پولیس کے طرز عمل سے ثابت ہوا ریاست ناکام ہوگئی ،ملزم آگ لگانے کیلئے پیٹرول مانگے گا دے دیں گے، عدالت کا برہمی کا اظہار

لاہور( این این آئی)احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز ریفرنس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے ہیں کہ پولیس کے طرز عمل سے ثابت ہوا کہ ریاست ناکام ہوگئی جبکہ فاضل عدالت نے پولیس سے استفسار کیا آپ کی تاریخ میں کب ایسا ہوا کہ ملزم نے انکار کردیا ہو کہ وہ نہیں جائے گا۔احتساب عدالت کے جج امجد نذیر چوہدری نے سماعت کی ۔ جیل حکام کی جانب سے حمزہ شہبازکو بکتر بند گاڑی میں عدالت پیشی کے لئے لایا گیا ۔ دوران سماعت فاضل عدالت نے استفسار کیا گزشتہ سماعت پر ملزم کو کیوں پیش نہیں کیا گیا؟۔

سپرنٹنڈنٹ جیل نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے پولیس کے حوالے کردیا تھا، ایس پی ہیڈ کوارٹرز نے بتایا کہ ملزم نے بکتر بند گاڑی دیکھی تو بیٹھنے سے انکار کردیا۔عدالت نے کہا کہ آپ کی تاریخ میں کب ایسا ہوا کہ ملزم نے انکار کردیا ہو کہ وہ نہیں جائے گا؟۔ ایس پی ہیڈ کوارٹرز نے جواب دیا یہ تاریخ میں کبھی نہیں ہوا، پہلی مرتبہ ہوا اور اس کی ذمہ داری ملزم پر ہے۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ اگر ملزم آپ سے آگ لگانے کے لیے پیٹرول مانگے گا تو آپ دیدیں گے؟، آپ کے اس طرز عمل سے ثابت ہوا کہ ریاست ناکام ہو گئی ہے، اس کے بعد کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ آپ کو ذمہ داری دی جائے۔عدالت نے ایس پی ہیڈ کوارٹرز کے عدالت میں پیشی کے طریق کار پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ پہلے کبھی کسی عدالت میں پیش ہوئے ہیں؟، کیا آپ یہاں کوئی جھگڑا کرنے آئے ہیں جو آستین کی کفیں اوپر ہیں۔ ایس پی ہیڈ کوارٹرز نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ اس حوالے سے تحقیقات ہو رہی ہیں جو بھی ذمہ دار ہوا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔دوران سماعت فاضل عدالت نے حمزہ شہباز سے کہا آپ کچھ کہیں گے جس پر حمزہ شہباز نے عدالت میں موقف اپنایا کہ میں 17 ماہ سے عدالتوں میں پیش ہو رہا ہوں،گزشتہ سماعت کے لیے بھی میں بروقت جیل کے باہر نکل آیا تھا اور انکار نہیں کیا تھا، پولیس جان بوجھ کر میرے لیے بکتر بند گاڑی لائی، سب کو علم ہے میری کمر میں شدید تکلیف ہے، میں گاڑی کے لیے ڈھائی گھنٹے انتظار کرتا رہا اور پولیس والوں کو کہا کہ گاڑی تبدیل کرلیں اور عدالت لے کر چلو، کورونا وائرس میں جیل میں جیسے رہا ہوں میرا اللہ جانتا ہے، 17 ماہ تک مجھے بلٹپروف گاڑی میں پیش کیا جاتا رہا، اب اچانک سے میرے لیے بکتر بند گاڑی آئی۔ایک شخص منہ پر ہاتھ مار کر کہتا ہے کہ میں اب دیکھ لوں گا۔ جس پر فاضل جج نے حمزہ شہباز کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ یہاں سیاسی بات نہ کی جائے، عدالت میں قانون کی بات کریںاپنی صفائی میں اور کچھ کہنا ہے تو کہو۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ میں سیاسی بات نہیں کرنا چاہتا ۔عدالت نے حمزہ شہباز شریف کےجوڈیشل ریمانڈ میں مزید 17 نومبر تک توسیع کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہبازشریف کوپیش نہ کرنے کے حوالے سے رپورٹ کے متعلق آندہ سماعت پر فیصلہ کریں گے ۔فاضل عدالت نے ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ کو حکم دیا کہ آپ اس کو یقینی بنائیں کہ قانونی ظابطے میں کام ہو، قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں، عدالت یہ کیا طریقہ ہے کہ کسی کے لیے قانون کچھ اور ہے اور کسی کے لیے کچھ اورہو،میں تمام افسران کی رپورٹ کا جائزہ لوں گا ۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: