واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی پر پی ٹی اے کا وضاحتی بیان جاری

واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی پر پی ٹی اے کا وضاحتی بیان جاری

پاکستان ٹیلی مواصلات اتھارٹی نے میسجنگ سروس واٹس ایپ سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کے بعد واٹس ایپ کی نئی سروس کی شرائط سے متعلق وضاحتی بیان جاری کردیا، جس میں کہا گیا کہ واٹس ایپ کی جانب سے نئی پالیسی کا اطلاق 8 فروری 2021 کو ہورہا ہے، جس پر صارفین نے تحفظات ظاہر کیے ہیں، مگر فیس بک اور واٹس ایپ کی جانب سے اس حوالے سے ادارے کو پالیسی کی وضاحت فراہم کی گئی ہے۔

بیان کے مطابق پرائیویسی پالیسی میں تبدیلیوں کا بنیادی مقصد واٹس ایپ میں کسی بزنس سے براہ راست خریداری اور مدد حاصل کرنا آسان بنانا ہے،اس سے عام صارفین کے پیغامات اور کالز کی سیکیورٹی متاثر نہیں ہوگی، جو اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ ہیں۔

پی ٹی اے کے بیان کے مطابق واٹس ایپ کی جانب سے مخصوص ڈیٹا بشمول اکاؤنٹ رجسٹریشن انفارمیشن، فون نمبر ، دوسروں سے کیسے رابطے کرتے ہیں، یعنی بزنس اکاؤنٹس اور صارف کے آئی پی ایڈریس کو فیس بک سے شیئر کیا جاتا ہے،ایسا 2016 سے ہورہا ہے، اس حوالے سے نئی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

صارفین کو کسی بزنس چیٹ کے دوران آگاہ کیا جائے گا کہ ان کے واٹس ایپ میسجز کو فیس بک یا تھرڈ پارٹی کی جانب سے استعمال کیا جاسکتا ہے،تاکہ وہ اس سے رابطے کو برقرار رکھنے کا فیصلہ خود کرسکیں،صارف کی جانب سے واٹس ایپ استعمال کرکے واٹس ایپ بزنس ایپ استعمال کرنے والوں کو میسجز بھیجے جائیں گے تو شاپنگ ڈیٹا کمپنیوں اور فیس بک سے شیئر کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی سروسز بہتر بناسکیں، مگر اس کا مطلب یہ نہیں واٹس ایپ پر آپ کو اشتہارات نظر آئیں گے۔

بیان کے مطابق اسی پالیسی سے صارف کے دوستوں اورر گھروالوں سے رابطوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، پیغامات کو صرف صارف یا اسے موصول کرنے والا ہی پڑھ سکے گا، واٹس ایپ یا فیس بک کو بھی ان تک رسائی نہیں ہوگی۔

پی ٹی اے نے واٹس ایپ اور فیس بک انتظامیہ کی جانب سے جاری وضاحت کے حوالے سے مزید بتایا کہ واٹس ایپ محدود کیٹیگریز کا ڈیٹا اکٹھا کرتا ہے، ان تفصیلات تک رسائی کو محدود کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں، ہوسکتا ہے کہ صارف نے واٹس ایپ کو اپنے کانٹیکٹس تک رسائی دی ہو، مگر میسجنگ سروس کی جانب سے کانٹیکٹ لسٹ کو کسی سے بھی بشمول فیس بک سے بھی شیئر نہیں کیا جاتا ہو۔

پی ٹی اے نے واضح کیا کہ بیان میں درج تمام تر تفصیلات واٹس ایپ کی جانب سے فراہم کردہ ہیں اور اسے اتھارٹی کی جانب سے عوام کو آگاہ کرنے کے لیے شائع کیا جارہا ہے، اس کا پی ٹی اے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پی ٹی اے نے کہا کہ وہ صارف جو واٹس ایپ کی نئی شرائط کو قبول نہیں کررہے ہیں وہ اپنے اکاؤنٹس سے محروم نہیں ہوں گے لیکن جب تک کہ وہ نئی پالیسیوں سے متفق نہیں ہوں گے ایپ کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی،پاکستان میں صارفین کی مدد کے لئے ، واٹس ایپ نے یہ عمومی سوالنامہ بھی تیار کیا ہے۔

ریگولیٹر نے یہ بھی بتایا کہ واٹس ایپ کے ذریعہ دی جانے والی معلومات کو "عوامی خدمت کی معلومات کے طور پر نیک نیتی سے پھیلاتے ہوئے اس معلومات کے نتیجے میں اتھارٹی پر جو بھی ذمہ داری عائد کی گئی ہے اس کے بغیر پھیلائی گئی ہے۔

واٹس ایپ کی نئی پرائیوٹ پالیسی 8 فروری 2021 سے ہوگا اور صارفین کو انہیں لازمی قبول کرنا ہوگا، ورنہ اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیے جائیں گے، اپنی پرائیوسی لیک ہونے کے خوف سے صارفین نے ٹیلی گراف اور سگنل ایپ کا رخ کرنا شروع کردیا ہے۔

The post واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی پر پی ٹی اے کا وضاحتی بیان جاری appeared first on Siasat.pk Urdu News – Latest Pakistani News around the clock.

%d bloggers like this: