یکم جمادی الثانی جمعہ کو ہو گی، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ رویت ہلال کمیٹی کی بجائے وزارت مذہبی امور کا چاند کی رویت کا اعلان

اسلام آباد (مانیٹرنگ + این این آئی) پاکستان میں جمادی الثانی 1442 ہجری کا چاند نظر آ گیا۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ رویت ہلال کمیٹی کے بجائے چاند کی رویت کا اعلان وزارت مذہبی امور نے کیا، باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا، رویت ہلال کمیٹی کے نئے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کی زیر صدارت پہلی مرتبہ مرکزی رویتہلال کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں وزارت مذہبی امور کے دفتر پاک سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔اس اجلاس میں وزارت سائنس، محکمہ موسمیات، وزارت مذہبی امورکے نمائندے شریک ہوئے اور جمادی الثانی کا چانددیکھا گیا، ملک بھر سے چاند کی رویت کے

حوالے سے زونل رویت ہلال کمیٹیوں سے شہادتیں حاصل کی گئیں، چاند کی رویت کی شہادتیں ملنے کے بعد رپورٹ وزارت مذہبی امور کو دی گئی، جس کے بعد وزارت مذہبی امور نے باقاعدہ نوٹیفکیشن کے ذریعے چاند کی رویت کا اعلان کیا۔دوسری جانب ہندوؤں اور سکھوں کے دنیا چھوڑ جانے والے عزیز و اقارب کی آخری رسومات ادا کرنے کے لئے تیار کیے گئے شمشان گھاٹ کا افتتاح کر دیا گیا۔وفاقی وزیر مذہبی امور، حج و بین المذاہب ڈاکٹر نورالحق قادری نے افتتاح کیا۔ اس موقع پر چیئر مین متروکہ وقف املاک بورڈ ڈاکٹر عامر احمد، ایڈیشنل سیکرٹری شیرائنز محمد طارق، ڈپٹی سیکرٹری سید فراز عباس، پاکستان سکھ گورودوارہ پربندھک کمیٹی کے پردھان سردات ستونت سنگھ، سیکرٹری جنرل سردار امیر سنگھ، سابق پردھان سردار بشن سنگھ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔وفاقی حکومت کی ہدایت پر 18سال قبل لاہور کے نواح میں متروکہ وقف املاک بورڈ حکام نے ہندوؤں اور سکھوں کے پرلوک سدھار جانے والے عزیز و اقارب کی آخریرسومات(انتم سنسکار)ادا کر نے کے لئے 34کنال 13مرلے اراضی پر شمشان گھاٹ بنایا تھا۔شمشان گھاٹ سیلاب کی تباہ کارویوں کے مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔چیئر مین متروکہ وقف املاک بورڈ ڈاکٹر عامر احمد نے لاہور کے نواحی علاقے میں شمشان گھاٹ کی از سر نو تعمیر کا حکم دیا اور1کروڑ60لاکھ روپے کی لاگت سے از سر نوتعمیر مکمل کی گئی ہے۔شمشان گھاٹ کے لئے مخصوص قطعہ اراضی کی مکمل چار دیواری کرنے کے علاوہ وہاں پر ہندوؤں اور سکھوں کے لئے مجموعی طور ہر 6کمرے تیار کئے گئے ہیں جن میں سے 3ہندو اور 3سکھ مذہب کے پیروکاروں کی آخری رسومات ادا کرنے کے لئے استعمال کئے جائیں گے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: