ن لیگ کے رہنماغداری مقدمے میں گرفتاری دینے کیلئے تھانہ شاہدرہ پہنچ گئے،ایس ایچ او نے گرفتار کرنے سے انکار کر تے ہوئے کیا کہہ دیا ؟

لاہور (آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماتھانہ شاہدر ہ میں درج کئے گئے مقدمے میں گرفتاری دینے کے لئے پہنچ گئے تاہم ایس ایچ او نے تحقیقات کے تمام مراحل پورے ہونے تک گرفتار سے انکار کر دیا ، مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کے ترجمان محمد زبیر نے کہا ہے کہ کیا جب بھی نواز شریف خطاب کریں گے تو تمام شرکاء کے خلاف غداری کا مقدمہ ہوا کرے گا ؟،ہم پہلے ملزمان ہیں جو خود چل کر تھانے آئے ہیں لیکن کوئی بھی مقدمے کی ذمہ داری لینے کے لئے تیار نہیں ،

یہ پہلا مقدمہ ہے جس میں مدعی غائب ہے ، عمران خان کو مخالفین کو ڈرانے دھمکانے کا شوق ہے اور ان کے براہ راست حکم پر ہی مقدمہ درج کیا گیا ہے ،وزیر اعلیٰ عثمان بزدارکی اتنی حیثیت نہیں کہ ان کے احکاما ت پر مقدمہ درج ہو ۔ نواز شریف کے ترجمان محمد زبیر ،ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطا اللہ تارڑ، ملک ریاض، سمیع اللہ خان وکلاء کے ہمراہ تھانہ شاہدرہ پہنچے ۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں نے ایس ایچ او سے اپنے خلاف درج کئے گئے مقدمے بارے آگاہی حاصل کی اور کہا کہ ہم خود چل کر آئے ہیں اگر آپ نے ہمیں گرفتار کرنا ہے تو کر لیں۔ اس موقع پر لیگی رہنمائوں اور ایس ایچ او کے درمیان مکالمہ ہوا ۔ ایس ایچ او افتخار رندھاوا نے لیگی رہنمائوں کو بتایا کہ مجھے اس مقدمے کے اندراج کا علم نہیں کیونکہ میرا تین روز قبل ہی ڈیفنس سے یہاں تبادلہ ہوا ہے ، ایک شکایت کنندہ نے درخواست دی جس پر ایف آئی آر درج ہو ئی ہے اور اس کی پوری تحقیقات ہوں گی ، اگر اس میں صداقت ہوئی اور ثبوت ملے تو گرفتاریاںکریں گے بصورت دیگر ہماری آپ سے کوئی ذاتی دشمنی یا عناد نہیں کہ ہم آپ کو گرفتار کر لیں ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد زبیر نے کہا کہ ہم یہ پوچھنے آئے تھے کہ ہمارے خلاف درج مقدمے میں کیا پیشرفت کی گئی ہے ، کیا اس کی شفا ف تحقیقات ہوں گییا پھر کہا جائے گا کہ اوپر سے حکم آیا ہے اور ہمیں اس کا کچھ علم نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملزم ہیں اور مقدمے بارے پوچھنے خود آئے ہیں ، ہم دوبارہ بھی آئیں گے ، پولیس افسر سے کہا ہے کہ آپ اپنے حکام بالا اور وزیر اعظم عمران خان سے اس بارے پوچھ لیں ہمیں کیا جواب دینا ہے ۔ یہ سنجیدہ نوعیت کا مقدمہ ہے ، مجھے تو رات کو نیند نہیں آتی ۔ کیا جب بھی نواز شریف خطاب کریں گے توتمام شرکاء کےخلاف غداری کا مقدمہ درج ہوا کرے گا؟۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مقدمے کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں، ہمارے آنے سے پہلے تفتیشی افسر غائب ہوگیا، پہلا مقدمہ ہے جس کا مدعی بھی غائب ہے، عمران خان نے ایف آئی آر کیلئے براہ راست احکامات دئیے ، جتنے مرضی مقدمات بنائیں لیگی کارکنان ضرور باہر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے ملکی مسائل پر تقریر کی تھی، تقریر کرنے پر وزیراعظم نےبغاوت کا مقدمہ بنا دیا، ہم ایس ایچ او یا وزیراعلی پنجاب کو الزام دینے نہیں آئے، عمران خان نے مقدمے بنانے کی براہ راست ہدایات دی ہیں کیونکہ انہیں ہی مخالفین کو ڈرانے دھمکانے کے لئے مقدمات درج کرانے کا شوق ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم پر اداروں کیخلاف بات کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے، نواز شریف نے سلیوٹ کر کے کہاکہ فوج کے ہر جوان کی عزت کرتے ہیں، ایک پرائیویٹ شخص کے کہنے پرعمران خان نے دو سابق وزرئے اعظم ، آزاد کشمیر کے موجودہ وزیر اعظم ، پاک فوج کے دو ریٹائرڈ اعلیٰ افسران ، سابق گورنر اور سابق وفاقی وزراء کے خلاف مقدمہ درج کرایا ،سابق جرنیلوں پر مقدمہ درج کرکے ان کی حب الوطنی پر حملہ کیا گیا چالیس تو کیا چالیس ہزار پر بھی مقدمے بنائیں ہم باہر ضرور آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے نجی ٹی وی کو انٹر ویو دیتے ہوئے سب سے پہلےنوازشریف اوربھارت تعلقات کی باتیں کیں ، ہمیں کسی کو اپنی حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ نہیں دکھانا،آئین میں سب کی حدود متعین ہے اس میں ہی سب کو رہنا چاہیے،کوئی غیر آئینی کام نہیں کرنے جا رہے،غیر آئینی کام وزیر اعظم عمران خان کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم احتجاج کیلئے کنٹینر ابھی نہیں بنا ، اگر کنٹینر بنا توپاکستان میں ہی بنے گا کسی باہر کے ملک سے نہیں بنوائیں گے۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہہم نامزد ملزم ہیں تو گرفتار کیوں نہیں کر لیتے،اگرگرفتار نہیں کرنا تو پھر مقدمہ خارج کر دیں ،حیلے بہانے سے مقدمات درج کروائے جارہے ہیں ،وزیر اعظم کو سالگرہ کا کیک کاٹتے ہوئے پتہ چلا کہ غداری کا مقدمہ درج ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے حکومت کو عوامی ریلہ بہا کر لے جائے گا ۔اگر آپ ایک کو بند کریں گے تو سو لیگی ورکرز نکلیں گے جو کرنا ہے کر لیں ڈرنے والے نہیںشوق پورا کرلیں ،مطالبہ کرتاہوں فیصل واڈا کا کیس کھولا جائے ۔جہانگیر ترین سو ارب کی چوری کرکے باہر بیٹھا ہے،فیصل واڈا ،محمود خان ،جہانگیر ترین اورخسرو بختیار کو این آر او دیاگیا ہے۔ تھانہ شاہدرہ کے ایس ایچ او زاہد رندھاوا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیگی رہنمائوں کے خلاف درج مقدمے میں قانونی تقاضوں کوپورا کیا جائے گا ،مقدمہ درج ہو گیا اور پراسیکیوشن کی ٹیم اس کا قانونی جائزہ لے گی ، میرا ڈیفنس سے یہاں تبادلہ ہوا ہے اور اس مقدمے کے اندراج سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم فی الحال لیگی رہنمائوں کو گرفتار نہیں کر رہے، پراسیکیوشن کی ٹیم اس کیس کا قانونی جائزہ لے گی،اس کیس میں قانونی تقاضوں کو پورا کیا جائے گا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: