ہواؤں کا رُخ تبدیل! گجرانوالہ جلسہ، عدالت نے بڑا حکم جاری کر دیا

گوجرانوالہ (نیوز ڈیسک ) گوجرانوالہ کی سیشن کورٹ نے غیرقانونی کنٹینرہٹانے کا حکم دے دیا، آرپی او، سی پی او ، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر فوری کنٹینر ہٹا کر راستوں کو کلیئر کروائیں، پی ڈی ایم اور ڈپٹی کمشنر کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی پاسداری کی جائے۔ تفصیلات کے مطابق



گوجرانوالہ کی سیشن کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج ارشد محمود نے کنٹینرز کیخلاف درخواست پر سماعت کی۔ایڈیشنل سیشن جج، جسٹس آف پیس ارشد محمود نے کنٹینرہٹانے کا حکم دے دیا ہے، ایڈیشنل سیشن جج نے آرپی او، سی پی او ، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو حکم دیا ہے کہ فوری کنٹینر ہٹا کر راستوں کو کلیئر کروایا جائے۔ پی ڈی ایم اور ڈپٹی کمشنر کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی پاسداری کی جائے۔ن لیگی ایم این اے خرم دستگیر نے شہر میں کنٹینر لگا کر راستے بند کرنے کیخلاف پٹیشن دائر کی تھی۔دوسری جان لاہور ہائیکورٹ نے بھی مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی گرفتاری اور گوجرانوالہ جلسے میں شرکت سے روکنے کیلئے راستے بند کرنے کیخلاف دائر درخواستیں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے بیان پر نمٹا دی ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مسعود عابد نقوی نے عنیزہ فاطمہ ، ناصر چوہان سمیت دیگر کی ایک ہی نوعیت کی تین مختلف درخواستوں پر سماعت کی۔ جس میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی گرفتاری اور راستے بند کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا۔ایڈوکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ گوجرنوالہ میں پر امن جلسہ کی اجازت دے دی ہے اور کسی کارکن کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے یقین دہانی کرائی کہ کوئی غیرقانونی کام نہیں ہوگا۔ درخواست گزاروں کے وکیل رانا اسد اللہ خان نے بتایا کہ انتظامیہ نے رات تین بجے گرفتار لوگ چھوڑے اور راستے کھولنے کا کہہ دیا۔ رانا اسد ایڈووکیٹ نے کہا کہ وہ ایڈووکیٹ جنرل کے بیان سے مطمئن ہیں جس پر عدالت نے دائر درخواستیں نمٹا دیں۔







%d bloggers like this: