کرونا وبا کے دوران جلسے :پی ڈی ایم کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آنا شروع

کرونا وبا کے دوران جلسے کرنے کے معاملے پر پی ڈی ایم کے اندر اختلاف کھل کر سامنے آنا شروع ہوگئے۔

نجی چینل 92 نیوز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ 6 جماعتوں نے پی ڈی ایم کی قیادت کو جلسے روکنے کی تجویز دی ہے جس پر اپوزیشن جماعتوں میں اختلافات پیدا ہوچکے ہیں۔

نجی چینل نے دعویٰ کیا کہ پی ڈی ایم میں شامل چھ جماعتوں نے کہا ہے کہ اگر ان جلسوں کے دوران کورونا مزید پھیلا اور ہلاکتیں بڑھ گئیں تو حکومت ذمہ دار پی ڈی ایم کو ٹھہرائے گی جس سے عوام کے اندر پی ڈی ایم کے خلاف نفرت پیدا ہو گی ۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ پہلے ہی گلکت بلتستان میں پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی شکست کے بعد مورال ڈاؤن ہو چکااوراب اس سے مزید ڈاؤن ہو گا۔

رانا عظیم کے مطابق پی ڈی ایم کی تین بڑی جماعتیں کسی صورت بھی جلسے منسوخ نہیں کرنا چاہتیں اور جلسے کرنے کے حوالے سے سب سے زیا دہ اصرار ن لیگ اور مولانا فضل الرحمان کررہے ہیں۔پیپلزپارٹی میں بھی ایک بڑا گروپ جلسوں کی مخالفت کررہا ہے پی پی رہنماؤں نے اپنی قیادت کے سامنے موقف اپنایا کہ ہمارا اپنا وزیر اعلیٰ،کئی وزراء اور بیوروکریٹس کورونا کا شکار ہو چکے ، ہمارے کئی پارٹی رہنما اور ایم پی ایز کرونا کی وجہ سے انتقال کرچکے ہیں۔اس صورت میں ہمارا جلسوں کی حمایت کرنا سیاسی و اخلاقی طور پرغلط ہو گا۔

جبکہ دوسری طرف پیپلزپارٹی اور جے یو آئی ف ہر صورت جلسے کرنے کے حق میں ہیں۔ ن لیگی رہنماؤں نے یہ موقف اپنالیا ہے کہ عمران خان کرونا سے زیادہ خطرناک ہے لیکن انکے اس بیانئے کی عوام میں پذیرائی نہیں ہورہی ۔ ن لیگ کو رانا ثناء اللہ ، عظمیٰ بخاری اور دیگر افراد کے بیانات بھی نقصان پہنچارہے ہیں جو یہ کہتے پائے جارہے ہیں کہ کرونا کھلے میدانوں میں نہیں پھیلتا۔

واضح رہے کہ اپوزیشن لیڈر شہبازشریف، احسن اقبال، حمزہ شہباز ، مریم اورنگزیب بھی کرونا کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ مریم نواز کے شوہر کیپٹن صفدر کا کرونا ٹیسٹ ایک بار پھر مثبت آگیا ہے۔

The post کرونا وبا کے دوران جلسے :پی ڈی ایم کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آنا شروع appeared first on Siasat.pk Urdu News – Latest Pakistani News around the clock.

%d bloggers like this: