کپتان کی اپیل کام کر گئی ، اب ہو گی پاکستان میں دھڑا دھڑ سرمایہ کاری ۔۔۔ وزیراعظم عمران خان نے پاکستانیوں کو شاندار خوشخبری سنا دی

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سرمایہ کار اور صنعتکاروں کو سہولیات دینے والے ممالک ہی ترقی کرتے ہیں۔ ملکی صنعت کے فروغ سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ نجی چینل جی این این کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ صنعتکاروں کے وفد نے ملاقات کی ہے، حماد اظہر،



عشرت حسین ، گورنر سٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر وزیراعظم عمران خان بھی موجودتھے۔ وفد نے سہولیات فراہم کرنے والے وزیراعظم عمران خان اور ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا ، صنعتکاروں کے وفد نے برآمدات بڑھانے ، ٹیکس نظام میں بہتری کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔ وزیراعظم عمران خان نے وفد کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا روبار ی طبقے اور صنعتکاروں کو سہولیات کے لیے پر عزم ہے،کاروبار میں آسانیاں پید کرنے کے لیے پرعز م ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملکی صنعت کے فروغ سے روزگارکے مواقع پیدا ہوں گے، ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاراور صنعت کاروں کو سہولیات دینے والے ممالک ہی ترقی کرتے ہیں، برآمد سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ فلاح فلاح عام کے منصوبوں پر خرچ ہو سکے گا۔وزیراعظم نے وفدکی تجاویزپرمتعلق متعلقہ وزارتوں اور ایف بی آر کو ہدایات جاری کیں۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شہبازشریف نیب تحویل میں آج کل بڑی خفیہ ملاقاتیں کر رہے ہیں، شہبازشریف کے کاروبار کا ابھی فرانزک ہونا ہے، وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، اور عدالت میں ڈرامے بازی کرتے ہیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کو معلوم ہے کہ شہبازشریف نیب تحویل میں ہیں، لیکن نیب تحویل میں وہ بڑی خفیہ ملاقاتیں کررہے ہیں۔نیب کو شہبازشریف کی کرپشن کا ایک اور ریفرنس موصول ہوا ہے۔ نیب انکوائری میں رمضان شوگر ملز اور العربیہ شوگر ملز کے 10 سالہ ریکارڈ کا معائنہ کیا گیا ہے۔ معائنے میں حیران کن انکشافات ہوئے ہیں۔ رمضان شوگر ملز اور العربیہ شوگر ملز کے کم آمدنی والے ملازمین کے ناموں پر بھی بےنامی اکاؤنٹس بنائے گئے ہیں۔شہزاد اکبر نے کہا کہ شہباز شریف سے 18 سوال پوچھے تھے لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا۔ آج کل تو شہبازشریف نیب کی تحویل میں مکمل فارغ ہیں۔ اس لیے 3 سوالوں کے جواب دے دیں کہ کیا آپ مسرور انور اور شعیب قمر کو نہیں جانتے؟ یہ دونوں نیب کی حراست میں ہیں۔ 25 ہزار روپے کے ملازم ہیں، جبکہ ان کے اکاؤنٹس سے اربوں روپے کی ٹرانزیکشن کی گئی۔ اسی طرح آپ خادم اعلیٰ تھے تو آپ کو ہر چیز کا علم ہوتا تھا لیکن کیا کاروبار کا علم نہیں تھا؟ آپ کے پاس کوئی ذرائع آمدن نہیں لیکن آپ نے لندن کے4 فلیٹس کیسے لیے؟ انہوں نے کہا کہ شہبازشریف نیب تحویل میں آج کل بڑی خفیہ ملاقاتیں کر رہے ہیں، شہبازشریف کے کاروبار کا ابھی فرانزک ہونا ہے، وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، اور عدالت میں ڈرامے بازی کرتے ہیں۔







%d bloggers like this: