کیا پاک افغان تعلقات واقعی بہتری کی جانب گامزن ہیں؟

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے بارے میں جب بھی تذکرہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے ذہن میں جو بات آتی ہے وہ ’تناؤ اور کشیدگی’ کے الفاظ ہیں۔ تاریخی طورپر اگر دیکھا جائے تو اس تلخ حقیقت سے کوئی انکار بھی نہیں کرسکتا کہ دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات ہمیشہ سے تناؤ کا شکار رہے ہیں۔

میں دونوں ممالک کے عوام کو بدقسمت اس وجہ سے کہوں گا کیونکہ شاید یہ دنیا کے واحد دو پڑوسی ممالک ہیں جن کے آپس میں قربتیں بھی زیادہ ہیں اور کسی حد تک ایک دوسرے پر انحصار بھی کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے تعلقات کبھی مستقل طورپر بہتر نہیں ہوسکے۔

  سرحد کے دونوں جانب اگر دیکھا جائے تو عوام کا مذہب ایک ہے، معاشرہ ایک ہے، ثقافت میں بہت حد تک یکسانیت پائی جاتی ہے یہاں تک کہ دونوں طرف تقربناً چار کروڑ کے لگ بھگ افراد ایک ہی زبان یعنی پشتو بولتے ہیں۔ تقربناً چھ سے آٹھ قبیلے ایسے ہیں جو ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب آباد ہیں اور دہائیوں سے یہ اقوام مضبوط خاندانی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان میں آج بھی ایسے سینکڑوں خاندان آباد ہیں جن کے یہاں بھی گھر ہیں اور سرحد کے اس پار بھی ان کی جائیدادیں اور کاروبار موجود ہیں اور ان کا آرپار جانا ایک معمول ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اتنی قربتیں ہونے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان مسلسل تناؤ کی کفیت اور یہ دوریاں کیوں پیدا ہوئیں؟

ہم اس ضمن میں کسی ایک ملک کو مورد الزام نہیں ٹھرا سکتے، یقیناً ماضی میں پاکستان سے بہت ساری غلطیاں ہوئی اور جس کا پاکستانی حکمران اور ریاستی ادارے اعتراف بھی کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ افغان قیادت سے بھی وقتاً فوقتاً کوتاہیاں سرزد ہوتی رہی ہیں جس سے اب دونوں طرف غلط فہمیوں کا ایک پہاڑ بن چکا ہے۔

لیکن جب سے افغانستان میں حالیہ امن کے عمل آغاز ہوا ہے پاکستان نے ان کوششوں کا نہ صرف گرمجوشی سے خیر مقدم کیا ہے بلکہ اس کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے اور بدستور کررہا ہے۔

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ دونوں ممالک کا امن ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، اگر افغانستان میں امن ہوگا تو پاکستان میں بھی خوشحالی ہوگی۔ اس طرح نہیں ہوسکتا کہ ایک ملک میں جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہو اور دوسرا ملک اس کا تماشا کرکے اس سے محظوظ ہوتا رہے بلکہ لازمن دوسرا ملک بھی اس کی لپیٹ میں آئے گا لہذا دونوں ممالک کی قیادت یہ بات سمجھتی ہیں کہ جنگ کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ دونوں ممالک کا مشترکہ ایشو ہے۔

اس کے علاوہ دونوں حکومتوں کے درمیان عرصہ دراز سے قائم غلط فہمیوں کے بڑے بڑے پہاڑ بھی حائل ہیں جنہیں اب گرانے کا وقت آچکا ہے۔ لیکن اس کےلیے دونوں نے سرتوڑ کوششیں کرنی ہوگی کیونکہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی ۔

گزشتہ کچھ سالوں کے دوران میں نے پہلی دفعہ بحثیت صحافی یہ محسوس کیا ہے کہ پاکستان صرف امن کے قیام میں سہولت کاری نہیں کررہا بلکہ دیگر شعبوں میں بھی سنجیدگی دکھا رہا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان عرصہ دراز سے قائم غلط فہمیوں کا خاتمہ کیا جاسکے۔

پاکستان کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ افغانستان کےلیے ایک خصوصی نمائندہ مقرر کیا گیا ہے۔ افغانستان میں کئی سالوں تک سفیر رہنے والے منجھے ہوئے سفارت کار محمد صادق کو اس عہدے کےکیے چنا گیا ہے۔ وہ شاید واحد ایسے سفارت کار ہیں جن کی شہرت نہ صرف پاکستان میں اچھی ہیں بلکہ انہیں سرحد پار بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

محمد صادق نے آتے ہی سب سے پہلے تجارت اور ویزہ پالیسی کو فوقیت دی اور یہی وہ دو شعبے ہیں جن پر ہمیشہ سے افغانوں کے خدشات رہے ہیں اور انہی کے ذریعے سے ممالک کو نئے سرے سے جوڑا بھی جاسکتا ہے۔

کسی زمانے میں کابل اور اسلام آباد کے درمیان سالانہ چھ سے سات بلین ڈالر کی تجارت ہوا کرتی تھی جو اب کم ہوکر ایک بلین ڈالر تک آگئی ہے۔ تاہم حال ہی میں جاری کردہ نئی ویزہ پالیسی سے یہ تجارت دوبارہ سے بڑھائی جاسکتی ہے۔ نئی ویزا پالیسی کے تحت اب افغان شہریوں کو ایک سال سے لے کر پانچ سال تک کے ملٹی پل ویزے جاری کئے جارہے ہیں جس کا اجراء چند ہفتے پہلے کردیا گیا ہے۔ پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور مریضوں کو بھی خصوصی سہولیات دی جارہی ہیں۔

گزشتہ دنوں مجھے پاکستان اور افغانستان کی سطح پر قائم نوجوانوں کی تنظیم پاک افغان یوتھ فورم کے ایک اجلاس میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں خصوصی نمائندے محمد صادق کو مدعو بھی کیا گیا تھا۔ دفتر خارجہ اسلام آباد میں منعقدہ اس اجلاس میں افغانستان سے بھی بذریعہ انٹرنیٹ نوجوان شریک تھے۔ اس اجلاس میں موجود پاکستانی سفارت کاروں کے بریفنگ سے محسوس ہوا کہ اسلام آباد نے کابل سے نئے سرے سے راوبط استوار کرنے میں نہ صرف سنجیدہ ہے بلکہ اس ضمن میں کئی منصوبوں پر کام شروع کر رکھا ہے جس میں اولیت تجارت کو دی جارہی ہے۔

پاکستان نے جب سے افغان امن عمل میں سہولت کاری کا آغاز کیا ہے اس سے لگتا ہے کہ افغان قیادت بھی اسلام آباد کے کردار سے پوری طرح مطمئین ہیں کیونکہ اس ضمن میں کابل سے اب تک مثبت بیانات ہی سامنے آئے ہیں۔  اس کے علاوہ ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ کا حالیہ دورہ پاکستان بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ افغانستان پڑوسی ملک کی کوششوں کو مثبت انداز میں دیکھ رہا ہے۔

جس طرح افغانستان میں فریقین کے ہاتھ پائیدار امن قائم کرنے کا ایک سنہرا موقع ہاتھ آیا ہے اسی طرح کابل اور اسلام آباد کو بھی اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے اور آپس کی غلط فہمیوں کو مکمل طورپر ختم کردینا چاہیے ورنہ ابھی نہیں تو پھر کبھی نہیں۔

%d bloggers like this: