اہل خانہ کو گیلانی خاندان کی جانب سے مسلسل دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں تاہم تھانہ ماڈل ٹاون میں قانونی درخواست جمع کروانے کے باوجود انکو تحفظ فراہم نہیں کیا جارہا۔

انکا کہنا ہے کہ سید سید شجاعت حسین اور سید زبیر شاہ کینیڈا میں مقیم کچھ جاگیرداروں کے رشتہ دار ہیں جو ہماری زمین ہتھیانہ چاہتے ہیں اور ہم سے زمین واگزار کروانے کیلئے مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔

میری جیمز گل کا کہنا ہے کہ پولیس مقدمہ درج کرنے کی بجائے ملزمان سے صلح کرنے پر اکسا رہی ہے حالانکہ انہوں نے پولیس کو واقعے کے ویڈیو ثبوت بھی فراہم کئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کو یا ان کی فیملی کو ملزمان کی طرف سے کوئی بھی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ دار پولیس ہوگی۔

میری جمیز کا کہنا تھا کہ وہ ایک سابق رکن اسمبلی اور متحرک وکیل تاہم پولیس کا انکے کیس کو غیر سنجیدہ لینا ایک انتہائی افسوس ناک عمل ہے۔

لیاقت آباد پولیس کے ایس ایچ او عاصم جہانگیر کا کہنا ہے کہ پولیس کسی کی طرف داری نہیں کر رہی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے دونوں گروہوں کو ۲۸ دسمبر کو سنا اور اب قانون کے مطابق اس کیس کی کاروائی آگے بڑھائی جائیگی۔

یاد رہے کہ میری جیمز گل نے سینیٹری ورکرز کے لیے اپنی خدمات کے عوض سویڈن کے ادارے کی جانب سے بین الاقوامی ایوارڈ بھی جیتا تھا۔

%d bloggers like this: