پاکستان میں صدارتی نظام کا نفاذ سپریم کورٹ میں بڑا قدم اٹھا لیا گیا

اسلام آباد(آن لائن) امریکہ میں مقیم پاکستانی نے پاکستان میں صدارتی نظام کے نفاذ کے لئے آئینی پٹیشن سپریم کورٹ میں دائر کر دی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت عظمی وزیراعظم کو ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ کے لئے ریفرنڈم کرانے کا حکم دے تاکہ پاکستان کےعوام کی ‘ہاں’ یا ‘ناں’ کی صورت میں رائے جانی جائے اور اس کی روشنی میں ملک سے پارلیمانی نظام ختم کرکے صدارتی نظام رائج کیاجائے کیونکہ پاکستان اور اس کے عوام کو درپیش بحرانوں اور مسائل سے مستقل نجات کا راستہ صرف صدارتی نظام کے نفاد سے ہی

نکل سکتا ہے۔ نیویارک میں مقیم پاکستانی حفیظ الرحمن چوہدری نے یہ آئینی پٹیشن آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت ملک کے معروف آئینی وقانونی ماہر خالد عباس خان ایڈوکیٹ کی وساطت سے سپریم کورٹ میں دائر کی ہے, پیر کو سپریم کورٹ میں پٹیشن داِئر کرنے کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے معروف قانون دان خالد عباس خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ اس پٹیشن میں وفاق پاکستان، وزیراعظم، پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان گورنرز اور وزرائ اعلی کو فریق بنایاگیا ہے۔ درخواست میں کہاگیا ہے کہ 1973 (کے دستور) میں پارلیمانی نظام حکومت پاکستان کے لوگوں پر نافذ کیاگیا جس کا نتیجہ ملک میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی صورت نکلاہے کیونکہ پاکستان کے لوگوں کو اس سیاسی انصاف سے محروم کردیاگیا ہے جس کی ضمانت آئین کے آرٹیکل 2(a) میں فراہم کی گئی ہے۔ درخواست کے ہمراہ پاکستان میں صدارتی نظام کے نفاذ کا عملی خاکہ بھی جمع کرایاگیا ہے۔ درخواست کےمطابق1973ئ کے آئین کا آرٹیکل 2(a) بیان کرتا ہے کہ ”ریاست اپنا اختیار عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔” آئین میں کوئی پابندی نہیں کہ انتظامیہ اور مقننہ صدارتی یا پارلیمانی نظام سے منتخب کی جائے۔ پٹیشن میں عوام کے بنیادی حقوق کےاطلاق کے حوالے سے عوامی اہمیت کا سوال اٹھایاگیا ہے۔ 1973 کے آئین کا آرٹیکل 2(a) بیان کرتا ہے کہ ریاست کے اندر” قانون کے سامنے یکساں حق، مساوات وبرابری، سماجی، معاشی اور سیاسی انصاف اور اظہار رائے، عقیدے وسوچ، عبادت واجتماع کی آزادی سمیت بنیادی حقوق کی قانون اور اخلاق عامہ کے تقاضوں کے مطابق ضمانت ہوگی۔”درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ کسی ملک کے عوام کواگر سیاسی انصاف نہ ملے تو وہ معاشی اور سماجی انصاف بھی حاصل نہیں کر پائیں گے۔ لہذا ملک عالمی سطح پر بھی سیاسی، معاشی اور سماجی انصاف حاصل نہیں کرپائے گا۔ انڈیا کی تقسیم کے بعد پاکستان ایک نئی،خودمختار اور آزاد ریاست کے طورپر وجود میں آیا۔انڈیا کے آزادی ایکٹ مجریہ 1947 کے سکیشن 8 کے تحت حکومت ہند ایکٹ 1935 بعض تغیر وتبدل اور موافقت کے ساتھ عبوری آئین پاکستان بن گیا۔ چونکہ 1935 کے ایکٹ کے اندر بعض شقیں موجود نہیں تھیں جو ایک آزادریاست کی آئینی حکومت کے لئے درکار تھیں لہذا ایک نئی آئین ساز اسمبلی بنی تاکہ آئین بنایا جائے۔ آئین سازی کا عمل 9 سال تاخیر کا شکار ہوا جو درحقیقت بہت ہی افسوسناک صورتحال تھی۔ اس تاخیر کی وجہ ترجیحات کی کمی، سیاسی کھینچا تانی اور اسمبلی کے ارکان کےدرمیان غیرضروری لڑائیاں اور تکرار تھی۔ حقیقت میں بعض ارکان پارلیمان نے آئین سازی کو ذریعے کے طورپر استعمال کیا۔ وہ محلاتی سازشوں میں الجھے رہے اور اپنے فروعی مفادات کی خاطر کابینہ تحلیل کردیں۔ پاکستان کا نیا آئین بنانے کے بجائے ان کی توجہ نسل پرستیاور اپنے حلقوں کے معمولی مقامی معاملات پر مرکوز رہی۔درخواست گزار کے مطابق پاکستان نے کسی آئین کے بغیر 14 اگست 1947 کو جنم لیا۔ آئین کی غیر موجودگی 1971ئ میں مشرقی پاکستان کے سقوط کی بنیادی وجہ تھی۔ درخواست میں کہاگیا کہ 1956 کا دستور ناجائز ہےکیونکہ اس کی منظوری1955 میں نامزد ہونے والی اسمبلی نے دی جبکہ 1962 کا دستور بھی ناجائز تھا کیونکہ اس کی منظوری ایک آمر (ایوب خان) نے دی تھی۔ یہ دستور عوام کی رائے کا مظہر نہیں تھا۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ 1973 کے آئین میںحکومت منتخب کرنے سےمتعلق سنگین ڈھانچہ جاتی سقم ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا اور اس کے نتیجے میں 1977، 1999 اور 2007 کے قومی بحرانوں نے جنم لیا پارلیمانی نظام کی ناکامی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے پٹیشن میں کہاگیا کہ یہ اقلیت کی حکمرانی کا نظامہے۔ 1947 سے آج تک پاکستان کے عوام کو سیاسی انصاف سے محروم رکھا جارہا ہے۔ ان پر وہ سیاسی جماعتیں حکمرانی کررہی ہیں جو 51 فیصد سے کم مقبول ووٹ حاصل کرتی ہیں۔ مثال کے طورپر حکمران جماعتوں نے 2008، 2013 اور 2018ء میںبالترتیب 25.6 فیصد، 32.7 فیصد اور 31.8 فیصد مقبول ووٹ حاصل کئے۔ اقلیت کی حکمرانی جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ صدارتی نظام میں صدر، گورنر اور ضلعی مئیر کے لئے 51 فیصد ووٹ لینا لازم ہے۔ پارلیمانی نظام میں ہم مقننہ کے ارکان کو منتخب کرتے ہیں لیکن وہانتظامیہ بھی بن جاتے ہیں۔ پاکستان کے عوام کو اپنی انتظامیہ اور قانون سازی کرنے والے افراد کو الگ الگ منتخب کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ صدارتی نظام میں عوام کو اہلیت اور معیار کی بنیاد پر قانون سازی کرنے والے نمائندوں اور انتظامیہ کا الگ الگ انتخاب کرنے کا موقع ملتا ہے۔درخواست گزار کے مطابق پارلیمانی نظام پاکستان جیسے معاشرے میں سیاسی انتشار کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو زبان اور مذہبی فرقوں میں تقسیم ہے۔ یہ سیاسی انتشار 2008، 2013 اور 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں ثابت ہوچکا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے انتخابی نتائج ملک میں سیاسی انتشار کو ظاہر کرتے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابقصدارتی نظام میں ہر صوبے کے ہر فرد کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے معیارات کی بنیاد پر مقبول ووٹ حاصل کرے۔ اس سے سیاسی انتشار کا خاتمہ ہوگا جو مذہبی یا لسانی فرقوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ موقف اختیار کیاگیا کہ پارلیمان میں تقریبا 25 فیصد خصوصی نشستیں قانونی کرپشنکی بنیاد ہیں اورپاکستان کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے (آرٹیکل 51(3) )۔ پاکستان کے عوام کو ان کے سیاسی انصاف سے محروم کیاگیا ہے۔ صدارتی نظام میں پارلیمان میں کوئی خصوصی نشستیں نہیں ہوں گی۔ سینیٹرز کا بلاواسطہ انتخاب پاکستان کے عوام کے ساتھ دھوکہ دہی ہےجس میں ان کا ووٹ شامل نہیں کیاجاتا۔ پاکستان ایک وفاق ہے اور وفاق کو مضبوط بنانے کے لئے سینٹ کا موافق انداز میں چلنا وفاق پاکستان کی تقویت کے لئے ضروری ہے۔ صدارتی نظام میں ارکان سینٹ کا براہ راست انتخاب ہوگا۔ موجودہ سینٹ کے پاس کم اختیار ہےجس کے نتیجے میں وفاق کمزور ہے۔ (آرٹیکل 59(1) )صدارتی نظام میں سینٹ زیادہ طاقتور ہوگی اور وفاق کو مضبوط رکھے گی۔ موجودہ پارلیمانی نظام میں آزاد حیثیت میں جیت کر آنے والے ارکان قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی اپنی وفاداریاں فروخت کرتے ہیں اور ایک اکثریتیجماعت کو اقلیت میں بدل دیتے ہیں مثال کے طورپر 2018 کے پنجاب کے انتخابی نتائج کو ملاحظہ فرمائیں۔ صدارتی نظام میں سیاسی جماعت کے ماسوا کوئی آزاد امیدوار نہیں ہوگا۔ درخواست میں کہاگیا کہ پارلیمانی نظام میں ضمنی انتخاب وقت اور سرمائے کا ضیاع ہے جس کابوجھ پاکستان کے عوام اٹھاتے ہیں۔ صدارتی انتخاب میں کوئی ضمنی انتخاب نہیں ہوگا۔ صدارتی نظام کے حق میں دلائل بیان کرتے ہوئے کہاگیا کہ پاکستان جیسے کئی نسلوں اور کئی زبانوں کے ملک میں صدارتی نظام زیادہ اتحاد پیدا کرتا ہے۔ امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں صدارتینظام رائج ہے۔ اس نظام کے ذریعے پاکستان کا کوئی بھی شہری جس میں عوام کے لئے کشش ہو، بہتر پالیسیاں اور اچھی ٹیم ہو تو وہ پاکستان کا صدر بن سکتا ہے۔ صدارتی نظام طاقتور سینٹ کے ساتھ ایک مضبوط وفاق بناتا ہے اور صوبوں میں مساوات لاتا ہے۔گزشتہ 30 سال میں وجود میںآنے والے زیادہ تر ممالک میں صدارتی نظام رائج ہے۔ موقف اختیار کیاگیا کہ صدارتی نظام میں صدر کو عوام کے براہ راست ووٹ سے منتخب کیاجاتا ہے اور اسے زیادہ مقبول ووٹ ملتے ہیں۔ اس طرح سے صدر کا اختیار بلواسطہ نامزد ہونے والے رہنما کے مقابلے میں زیادہ جائز ہوتا ہے۔انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ صدارتی نظام کے تین بنیادی ستون ہیں۔ اختیارات کی اس تقسیم سے توازن رہتا ہے اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے بچا جاسکتا ہے۔ صدر، گورنرز اور ضلعی مئیرز وفاقی، ریاستی اور ضلعی سطح پر زیادہ بہتر اور موثرانداز میں اچھی حکمرانی فراہم کرسکتے ہیں۔صدر کو آزادانہ اختیار ہوگا کہ وہ قابل اور اہل افراد کو چن سکے اور انہیں اپنی کابینہ کا رکن بناسکے۔ صدارتی نظام کے ذریعے زیادہ بہتر قانون سازی کرنے والے افراد کولانے میں سہولت ہوگی جبکہ عدالتی نظام بہتر، شفاف اور فوری انصاف کی فراہمی کے قابل ہوسکے گا۔ درخواست میں عدالت عظمی سے استدعا کی گئی کہ زیر نظر معاملہ وزیراعظم پاکستان کو بھجوایا جائے کہ وہ 1973 کے آئین کے آرٹیکل 48 (6) کے تحت ملک میں ریفرنڈم کرائیں اور ‘ہاں’ یا ‘ناں’ کے انداز میں رائے شماری کرائیں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: