پارٹی سے استعفیٰ دینے کے بعد عبد القادر بلوچ کے تابڑ توڑ حملے ! سابق وزیراعظم سے متعلق حیرت انگیز انکشافات کر دیے

کوئٹہ(نیوز ڈیسک )پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صوبائی صدر لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ نے مسلم لیگ(ن) چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کو فوج مخالف بیانیے اور پارٹی قائدین کو عزت نہ دینے ،بلوچستان سے متعلق فیصلوں میں اعتماد میں نہ لینے پر پارٹی چھوڑدی ہے۔



آرمی چیف کو میاں نواز شریف نے خود چیف آف آرمی اسٹاف بنایا اب وہ ماتحت افسران اور اہلکاروں کو بغاوت پر اکسارہے ہیں جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں میرے ساتھ نواب ثناء اللہ زہری نے پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی رکنیت جبکہ سینئر نائب صدر میر عرفان،میر صلاح الدینرند،قلات،نصیرآباد ،مکران کے ڈویژنل صدور سمیت 20اضلاع کے صدور نے پارٹی سے استعفیٰ دیدیا ہے ۔


یہ بات انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ میٹروپولٹین کارپوریشن کے سبزہ زار پرمنعقدہ ہم خیال ساتھیوں کے مشاورتی اجلاس سے خطاب اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔


اس موقع پر نواب ثناء اللہ خان زہری،مسلم لیگ(ن) نصیرآباد کے ڈویژنل صدر میر چنگیز ساسولی ،قلات ڈؤیژن کے جنرل سیکرٹری عبداللہ آزاد مکران ڈویژن کے صدرنواب شمبے زئی، آغا شاہ حسین ،سردار اعظم ریکی ،میر علی حسن زہری ،کشور جتک ،آمنہ مینگل نے بھی خطاب کیا۔

جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) سے اصولوں کی بنیاد پر راستے جدا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اورپارٹی چھوڑ دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جس انداز میں پارٹی کارکنوں نے مجھے عزت دی ہے وہ میرے لئے قابل فخر ہے 2010ء میں جب مسلم لیگ(ن) میں شامل ہوئے 2013ء کے انتخابات میں اپنے خون کا نذرانہ دیکر پارٹی کو 22ممبران کی اکثریت دلائی لیکن پھر بھی نواب ثناء اللہ زہری کے بجائے نیشنل پارٹی سے وزیراعلیٰ کا انتخاب کیا گیاجس پر ہم نے شدید احتجاج بھی کیا۔


انہوں نے کہا کہ ہم تمام ترزیادتیوں اور غلط فیصلوں کے باوجود بھی پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے میرے بھائی ڈاکٹرعمر کو بلوچستان بدر کرکے 21گریڈ افسر کو 19گریڈ میں تعینات کیا گیا جبکہ میرے بیٹے کو بھی صوبہ بدر رکھا گیا اور آج وہ ایک این جی اوز میں کام کر رہا ہے ۔


انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں ہمارے ارکان کو اپوزیشن کی طرح رکھا گیا جبکہ نواب ثناء اللہ زہری نے پشتونخواملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کو کئی گنا زیادہ عزت دی لیکن ہمیں ڈاکٹر مالک بلوچ اور محمود خان اچکزئی سے کوئی شکایت نہیں ہے۔


انہوں نے کہا کہ پانچ سالوں میں نواز شریف نے کوئٹہ اور گوادر کے علاوہ کہیں کا دورہ نہیں کیابلوچستان کے کسی فیصلے میں اعتماد میںنہیں لیا گیامیرا تعلق بلوچستان سے ہے اور مجھے فاٹا کا وزیر بنادیا گیامسنگ پرسنز کیلئے بھی بہت کچھ کرنا چاہتا تھا اور بہت کچھ کیا بھی جو اپنے حلف کی وجہ سے سامنے نہیں لاسکتا۔


انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے جلسے سے ایک دن پہلے کہا جاتا ہے کہ چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری جلسے میں نہیں آئیں گے وہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ رہے ہیں پارٹی کے سابق صدر تھے موجودہ رکن صوبائی اسمبلی ہیں اور سب سے بڑھ کرچیف آف جھالاوان ہیں انکے خلاف نہ کوئی نیب کیس ہے اور نہ ایف آئی اے کی انکوائری ہے لیکن پھر بھی ایک حکم سنادیا گیا کہ یہ پارٹی کا فیصلہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ نواب ثناء اللہ زہری میری درخواست پر جلسے میں شرکت کیلئے بیرون ملک سے آئے انکی شرکت جلسے اور پارٹی کیلئے اہم تھی لیکن بطور صوبائی صدر پارٹی نے میرے فیصلے کی بھی لاج نہیں رکھی نہ ہی مجھے نواب ثناء اللہ زہری کو جلسے میں روکنے پراعتماد میں لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اختر مینگل کی ناراضگی کو اہمیت د ی گئی جبکہ وہ قبائلی لحاظ سے بھی چوتھے ، پانچویں نمبر پر آتے ہیں وہ خود بھی یہ بات تسلیم کریں گے کہ نواب ثناء اللہ زہری قبائلی طور پر انکے بڑے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ میں نے فیصلہ کیا کہ نواب ثناء اللہ زہری نہیں ہونگے تو میں بھی جلسے میں نہیں جاؤں گا پارٹی کے سیکرٹری نے کہا کہ اب کیا طریقہ کار کیا جائے تو میں نے انہیں کہاکہ عزت کاطریقہ کار ہونا چاہئے ہمارا تعلق پارٹی سے ٹوٹ گیا ہے اب میں اس جماعت میں نہیں رہ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ میں نواب ثناء اللہ زہری کو انکے فیصلے میں آزاد چھوڑتا ہوں اوران سے کہتا ہوں کہ وہ پارٹی سے استعفیٰ نہ دیں اوراپنے حلقے کے عوام کی خدمت جاری رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز وزیراعظم اور بے نظیر بننے کے خواب دیکھ رہی ہیںلیکن انہوں نے کوئٹہ میں ہمارے ہی ورکروں اور خواتین کو عزت نہیں دی جس پر میں شرمندہ ہوں اورآج کارکنوں سے معذرت کرتا ہوں ۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے چیف آف آرمی اسٹاف اور ڈی جی آئی ایس آئی کا نام لیکر کہا کہ تمام مسائل کے ذمہ دار عمران خان نہیں بلکہ یہ دونوں ہیں اور انہوں نے پاک فوج کے ماتحت افسران اور اہلکاروں کو کہا کہ وہ ہر حکم پر جائزہ لیں کہ یہ آئینی ہے یا نہیں انہیں ماننا ہے یانہیں ۔

انہوں نے کہا کہ آج تک اکیس سال سے سپریم کورٹ یہ فیصلہ نہیں کرسکی کہ جنرل مشرف کے اقدامات آئینی تھے یا نہیں جب عدلیہ یہ فیصلہ نہیں کرسکی تو عام شخص کیسے کرسکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ فوجی حلف لیتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے ملنے والے ہرحکم کی تعمیل کریں گے انکا کام آئین کی تشریح نہیں ہے انہیں فیصلوں کی تعمیل کرنی ہوتی ہے فوج میں بغاوت کابیج بویا گیا اگر خدانخواستہ بغاوت ہوتی ہے تو پاکستان کی حالت لیبیا ،شام جیسی ہوجائے گی ۔

انہوں نے کہا کہ نواب ثناء اللہ زہری کے دور میںبلوچستان میں امن آیا اور انکے اور بلوچستان کے لوگوں کے لئے عزت کا مطالبہ کرنا ہمارا حق ہے پرویز رشید نے بیان دیا کہ میں نے قبائلی حیثیت میں پارٹی چھوڑنے کافیصلہ کیا ہے میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ قبائلی حیثیت میں تنازعہ ہوتا تو میں اس پر نظرثانی بھی کرتا لیکن جب بغاوت کی بات ہوتی ہے تو میرا باپ قبرسے بھی آجائے تو میں فوج کے خلاف نہیں جاسکتا اپنے پرانے خاندان یعنی افواج جو کہ مجھ سے ناراض ہے اپنی ماؤں ،بیٹیوں ،بہنوں کے لئے انکے پاس بھی جاوں گا اور مسنگ پرسنز کی بازیابی کیلئے کردار ادا کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ میری ہی یونٹ کے افسر ہیں میں انہیں جانتا ہوں انہیں آرمی چیف میاں نوازشریف بنایا اسوقت میں کابینہ میں تھاا س اہم ترین فیصلے پر بھی مجھ سے مشاورت نہیں کی گئی مسلم لیگ(ن) کا ساتھ چھوڑنے کی اصل وجہ افواج پاکستان پر الزامات اور فوج میں بغاوت کروانے کی کوشش ہے ۔

انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ 20اضلاع کے صدور ،ڈویژنل صدوربھی مستعفیٰ ہوئے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ علی مدد جتک اپنی پارٹی کا پیغام لیکر میرے پاس آئے تھے انہوں نے ہمیں عزت دی اور انکی بات ہم نے غور سے سنی لیکن اب تک کسی بھی جماعت میں شمولیت یا آزاد گروپ رہنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کے چار ارکان کے دستخط تحریک عدم اعتماد پر تھے جس پر نواز شریف سے تحفظات کا بھی اظہار کیا کہ انکے لوگ وفاقی حکومت میں بیٹھے ہیں لیکن اس پر بھی کسی قسم کی کارورائی نہیں ہوئی۔

%d bloggers like this: