کروناوائرس کے کیسز ،صورتحال بگڑنے لگ گئی ملک کے مزید 38تعلیمی اداروں کو تالا لگ گیا

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک /آئن لائن)ملک بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی کیساتھ اضافہ ہونا شروع ہو گیا ۔تفصیلات کے مطابق کرونا وباء کی دوسری لہر نے پنجھے گاڑھنا شروع کر دیے ہیں ۔نجی ٹی وی کے مطابق خیبر پختونخواہ کے  38سرکاری سکولز بند کردیے گئے ہیں ۔ تعلیمی اداروں کو طلباء اور اساتذہ میں کورونا مثبت کیسز سامنے آنے کے بعد بند کیا گیا۔ضلع مہمند کے دو سکولوں کے 5 طلبہ میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد دونوں سکولوں کو بند کر دیا گیا۔ ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کے بیت المال سکول میں 2 طلبہ اور

ایک استاد میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد سکول کو بند کر دیا گیا۔کورونا وائرس کے باعث لکی مروت، کوہاٹ، لوئر چترال، اپر اورکزئی، مردان، تورغر، مانسہرہ، ایبٹ آباد، بٹگرام، کرک، ہری پور، بنوں اور ڈی آئی خان میں سکول بند کیے گئے ہیں۔دوسری جانب پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر مزید شدت اختیار کر گئی ہے اور گزشتہ24گھنٹوں کے دوران59 اموات رپورٹ ہوئی ہیں جس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد7ہزار 662 تک پہنچ گئی ہے۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب جاری کیے گئے تازہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں کورونا کے 2 ہزار 665 نئے کیسز رپورٹ ہوئے اور متاثرہ افراد کی کل تعداد3لاکھ 74 ہزار 173 ہوگئی ہے۔پاکستان میں کورونا سے متاثر ہونے والے 3لاکھ 29 ہزار828 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں اور36ہزار683 زیر علاج ہیں۔اسلام آباد میں کورونا کیسز کی تعداد26 ہزار569، خیبرپختونخوا44 ہزار97، سندھ ایک لاکھ 62 ہزار227، پنجاب ایک لاکھ 14 ہزار10، بلوچستان 16 ہزار744، آزاد کشمیرمیں6ہزاراور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 526 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 2 ہزار848افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سندھ میں 2 ہزار816، خیبر پختونخوا ایک ہزار325، اسلام آباد278، گلگت بلتستان94، بلوچستان میں 161 اور ا?زاد کشمیر میں140 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ این سی او سی کے مطابق ملک کے 15 شہروں میں کورونا وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔ پاکستان میں اسی فیصد کورونا کیسز گیارہ بڑے شہروں سے رپورٹ ہوئے۔صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ بازاروں، شاپنگ مالز، پبلک ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس میں ایس او پیز اور ماسک کو لازم قرار دیں۔شہری گھروں سے باہر نکلتے وقت ماسک لازمی پہنیں۔ حکومتی اور نجی سیکٹرز کے دفاتر میں کام کرنے والوں کے لیے ماسک پہننا لازم ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: