وبا کے دوران گزشتہ برس میں خواتین کی جانب سے خلع لینے کی شرح میں 722 فیصد اضافہ

کرونا وائرس نے جہاں براہ راست انسانی زندگی کے وجود کو ختم کیا ہے وہیں انسانی سماج کو بھی ایک بار الٹ پلٹ کر دیا ہے۔ معاشی معاملات ہوں یا پھر سماجی سب کے سب ایک تغیرسے نبرد آزما ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 2 برس میں صوبے بھر میں خواتین کی جانب سے خلع کے تقریباً 5 ہزار 891 کیسز دائر کیے گئے۔

سال 2019 کے مقابلے میں سال 2020 کے دوران خواتین کی جانب سے گھریلو مسائل کے باعث شوہر سے خلع کے کیسز دائر کرنے میں 722 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اعداد و شمار کے مطابق سال 2019 میں صوبے بھر میں خلع کے 632 مقدمات دائر کیے گئے تھے.

سال 2020 میں لگ بھگ 5 ہزار 198خواتین نے  عدالتوں سےرجوع کیا تھا جن میں سے 4 ہزار 50 سے زائد کا تعلق کراچی کے 5 اضلاع سے ہے۔

ڈان نے  اس حوالے سے وکلا کی رائے سامنے رکھی ہے جن کے مطابق خواتین کی اپنے شوہروں سے علیحدگی کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ ان کی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوتے ہیں۔

تاہم فیملی کیسز کے ماہرین کے مطابق  زیادہ تر کیسز میں شوہر سماجی فرائض ادا کرنے میں ناکام ہوتے ہیں۔  دوسری وجہ یہ ہے کہ نوجوان لڑکیاں شادی کے بعد پرتعیش زندگی کا خواب دیکھتی ہیں جیسے وہ گلیمرس ٹیلی ویژن ڈراموں اور فلموں میں دیکھتی ہیں۔ انہیں حقیقت کا ادراک نہیں رہتا یا کم از کم انکی توقعات انہیں رد عمل پر مجبور کرتی ہیں۔ وہ یہ تصور ہی نہیں کر پا رہی ہوتیں کی حقیقی زندگی بہت مختلف اور مشکل ہے۔

اس حوالے سے دنیا بھر کے مخلتف ممالک میں طلاقوں اور علیحدگیوں میں بھی اچانک اٖضافہ ہوا ہے۔ اور وہاں اسکی وجہ معاشی دباؤ ہے جو کرونا کی وجہ سے نوکریاں جانے سے پیدا ہوا ہے۔

سماجی ماہرین سمجھتے ہیں کہ خاندان میں مردوں کی نوکریاں ختم ہوئیں ہیں اور 24 گھنٹے گھر پر رہنے کی وجہ سے وہ کم زور حیثیت میں روابط  کی تھکن  کا شکار ہو کر چڑچڑے ہوجاتے ہیں اور پھر لڑایاں شروع ہوتی ہیں جو کہ اکثر متشدد رخ اختیار کر لیتی ہیں۔

%d bloggers like this: