پلازہ جل گیا کچھ نہ بچا ۔۔۔ حفیظ سنٹر اور اسکی تاریخ کیا ہے؟ جانیے

لاہور(ویب ڈیسک) سانحہ حفیظ سنٹر، خوفناک آتشزدگی نے سینکڑوں دکانوں کو جلا کر ہزاروں افراد کا ذریعہ معاش ختم کردیا، یہ بدقسمت پلازہ 1992 میں شیخ کبیر اور شیخ قدیر نامی دوبھایئوں نے تعمیر کیا، پلازے میں واقع ایک ہزار سے زائد دکانوں سے ہزاروں تاجروں اور انکےملازمین کا روزگار وابستہ تھا۔



اتوار کے روز خوفناک آتشزدگی نے حفیظ سنٹر میں سینکڑوں دکانوں کو جلا کر راکھ کردیا، جس سے ہزاروں خاندانوں کا ذریعہ معاش بھی ختم ہوگیا۔ یہ بدقسمت پلازہ 1992 میں شیخ کبیر اور شیخ قدیر نامی بھایئوں نے تعمیر کیا۔ اس کا کل رقبہ 17 کنال ہے جبکہ اس میں 1 ہزار سے زائد دکانیں ہیں۔صدر حفیظ سنٹر ملک کلیم کے مطابق حفیظ سنٹر میں روزانہ کی بنیاد پر 15 سے 20 کروڑ روپے کا کاروبار ہوتا ہے، اس پلازے سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ تھا۔پلازے کے متاثرہ تاجروں نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر ازالہ کیا جائے، تاکہ متاثرہ تاجر دوبارہ کاروبار شروع کرنے کے قابل ہوسکیں۔







%d bloggers like this: