پولیس کے ہاتھوں ریپ ہونے والی لڑکی کا باپ کہتا ہے بیٹی کے لئے لڑوں گا۔ بوڑھے باپ کب تک لڑتے رہیں؟

لاہور کے پولیس سربراہ سی سی پی او عمر شیخ پر جب ہر طرف سے یہ تنقید کی جا رہی تھی کہ انہوں نے موٹروے ریپ کا شکار ہونے والی خاتون کو ہی نصیحتیں کر کے یہ تاثر دیا تھا کہ جیسے اس خاتون کا گھر سے نکلنے کے وقت کا تعین اور راستے کا انتخاب ہی اس کے ساتھ ہوئے جرم کی اصل وجہ تھا تو حکومتی اہلکاروں کی جانب سے اس پر کہیں کہیں تو حمایت بھی کی گئی اور زیادہ تر نے ان کے بیان سے دوری بنانے کے باوجود ان کو ہٹائے جانے کے مطالبات کو یہ کہہ کر رد کرنے کی کوشش کی کہ انہوں نے کون سا جرم کیا ہے۔ صرف پی ٹی آئی کی خواتین ارکان تھیں جنہوں نے اس حوالے سے عمر شیخ کو بھرپور تنقید کا نشانہ بنایا۔ خود وزیر اعظم عمران خان نے واضح طور پر عمر شیخ کا ساتھ دیا اور انہیں اپنی جگہ پر برقرار بھی رکھا۔

اس تمام عرصے میں ان کی برطرفی کا مطالبہ کرنے والوں کو بار بار الزام دیا جاتا رہا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کے ایجنڈے پر ہیں، وہ ن لیگ سے پیسے لیتے ہیں اور یہ بھی کہ وہ مغرب کا ایجنڈا یہاں نافذ کرنا چاہتے ہیں اور ان کو وہاں سے اسی بات کے فنڈز ملتے ہیں کہ وہ ان معاملات کو یہاں پر اچھالیں۔ انہیں بار بار بتایا جاتا رہا کہ جب ملک کے سب سے بڑے صوبے کے دارالحکومت کا پولیس چیف یہ باتیں کرتا ہوگا، ایسے نظریات رکھتا ہوگا تو اس سے نچلے درجے پر موجود پولیس افسران کی ذہنی کیفیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان کے اوپر اس حوالے سے سخت ترین فیصلے لینے والا ایک پولیس افسر ہونا چاہیے جو ایسے معاملات پر قطعاً نرمی نہ برتتا ہو۔ لیکن اس نصیحت کو سازش سے تعبیر کیے جانے کا سلسلہ نہ تھم سکا۔

اور بالآخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ 21 ستمبر کی صبح سامنے آنے والی ایک ویڈیو کے مطابق گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو پولیس اہلکاروں نے ہی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ جی ہاں، اس خاتون نے اپنی مدد کے لئے 15 پر کال کی تو جو اہلکار اس کی مبینہ طور پر مدد کرنے کو آیا، اس نے اس کو ہی ریپ کا شکار بنا ڈالا۔

اطلاعات کے مطابق یہ خاتون گوجرانوالہ کی رہائشی ہیں اور انہوں نے 9 ستمبر کو 15 پر کال کر کے شکایت درج کروائی تھی کہ کچھ لوگوں نے نہ صرف ان کو زور زبردستی کا نشانہ بنایا بلکہ ان کے کپڑے بھی پھاڑ دیے۔ مبشر نامی ایڈیشنل سب انسپیکٹر جب تفتیش کی غرض سے 10 ستمبر کو آیا تو اس نے اس خاتون کو ہی ریپ کا نشانہ بنا ڈالا۔

خاتون کے مطابق یہ معاملہ جب اس نے ڈی پی او تک پہنچایا جو کہ ضلعے کا سب سے بڑا پولیس افسر ہوتا ہے تو اس کو انہوں نے سمجھایا کہ تم میری بھانجی ہو، تمہیں انصاف مل جائے گا، بس تم ایف آئی آر میں سے یہ الزامات واپس لے لو، انہوں نے مجھے انصاف نہیں دیا۔

یہ خاتون اپنا دکھ بیان کر رہی تھیں تو ان کے ایک طرف ان کے والد اور ایک طرف ان کی والدہ بیٹھی تھیں۔ والدہ کی آنکھوں میں آنسو تھے لیکن والد وہیں سر جھکائے بیٹھے رہے۔ ٹوئٹر صارف جنہوں نے خاتون کے والد سے بات کی بتاتے ہیں کہ ان کے والد نے ہر حال میں اپنی بیٹی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں کوئی بہت پڑھا لکھا آدمی نہیں ہوں لیکن اتنا تعلیم یافتہ ضرور ہوں کہ یہ سمجھتا ہوں کہ اس ریپ میں میری بیٹی کا کوئی قصور نہیں۔ اور مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اگر اس کی کبھی شادی نہ ہو پائے، میں اسے گھر پر بٹھا کے رکھ سکتا ہوں۔ میں اس کی حفاظت کرنے میں ناکام رہا اور میں اس کے سامنے بیٹھ کر رو کر نہیں دکھاؤں گا۔ میں اس کے لئے لڑوں گا

خدا کا شکر کہ اس بیٹی کے ساتھ کم از کم اس کا باپ تو کھڑا ہے۔ کوئی غیرت کے نام پر قتل کرنے والا ذہنی مریض اس کا باپ نہیں۔ لیکن کب تک اس ملک کے ادارے اپنے جرائم پیشہ اہلکاروں اور افسران کے آگے ڈھال بنتے رہیں گے؟ عمر شیخ اپنی نااہلی کو مظلوم کے سر تھوپ رہے تھے تو گوجرانوالہ کے ڈی پی او اپنے ماتحت کو بچانے کے لئے لڑکی کو الزامات واپس لینے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ اور ہمارے وہ وزیر اعظم جو ریاستِ مدینہ کی مثالیں دیتے ہیں، کبھی اس لئے مطمئن ہو جاتے ہیں کہ کوئی جرم نہیں کیا اور کبھی انہیں اپنے ہی اوپر لگے الزامات کی خود ہی صفائی دے کر رام کر لیا جاتا ہے۔

اب دیکھیے ڈی پی او پر لگے اس سنگین الزامات پر کوئی کارروائی ہوگی یا یہاں بھی یہی راگ الاپا جائے گا کہ ڈی پی او نے کوئی جرم نہیں کیا۔

علی وارثی نیا دور میڈیا کے ویب ایڈیٹر ہیں؛ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے

%d bloggers like this: