پشاور میں خواتین پولیو ورکرز مبینہ طور پر جنسی ہراسانی کا شکار: ملزم افسر کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ

خیبر پختون خوا کے شہر پشاور کی یونین کونسل حیات آباد کی خواتین ورکرز ادارے میں مرد ساتھیوں کی جانب سے مسلسل جنسی ہراسانی کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کررہی ہیں اور اتوار کے روز انھوں نے پشاور میں خواتین کو ہراسا ں کرنے کے خلاف ایک مظاہرہ بھی کیا۔

احتجاج میں شریک مظاہرین نے کہا کہ خواتین کو اپنے اعلی افسران کی جانب سے فون کالز اور غیر اخلاقی مطالبات ماننے پر مجبور کیا جارہا ہے اور جو انکار کرتی ہیں ان کو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ خواتین پولیو ورکرز نے کہا کہ سینئر پولیو افسران مہم ڈیوٹی کے بعد فون کالز کرتے ہیں اور کسی بھی وقت ملنے کیلئے ہراسا ں کرتے ہیں۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ افسران پولیو مہم کے دوران ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ افسران کے نازیبا رویے سے کئی خواتین پولیو ورکرز ذہنی تناو کا شکار ہوچکی ہیں مگر ادارے کے اندر سنوائی نہیں ہوتی اور نہ ہی شکایت کرنے کے بعد کوئی ایکشن لیا جاتا ہے۔

نیا دور میڈیا کے پاس موجود ایک دستاویز جو خواتین ورکرز کی جانب سے وزیر صحت خیبر پختونخوا کو بھیجی گئی ہے میں ہراسانی کا شکار خواتین نے موقف اپنایا ہے کہ ادارے میں کام کرنے والے سہیل احمد نامی ملازم خواتین ورکرز کو مسلسل ہراساں کرررہا ہے لیکن جب ہم شکایت کرتے ہیں تو افسر جواب دیتے ہیں کہ اسکو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا کیوںکہ اس کے ہاتھ بہت لمبے ہیں اور آپ خواتین ورکرز جوتے کے برابر ہیں۔

درخواست میں مزید لکھا گیا ہے کہ ہم نے ایک شکایت اس سے پہلے بھی ادارے میں جمع کرائی ہے مگر کوئی سنوائی نہیں ہوسکی اور ہماری ایک دوست کو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ انھوں نے ادارے میں مختلف لوگوں کو شکایت کی مگر کسی نے بات نہیں سنی اس لئے ہم نے میڈیا کے ذریعے آواز بلند کی مگر پھر بھی ہمیں ہراساں کرکے نوکریاں چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ پشاور حیات آباد پولیو ورکرز نے گزشتہ روز احتجاج بھی کیا اور ملوث افسران کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب اس مسئلے پر جب پشاور کے ایک مقامی صحافی نبی جان اورکزئی نے پولیو ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے کوآرڈینیٹر عبدالباسط سے اس حوالے سے موقف جاننے کی کوشش کی تو انھوں نے صحافی کو دھکمیاں دیں جس کے سکرین شاٹس شوشل میڈیا پر گردش کررہے ہے۔

خیبر یونین آف جرنلسٹس نے پولیو ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے کوآرڈینیٹر عبدالباسط کی جانب صحافی نبی جان اورکزئی کو دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتنی ذمے دار سیٹ پر بیٹھ کر غیر مناسب رویہ اختیار کرنا ایک افسر کو زیب نہیں دیتا۔ قومی اور بین الاقوامی ادارے یہ جانتے ہیں کہ پولیو مہم کی کامیابی میں اہم کردار صحافیوں کا ہے اگر واقعے پر ایکشن نہ لیا گیا تو بائیکاٹ سمیت تمام آپشن استعمال کئے جائیں گے۔

خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر فدا خٹک اور جنرل سیکرٹری محمد نعیم نے کہا ہے کہ پولیو ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے کوآرڈینیٹر عبدالباسط کی جانب سے کے ایچ یو جے کے ممبر اور صحافی نبی جان اوکزئی کو فون کرکے دھمکیاں دینا اور غیر مناسب الفاظ استعمال کرنا انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔ یونین نے واضح کیا ہے کہ فوری طور پر متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی عمل میں نہ لائی گئی تو نہ صرف بائیکاٹ کا آپشن استعمال کرینگے بلکہ احتجاج بھی کیا جائے گا۔

نیا دور میڈیا نے پولیو ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے کوآرڈینیٹر عبدالباسط سے موقف لینے کی کوشش کی تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا جبکہ پولیو انتظامیہ کے ایک افسر نے بتایا کہ ان کو میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں لیکن اس تمام واقعے کو دیکھا جارہا ہے اور دو کمیٹیاں بنا دی گئی ہے اور جو بھی ملوث پایا گیا ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

عبداللہ مومند اسلام آباد میں رہائش پذیر ایک تحقیقاتی صحافی ہیں۔

%d bloggers like this: