پی سی بی کا نیا چیف سلیکٹر کس ملک سے ہو گا؟ انضمام الحق نے احسان مانی کی پالیسیوں کا بھانڈہ پھوڑ دیا

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور سابق چیف سلیکٹر انضمام الحق نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے نئے چیف ایگزیکٹو کا زیادہ اعتماد ان لوگوں پر جنہوں نے انگلینڈ میں کچھ وقت گزرا ہو اور نیا چیف سلیکٹر بھی ایسا ہی ہوگا۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق نے مصباح الحق



کی جانب سے چیف سلیکٹر سے مستعفی ہونے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ‘مصباح الحق پر بہت دباو تھا اور ان کے لیے بہتر ہے کوچنگ پر توجہ مرکوز کرے’۔انضمام الحق نے اپنے یوٹیوب چینل پر بیان میں کہا کہ ‘اس سے پہلے میں چیف سلیکٹر تھا اس لیے مجھے پتہ ہے کہ یہ کل وقتی کام ہے اور ایک آدمی جو ٹیم کے ساتھ بھی مصروف ہو اور یہاں بھی کام کرنا ذرا مشکل ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر بورڈ کا دباو یا کوئی چیز نہیں تھی تو یہ ان کا بہت اچھا فیصلہ ہے، اب جو بھی نیا چیف سلیکٹر آئے گا وہ اس سے بہتر کام کرسکے گا اور زیادہ وقت دے پائے گا تو بہتر ہوگا’۔نئے چیف سلیکٹر کی تعیناتی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ‘پچھلے دنوں شور مچ رہا تھا کہ مجھے چیف سلیکٹر بننے کی پیش کش کی گئی تو میرا خیال ہے وہ تو نہیں ہوگا’۔سابق چیف سلیکٹر نے کہا کہ ‘بورڈ میں پچھلے ایک سال میں بورڈ میں کسی بھی عہدے میں جو بھی آیا اس میں 60 سے 70 فیصد وہ لوگ ہیں جن کا کسی نہ کسی طرح انگلینڈ سے تعلق رہا ہے، ان میں بہت سارے نام ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘میرا ذاتی خیال ہے کہ جو نیا چیف سلیکٹر آئے گا اس نے بھی زیادہ وقت انگلینڈ میں رہ کر کام کیا ہوگا، جب سے ہمارے نئے چیف ایگزیکٹیو آئے ہیں، ان کا زیادہ اعتماد ان لوگوں پر جنہوں نے انگلینڈ میں کچھ وقت گزرا ہوا ہو’۔انضمام الحق کا کہنا تھا کہ ‘ابھی بھی اگر 10 لوگوں کی نئی انتظامیہ آئی ہے تو ان میں سے 6 کا تعلق انگلینڈ سے ہے تو میری ذاتی رائے ہے کہ نئے چیف سلیکٹر نے بھی کسی درجے میں انگلینڈ میں رہ کر کام کیا ہوگا


اور وہی آئے گا’۔انہوں نے کہا کہ ‘جو بھی نیا چیف سلیکٹر آئے گا میں اس کو خوش آمدید کہتا ہوں کہ وہ آئے اور ایمان داری سے کام کرے اس کی سلیکشن سے ہماری ٹیم اس سے آگے بڑھے’۔اپنے تجربے کی بنیاد پر انہوں نے کہا کہ ‘یہ سخت کام ہے، ابتدا میں تنقید ہوتی ہے اگر اس کو برداشت کرلیتے ہیں تو فوراً ٹیم بنالیتے ہیں’۔یاد رہے کہ مصباح الحق نے گزشتہ روز چیف سلیکٹر کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصباح الحق نے کہا تھا کہ اگلے دو برسوں میں بین الاقوامی کرکٹ میں ہماری 10 اہم کمٹمنٹ ہیں جس میں سے کچھ دورے ایسے ہیں کہ میرے لیے بطور چیف سلیکٹر کام کرنا اور ڈومیسٹک کرکٹ کو دیکھنا مشکل ہو جائے گا۔انہوں نے کہا تھا کہ اس چیز کو دیکھتے ہوئے میں نے بورڈ سے بات کی کیونکہ جب میں آیا تھا تو یہی بات ہوئی تھی کہ اگر کہیں بھی مجھے لگے گا کہ میرے لیے دونوں عہدوں کو وقت دینا مشکل ہے تو میں عہدہ چھوڑ سکتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے اور کرکٹ پر مزید توجہ دینے کے لیے مجھے لگا کہ یہ چیف سلیکٹر کا عہدہ چھوڑنے کا صحیح وقت ہے اور میں نے بورڈ سے بات کی کہ میں کوچنگ پر توجہ دینا چاہتا ہوں۔واضح رہے کہ دورہ انگلینڈ میں قومی ٹیم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی تھی اور قومی ٹیم صرف ایک فتح حاصل کر سکی تھی۔تاہم کارکردگی سے قطع نظر مصباح کی جانب سے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر جیسے دو اہم عہدے رکھنے کو بھی انتہائی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا جس کے بعد گزشتہ دنوں قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد چیئرمین پی سی بی نے کہا تھا کہ مصباح کو ایک عہدہ چھوڑنا ہو گا۔






%d bloggers like this: