کورونا کا خدشہ : تمام سنیما بند کرنے کا فیصلہ

واشنگٹن (ویب ڈیسک)گزشتہ روز جیمز بونڈ سیریز کی 25 ویں کی ریلیز اگلے سال اپریل تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اور اس کا جھٹکا امریکا اور برطانیہ کے سنیما گھر برداشت نہیں کرسکے۔برطانیہ میں سب سے بڑی جبکہ امریکا میں دوسری بڑی سنیما کمپنی سائن ورلڈ نے گلے ہفتے سے امریکا، برطانیہ اور


آئرلینڈ میں اپنے تمام سنیما عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ورائٹی کی رپورٹ کے مطابق یہ کمپنی امریکا میں اپنے تمام 543 سنیما گھر بند کررہی ہے جن میں 7 ہزار سے زائد اسکرینیں ہیں۔دی سنڈے ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمپنی کی جانب سے برطانیہ اور آئرلینڈ میں تمام 128 سنیما گھروں کو بھی بند کیا جارہا ہے۔اور ان ممالک میں اس کی وجہ جیمز بونڈ فلم نو ٹائم ٹو ڈائی کا التوا ہے۔کورونا وائرس کی وبا کے باعث یہ فلم اب نومبر 2020 کی بجائے اپریل 2021 میں ریلیز ہوگی اور اس سال کی ایک اور بڑی فلم سنیماؤں سے دور ہوگئی۔بظاہر یہ کمپنیاں جیمز بونڈ فلم کی بروقت ریلیز کی توقع کررہی تھیں، جس سے ٹکٹوں کی فروخت میں اضافے کا امکان تھا۔سائن ورلڈ نے سنیماؤں کی بندش کی تصدیق تو نہیں کی مگر یہ ضرورت بتایا کہ برطانیہ اور امریکا میں سنیما گھروں کو عارضی طور پر بند کرنے پر غور کیا جارہا ہے، تاہم حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوسکا۔کمپنی کے مشرقی یورپ میں 123 سنیما ہیں جن کے بارے میں امکان ہے کہ ان کو بند نہیں کیا جائے گا، کیونکہ وہاں کورونا وائرس کے حوالے سے پابندیاں کافی نرم ہیں جبکہ مقامی فلمیں ریلیز ہورہی ہیں۔کورونا وائرس کی وبا کے باعث ہولی وڈ کی متعدد بڑی فلمیں التوا کا شکار ہوچکی ہیں جن میں بلیک ویڈو، فاسٹ 9 اور دیگر شامل ہیں جو اب 2021 میں ریلیز ہوں گی۔ڈزنی کی جانب سے تمام اسٹار وارز اور اوتار فلموں کی ریلیز ایک سال کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔اس سے پہلے اوتار 2 کو 2021 میں ریلیز کیا جانا تھا مگر اب وہ 2022 میں ریلیز کی جائے گی جبکہ اسٹار وارز فلم 2022 کی بجائے 2023 میں ریلیز ہوگی۔سائن ورلڈ کے سنیما گھروں کو جولائی میں مختلف ممالک میں اوپن کیا گیا تھا مگر سال کی پہلی ششماہی کے دوران اسے 1.3 ارب برطانوی پاؤنڈ کے نقصان کا سامنا ہوا۔امریکا میں 3 بڑی مارکیٹیں نیویارک سٹی، لاس اینجلس اور سان فرانسسکو کورونا وائرس کی وبا کے باعث تاحال سنیماگھروں کے لیے بند ہیں۔







%d bloggers like this: