پنجاب حکومت کا قابلِ تحسین اقدام۔!! چینی کی کمرشل فروخت پر پابندی، گھریلوں صارفین کیلئے زبردست ریلیف کا اعلان

لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب حکومت نے اگلے ماہ کیلئے صوبے میں قائم شوگر ملوں پر چینی کی صنعتی و کمرشل فروخت پرپابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف سیکرٹری جواد رفیق ملک کی زیرصدارت اعلیٰ حکام کے اجلاس میں ملزکو گھریلو صارفین کیلئے چینی کی سپلائی ڈبل کرنیکا حکم دیدیاگیا،



نجی ٹی وی کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ صوبائی حکومت کے فیصلے کے تحت مٹھائی،بچوں کی گولی ٹافی بنانے کی انڈسٹری،حلوائیوں،بیکریوں،بیوریجزسازفیکٹریوں اورادویہ سازکمپنیوں کوبھی چینی کی فروخت کرنا جرم کے مترادف ہوگا،واضح رہے ملک بھر میں چینی کی ماہانہ اوسط کھپت تقریباً ساڑھے 4 لاکھ ٹن جبکہ پنجاب کی 3 لاکھ ٹن ہے ،پنجاب میں چینی کی ماہانہ 70 فیصد (2 لاکھ 10 ہزار ٹن)کھپت کمرشل یا صنعتی ہے جبکہ گھریلو استعمال صرف30 فیصدیعنی 90 ہزار ٹن ہے ۔ساری چینی گھریلو صارفین کودئیے جانے پر عام آدمی کے لئے چینی کا بحران ختم ہونے کے ساتھ ساتھ چینی کی قیمت میں بھی 20روپے فی کلو گرام تک کمی کا امکان ہوگا لیکن چینی کی عدم دستیابی پرکئی فیکٹریوں میں عارضی شٹ ڈاؤن سے لاکھوں افراد کے بیروزگارہونے کے خدشات بھی ہوں گے ،دوسری طرف پنجاب حکومت نے معمول سے ہٹ کر اس سال شوگر ملز کو 10 نومبر سے گنے کی کرشنگ شروع کرنے کا حکم دیا ہے ، ایسا نہ کرنے والی ملز کو روزانہ کی بنیاد پر جرمانے ہونگے ،دریں اثنا کسان کونسل پاکستان کے سربراہ طاہر گجر نے 10 روپے اضافے کیساتھ گنے کی مقرر کی جانیوالی علامتی قیمت 200 روپے فی من کو ناکافی قرار دیا اور کہا کہ چینی کی موجودہ قیمت 100 روپے فی کلو گرام سے بھی بڑھ چکی ہے جبکہ گنے کی قیمت 55 روپے فی کلوگرام چینی کے مطابق مقرر کی گئی ہے ۔







%d bloggers like this: