پچھلے سال پیش آنے والے واقعات نے طے کر دیا کہ ہم نے اس سال بھی کیا کرنا ہے

سال کے چند روز میں پیش آنے والے واقعات نے ہماری روش طے کر دی ہے کہ ہم نے آنے والے سال میں کیا کرنا ہے؟ اور یہ کوئی گزرے سال کی بات نہیں ہے یہ 73 سالوں کا دکھ بھرا قصہ ہے۔ کرک خبیر پختونخوا میں تاریخی مندر اور سمادی کو نذر آتش کیا گیا اور اس وقوعہ میں شریک جمیت علماء اسلام کے کارکن اور مقامی تنظمی عہدے دار بھی شامل ہیں مگر آفرین ہے پی ڈی ایم کی قیادت پر اس نے اس واقعے پر کوئی بیان نہیں جاری کیا  نہ مذمت کا اظہار کیا۔

اور نہ دوران اجلاس مولانا فضل الرحمان سے اس بابت پوچھا گیا۔ پی ڈی ایم میں عوامی نیشنل پارٹی پیپلز پارٹی جیسی سیکولر سیاسی سوچ کی دعوے دار جماعتیں موجود ہیں مگر سب کے منہ بند تھے۔  سب رائے ونڈ میں  ہوئے والے اجلاس میں شرکت کر کے اور کھانا کھا کر واپس آگئے۔ مولانا فضل الرحمان نہ صرف اجکل جمہوریت کے نئے اوتار بن کر سامنے آرہے ہیں بلکہ بائیں بازو اور سول سوسائٹی کے اکثر اکابرین کو بھی انکی نظر میں اہک نیا چی گویرا نظر آرہا ہے۔ ہمارے بائیں بازو کی سیاسی بصیرت کا یہ عالم ہے کہ پہلے ذوالفقار علی بھٹو پھر نواز شریف اور اب فضل الرحمان میں وہ لینن تلاش کر رہے ہیں کیا اس سیاسی بصیرت کے حامل افراد سے کسی سیاسی کامیابی کی توقع کی جا سکتی ہے؟ ہرگز نہیں!

اور اسی بائیں بازو کی سوچ کے حامل لوگوں سے ابھی بھی سیاسی کامیابی کی توقع رکھتے ہیں وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، اب ذرا مندر جلانے والے واقعے کے بین الاقوامی سطح پر نقصانات پر کا جائزہ لیں۔ ایک تو اب تک ہم گرے لسٹ سے باہر نہیں نکل سکے دوسرا وزیراعظم عمران خان اور وفاقی اور صوبائی وزراء ہر وقت ایک ہی راگ الاپتے رہتے ہیں۔ یہی کہ پاکستان اقلیتوں کے لیے محفوظ ملک ہے۔ کرک کا واقعہ اس حکومتی بیانے کی موت ہے۔ مسئلہ صرف حکومتی سطح  پر بیان دینے سے حل نہیں ہو گا۔ سپرہم کوٹ آف پاکستان نے مندر جلانے کے واقعے پر ازخود نوٹس لیا ہے دیکھیں اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے اس میں کوئی شک نہیں اس نوٹس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے ،مگر دیکھنا یہ ہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بدقسمتی سے وطن عزیز میں تواتر سے ایسے واقعات وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔ ایک طرف ہماری توپوں کا رخ بھارت کی طرف ہے کہ بھارت میں فسطائی حکومت قائم ہے اور وہ ہند توا کے فلسفے پر عمل درآمد ہے اور بھارت اقلیتوں کے لہے جنہم بن گیا ہے چلو بھارت تو جو ہے سو ہے۔ ہم کس سمیت جا رہے ہیں ہم کیا کر رہے ہم قومی پرچم میں سفید رنگ کے امینوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں؟ 73 سالوں میں اقلیتوں کی بہت بڑی تعداد یہ ملک چھوڑ چکی ہے اسکے برعکس بھارت میں ایسا نہیں ہے مگر ہم اس نکتے پر سوچنے کو تیار نہیں ۔ اپنی خود احتسابی کیلئے تیار نہیں اور دوسرے ممالک پر الزامات لگاتے ہیں اور اپنے حالات سے نظریں چرا رہے ہیں۔

دوسرا اہم واقعہ 31 دسمبر کی رات لاہور پولیس نے سگے بہن بھائی کے ساتھ بدتمیزی کی اور انکو کان پکڑوا اٹھک بیٹھک کروائی۔  یہ اپنے طرز کی ایک گھٹیا ترین حرکت ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا پنجاب پولیس میں اصلاحات نافذ کرنے کا خواب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ خبیر پختونخوا میں پولیس اصلاحات کامیابی سے نافذ کرنے والی تحریک انصاف کی حکومت پنجاب ڈھائی سال میں متعدد آئی جی اور سی سی پی او لاہور تبدیل کرنے کے باوجود اب تک پنجاب پولیس کا قبلہ درست نہیں کر سکے۔

سال نو کی تقریبات دنیا بھر میں منائی جاتی ہیں۔ لوگ چند گھنٹے خوشیاں منا کر اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں ایک ہم ہیں جو خوشیاں منانے پر پابندی عائد کر دیتے ہیں۔ رات گئے چند گھنٹے سڑکوں پر اگر ہجوم جمع ہوکر نئے سال کو خوش آمدید کہہ دے گا تو اس سے کیا ہو جائے گا؟ ایک طرف نفرت پھیلانے والوں کو کھلی چھوٹ دینا دوسری طرف خوشیاں منانے والوں کو گرفتار کرنا یہ ہے ہماری پولیس اور حکمران طبقے کا وطیرہ۔ گزشتہ سال کے آخری دنوں میں پیش آنے والے واقعات نے ہماری روش طے کر دی کہ ہم نے اس سال بھی کیا کرنا ہے؟

%d bloggers like this: