واٹس ایپ کی نئی متنازع پرائیویسی پالیسی سے کس کو فائدہ کس کو نقصان؟

واٹس ایپ کی نئی متنازع پرائیویسی پالیسی سے کس کو فائدہ کس کو نقصان؟

واٹس ایپ کی نئی متنازع پرائیویسی پالیسی سے کس کو فائدہ کس کو نقصان؟

موبائل فونز پر استعمال ہونے والی ایپس سے متعلق تجزیہ کرنے والی کمپنی سینسر ٹاور کے مطابق 4 جنوری کو واٹس ایپ نے اپنی نئی پرائیویسی پالیسی متعارف کرائی تو اس کے صارفین کی تعداد حیران کن حد تک گر گئی اور اس طرح اس کے ڈاؤن لوڈز کی تعداد میں بھی واضح فرق دیکھنے کو آیا۔ اس پالیسی سے اختلاف رکھنے والے زیادہ تر صارفین "سگنل” اور "ٹیلی گرام” کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔

واٹس ایپ کی جانب سے جب نئی پالیسی کا اعلان کیا گیا تو اس کے بعد حال ہی میں دنیا کے امیر ترین انسان قرار دیئے جانے والے ایلون مسک نے سگنل ایپ کے استعمال کا مشورہ دیا جس کے بعد اس ایپ کے صارفین کی تعداد میں 2 لاکھ 46ہزار گنا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ایک ہفتے کے دوران اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کرنے والوں کی تعداد میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ایک دم اتنے زیادہ صارفین کی اس ایپ پر آمد سے اس کی سروسز میں بھی مشکلات دیکھنے میں آئیں جس پر کمپنی نے بھی کہا کہ وہ اب نئے سرورز حاصل کر رہے ہیں اور عنقریب ہی صارفین کو بلاتعطل سروسز فراہم کی جائیں گی۔

اس کے بعد ٹیلی گرام آتا ہے جس کے صارفین کی تعداد واٹس ایپ پالیسی کے اعلان کے بعد 65 لاکھ سے ایک کروڑ 10 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ جس سے یہ اندازہ لگانا اب مشکل نہیں ہے کہ اس نے بھی واضح فائدہ حاصل کیا ہے۔

ان ایپس کے اس قدر مقبولیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ واٹس ایپ کو اس کا نقصان بھی ہوا ہے کہ اس کہ صارفین کی تعداد ایک کروڑ 13 لاکھ سے کم ہو کر 92 لاکھ پر آ گئی ہے۔ یہ ایپ 2014 میں بنی اور 6 سال کے اندر 5 ارب 60 کروڑ بار ڈاؤن لوڈ کی گئی۔

تجزیہ کرنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ واٹس ایپ کی بجائے دیگر ایپس کو زیادہ خطرات لاحق ہوں گے کیونکہ اس طرح کی سروسز فراہم کرنا ان کے لیے ایک چیلنج ہو گا اور ان ایپس پر آنے والے صارفین کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنا سب سے زیادہ اہم امر ہو گا۔

The post واٹس ایپ کی نئی متنازع پرائیویسی پالیسی سے کس کو فائدہ کس کو نقصان؟ appeared first on Siasat.pk Urdu News – Latest Pakistani News around the clock.

%d bloggers like this: