کیا صارفین کے لئے کیش بیک کی آفر سود کے زمرے میں آتی ہے؟

کیا صارفین کے لئے کیش بیک کی آفر سود کے زمرے میں آتی ہے؟ جانیے جاوید احمد غامدی سے

تفصیلات کے مطابق ہمیں روزمرہ زندگی میں ضرورت ہے زندگی کی اشیاء خریدتے وقت مختلف کمپنیوں یا دوکاندار کی جانب سے کیش بیک کی آفر دی جاتی ہے، جس کے حوالے سے اکثر صارفین یا خریدار کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ "کیا کیش بیک کی آفر پر سود کے زمرے میں آتی ہے؟”

مذکورہ سوال کا جواب دیتے ہوئے معروف عالم دین اور سکالر جاوید احمد غامدی کا کہنا تھا کہ "مختلف کمپنیوں یا دوکاندار کی جانب سے دی جانے والی کیش بیک کی آفر سود کے زمرے میں نہیں آتی کیونکہ اس میں کاروبار ہوتا ہے نہ کہ قرض کا لین دین۔

انہوں نے کہا کہ کیش بیک کی آفر میں سرے سے قرض کا کوئی معاملہ نہیں ہوتا، مثال کے طور پر اگر میں کاروبار کرتے ہوئے ایک چیز بیچنا چاہتا ہوں اور وہ چیز بیچنے کے لئے میں خریدار کو بہت سی آفرز دے سکتا ہوں، یہ سب کچھ شریعت اور اسلامی تعلیمات کے مطابق جائز ہے۔

معروف عالم دین اورمذہبی اسکالر جاوید احمد غامدی کا کہنا تھا کہ جس چیز کو ہم سود کہتے ہیں اس میں پہلی بنیادی چیز یہ ہے کہ معاملہ قرض کا ہو، انہوں نے کہا کہ قرضہ چونکہ اسلامی شریعت یا اللہ تعالی کے دین کی اخلاقیات میں تبرک کا عمل ہے یعنی نیک عمل ہے، یہ کوئی کاروبار نہیں ہے۔

مذہبی اسکالر جاوید احمد غامدی کا مثال دیتے ہوئے کہنا تھا کہ "اگر آپ اپنی ذاتی ضروریات یا کاروبار کے سلسلے میں مجھ سے قرض لیتے ہیں اور میں آپ کو قرض دے کر اس کے اوپر نفع طلب کرو تو وہ "سود” ہوگا، تاہم کاروبار کے دوران صارفین کو دی جانے والی "کیش بیک” کی آفر سود کے زمرے میں نہیں آتی۔

The post کیا صارفین کے لئے کیش بیک کی آفر سود کے زمرے میں آتی ہے؟ appeared first on Siasat.pk Urdu News – Latest Pakistani News around the clock.

%d bloggers like this: