پی ٹی آئی ہماری جماعت نہیں رہی، ن لیگ کے ساتھ میں نے زیادتی کی،پی ٹی آئی کی حمایت پراہم سیاسی رہنما پھٹ پڑے

چکوال (آن لائن) سابق ضلع ناظم چکوال سردار غلام عباس نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ہماری جماعت نہیں رہی۔ ن لیگ کے ساتھ میں نے زیادتی کی انہوں نے مجھے پوری عزت اور احترام دیا۔ گزشتہ الیکشن میں ملک شہر یار اعوان کا ساتھ نہ دیکر گناہ کیا۔ وہ کوٹ سارنگ کے مقام پر ملک قدیر باز آف نرگھی کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع
پر ضلع بھر سے سردار گروپ کی سرکردہ شخصیات بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ سردار غلام عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس

پارٹی کے ساتھ رہا ان کے ساتھ جو وعدے کئے میں نے اپنا نقصان برداشت کر کے وہ وعدے پورے کئے۔ بے نظیر بھٹو، پرویز مشرف، ق لیگ، ن لیگ اور پی ٹی آئی جس کا بھی ساتھ دیا۔ کبھی اپنی ذات کی بات نہیں کی ہمیشہ اپنی عوام کے مفادات کو ترجیح دی۔ 1994 میں بے نظیر بھٹو سے بطور ایم پی اے تلہ گنگ سوئی گیس منصوبے کی منظوری حاصل کی۔ بدقسمتی سے حکومت ختم ہو گئی۔پھر 2004 میں وزیر اعظم میر ظفراللہ جمالی سے 26 کروڑ روپے کی لاگت سے تلہ گنگ شہر کو سوئی گیس فراہمی کی گرانٹ حاصل کی، تلہ گنگ گرلز ڈگری کالج سمیت علاقہ میں کالجز ہمارے دور میں آئے۔ بجلی کے لاتعداد منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ لیکن اب تو تماشا بنا ہوا۔ ہر عوامی نمائندے کے پندرہ پندرہ سیکرٹری بنے ہوئے ہیں کوئی پتہ نہیں کون کیا خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ تلہ گنگ کو سوئی گیس معطلی کو کئی روز گزر گئے۔ اب صرف اپنی زمینوں سے گیس پائپ لائن گزارنے کیلئے ساری تگ و دو ہو رہی ہے۔ وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی کے پہلے دورہ تلہ گنگ میں اپنے ڈیرے پر چائے کا ایک کپ اربوں روپے کی سرکاری زمین فوڈ گودام کا راستہ لینے پر پڑا۔ یہاں انتظامیہ، محکمہ مال، محکمہ زراعت کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ایسی صور تحال پہلے
کھبی نہیں دیکھی۔ کھاد کے نام پر پتھروں پر رنگ جما کر فروخت کیا جا رہا ہے۔ کسان کو گندم کا بیج تک نہیں مل رہا۔ سردار غلام عباس کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور ق لیگ کی الیکشن میں بھرپور معاونت کی۔ اس کے بعد دو سال تک خاموش رہا کہ میری وجہ سے ان کو کوئی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لیکن اب نہیں اب میں پوری طاقت کے ساتھ اپنی سیاست کرونگا۔ مجھے طاقت وروں
سے ڈرایا گیا۔ اللہ تعالی کی ذات کے علاوہ کوئی طاقت ور نہیں۔ سوائے اللہ کے میرا سر کسی کے آگے نہیں جھک سکتا چاہے میری گردن الگ کر دی جائے۔ میرے ساتھی میرے دست بازو اور میرے بھائی ہیں۔ دنیا کی کوئی طاقت انہیں مجھ سے یا مجھے ان سے جدا نہیں کر سکتی۔ پی ٹی آئی حکومت ہماری حکومت نہیں ہے۔ آئندہ پندرہ روز میں اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کر لوں
گا۔ میں سب کو واضع انداز میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ اب میں اس حلقہ(تلہ گنگ) میں اپنا بھر پور سیاسی رول ادا کرونگا چاہے مقابلے میں چودھری پرویز الہی ہو یا کوئی اور۔ دوران خطاب سردار غلام عباس نے کہا کہ صدارت سے فارغ ہونے کے بعد پرویز مشرف نے دبئی طلب کیا اور چودھری برادران کیلئے اہم پیغام دیا۔ جو میں نے من و عن چودھری پرویز الہی کو دیا۔ کہ مجھے پرویز
مشرف کو ق لیگ کا صدر بنا دیا جائے لیکن سو بار وردی میں منتخب کرنے کا نعرہ لگانے والوں چودھری برادران کا کہنا تھا کہ ہمیں کیا ملے گا۔ اور پرویز مشرف کو انکار کر دیا۔ عشائیہ کے میزبان ملک قدیر باز نرگھی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عشائیہ میں شرکت
سے روکنے کیلئے ہمارے ساتھیوں کو روکا گیا۔ ہر ایک کو فون کر کے کہا گیا کہ عشائیہ میں نہیں جانا۔ نہیں تو ترقیاتی فنڈز نہیں دینگے۔ ایسے ہتھکنڈوں سے ہمارے ساتھی نہیں گھبراتے۔ ہم سردار غلام عباس کے ساتھ ہیں اور ہماری نسلیں بھی انکے ساتھ وفا کریں گی۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: