کرونا وبا کے ایشو پر اپوزیشن کا دوہرا معیار

ملک میں کورونا کی دوسری لہر نے سنگین صورتحال اختیار کرلی،جس پر نجی ٹی وی کے میزبان کاشف عباسی نے بھی تشویش کا اظہار کردیا، انہوں نے کہا کہ سیاسی شخصیات ہوں یا عدلیہ سے تعلق رکھنے والے یا پھر شوبز ستارے ملک کی اہم شخصیات بھی کورونا سے محفوظ نہیں،

ن لیگی رہنما خواجہ آصف نے بھی ایک میٹنگ میں اہم انکشاف کیا کہ ان کے پانچ دوستوں کو کورونا ہوگیا ہے، اپوزیشن پہلے لاک ڈاؤن نہ کرنے پر حکومت پر تنقید کرتی رہی آج جلسوں پر جلسے کیوں؟ آج جنازہ پڑھ کر آرہا ہوں، ہمارا ایک باون سال کا دوست تھا،، کورونا کی وجہ سے موت واقع ہوئی۔

کاشف عباسی نے کہا جہاں دیکھنے وہاں کورونا کے وار جاری ہیں لیکن ہمارا جو کورونا کیخلاف ایکشن ہے جو ہم مارچ اپریل میں دیکھ رہے تھے اس کے برعکس اب بڑا مختلف ہے، اس وقت کہا جارہا تھا کہ جو لاشیں گر رہی ہیں اس کی ذمہ دار حکومت ہے کیونکہ لاک ڈاؤن نہیں کیاجارہا تھا، اور اب کہا جارہا ہے کہ ہم کسی لاک ڈاؤن کو نہیں مانیں گے یہ سب سیاست کی وجہ سے ہورہا ہے۔

کاشف عباسی سے عوام سے سوال کیا کہ تو کیا یہ سمجھا جائے کہ کورونا وائرس مارچ اپریل میں زیادہ تھا اب اتنا خطرناک نہیں ہے، یا اس وقت کی سیاسی مجبوری کچھ اور تھی اور اب کچھ اور۔۔ لیکن یاد رکھیں کورونا اب حقیقی خطرہ بن چکا ہے، جو صرف نظر نہیں آرہا بلکہ سامنے آرہاہے۔

کاشف عباسی نے سوال کیا کہ کیا فرق ہے کورونا سے پیدا شدہ ماضی کی اور موجودہ صورتحال میں؟ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ جب آپ پہلی بار ردعمل دیتے ہیں تو اس میں سب کچھ شامل ہوتا ہے اس وقت ہم یورپ کی اسٹریٹیجی دیکھ رہے تھے تو لاک ڈاؤن کی بات کررہے تھے لیکن پاکستان میں کیونکہ اس وقت لاک ڈاؤن نہیں تھا تو سب کہہ رہے تھے باہر کے ملک لاک ڈاؤن کررہے، لیکن اب باہر کے ملک دوبارہ لاک ڈاؤن کررہے ہیں، فرانس،برطانیہ جرمنی لاک ڈاؤن پر چلے گئے۔

کاشف عباسی نے کہا کہ اپوزیشن نے کہا تھا کہ کورونا کے حوالے سے جو حکومتی پالیسی ہےاس کا بھی احتساب ہونا چاہئے، بلاول نے کہا تھا کہ جمہوری طریقے سے منتخب ہوتے تو ایک ایک انسان کی زندگی کا احساس ہوتا، ابھی وزیراعظم کو کوئی فکر ہی نہیں، پاکستان کے عوام مرے تو مرجائیں بیمار ہیں تو بیمار ہوجائیں، شہباز شریف نے کہا تھا کہ علاج اور احتیاط کرنی چاہئے، ممکمنہ حد تک عمل کرنا ہوگا،

جبکہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا تھا کہسوشل ڈسٹینسنگ رکھیں، میل جول کم کریں، تو اس کا پھیلاؤ کم ہوگا، جبکہ دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے کورونا کے حوالے سے حکومت کو مکمل ناکام قرار دیا تھا، اور کہا تھا کہ سوائے لاک ڈاؤن کے کوئی اور طریقہ نہیں کورونا کو روکنے کا اور کرفیو کا بھی عندیہ دے دیا تھا جب کہ اس وقت حکومت لاک ڈاؤن کے حق میں نہیں تھی۔

کاشف عباسی نے کہا کہ اب مسئلہ لاک ڈاؤن کا نہیں، مسئلہ اسٹریٹیجی کا ہے، کورونا کے حوالے سے اسٹریٹیجی بنائی جائے جس پر سب آن بورڈ ہوں۔

پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر ہر گزرتے دن کے ساتھ شدید ہوتی جارہ ہے،کورونا کیسز میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹے میں مزید دو ہزار پانچ سو سینتالیس نئے کیسز رپورٹ ہوگئے ہیں،مہلک وائرس اٹھارہ افراد کی زندگیاں نگل گیا۔ کورونا سے مجموعی اموات سات ہزار دوسو اڑتالیس ہوچکی ہیں، کورونا کیسز میں اضافے سے طبی عملے پر بھی دباؤ میں اضافہ ہورہا ہے۔

The post کرونا وبا کے ایشو پر اپوزیشن کا دوہرا معیار appeared first on Siasat.pk Urdu News – Latest Pakistani News around the clock.

%d bloggers like this: