11 اگست کی تقریر اور بانئ پاکستان کا پاکستان

بانئ پاکستان جناب قائداعظم محمد علی جناح کا یوم پیدائش پچھلے دنوں تھا، جسے ہم نے نہایت شان و شوکت سے منایا۔ لیکن قائد کے فرمودات کیا تھے ان کا ہمیں کچھ معلوم نہیں دوسرے الفاظ میں کہیں تو ہم تاحال ابہام کا شکار ہیں۔


گیارہ اگست کی تقریر، کا حوالہ ہماری تاریخ کا سب سے اہم سیاسی باب ہے، یہ تقریر ہمارے آزاد خیال اور رجعت پسند لوگوں کے مابین تنازع کا باعث ہے۔
آج کے دور میں پاکستان سے متعلق محمد علی جناح کے نظریہ کے علاوہ کوئی دوسرا بڑا تنازعہ درپیش نہیں ہے،  قائد کا پاکستان آزاد خیال ہونا چاہیے یا رجعت پسند اب تک سوالیہ نشان ہے۔ آزاد خیال لوگوں کی نظر میں پاکستان کو ایک لادین ریاست کا وجود تشکیل دینا چاہیے تھا، جبکہ رجعت پسند کی نظر میں دو قومی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان کو ایک مذہبی ریاست ہونا چاہیے۔


بحیثیت سیاسی طالبعلم میرا یہ تجزیہ ہے، کہ دو قومی نظریہ میں اسلام کی آمیزش اس نظریہ ضرورت کے تحت کی گئی کہ اسلام کے علاوہ برصغیر کے مسلمانوں کو کسی ایک نقطہ پر یکجا نہیں کیا جا سکتا تھا۔ کیونکہ ہر صوبہ کے افراد مختلف تہذیب و تمدن اور روایات کے امین تھے۔
ان تمام مختلف اقوام کو مذہب کی بنیاد پر ایک اکائی میں پرویا جا سکتا تھا، جسے ہم نے 1940ء کے بعد دیکھا ہے۔


اس بات سے ہرگز یہ مراد نا لی جائے کہ میں دو قومی نظریہ کہ خلاف ہوں۔ یہاں اس بات کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ قائداعظم، کیبنٹ مشن جو کہ وفاقی طرز حکومت پر موجود انڈین فیڈریشن تھی اس کی مکمل حمایت کا عندیہ دے چکے تھے، وہ تو سردار ولا بھائی پٹیل اور جواہر لال نہرو نے اس کی مخالفت کر کے ہندوستان کی تقسیم کی بنیاد رکھی۔ اس سے ایک بات تو واضح ہے کہ اگر قائد دو قومی نظریہ کے اتنے بڑے داعی تھے تو انکو اس بات کی مخالفت کرنی چاہیے تھی۔ دراصل قائداعظم محمد علی جناح کا دو قومی نظریہ آئینی و جمہوری طور پر مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ تھا، تاکہ ہمیں بحیثیت اقلیت ہندو نقصان نا پہنچا سکیں۔ لیکن جہاں ہم نے اور بہت سی کہانیاں بنائی ہیں، اس کہانی کو بھی دوام بخشا اور آج المیہ یہ ہے کہ تمام ملک ایک ہیجان کا شکار ہے۔


پروفیسر اشتیاق احمد اسی نظریہ کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں، اس کا ذکر انھوں نے اپنی کتاب پاکستان ایک عسکری ریاست (Pakistan the garrison state) میں کیا ہے۔
11 اگست 1947ء کو ریاست کے امور پر جناح نے پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کیا۔ اس خطاب میں جناح نے امور ریاست، مذہبی آزادی، قانون کی بالادستی، اور مساوات کا پرچار کیا۔ اس تقریر میں جناح مذہب اور ریاست کی علیحدگی کی حمایت کرتے نظر آئے۔

’’آپ کو اپنے مندروں میں جانے کی آزادی ہے۔آپ کو اپنی مسجدوں میں جانے کی آزادی ہے۔ پاکستان کی اس ریاست میں اب کسی بھی دوسری عبادت گاہ میں جا سکتے ہیں۔آپ کا تعلق کسی مذہب، ذات یا عقیدہ سے ہو امور مملکت کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ ہم ایسے دورکا آغاز کر رہے ہیں جس میں کوئی امتیاز نہیں ہوگا۔مختلف قوموں اور برادریوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوگا۔ ہم سب ایک ہی ریاست کے شہری ہیں۔ برابرکے شہری ہیں اور اب میرا خیال ہے کہ آپ کو یہ بات آدرش کے طور پر اپنے پیش نظر رکھنی چاہیے اور آپ دیکھیں گے کہ کچھ عرصہ بعد ہندو ہندو نہیں رہیں گے اور مسلمان، مسلمان نہیں رہیں گے۔ مذہبی معنوں میں نہیں کیونکہ ہر شخص کا ذاتی عقیدہ ہے بلکہ سیاسی معنوں میں اس ریاست کے شہری کی حیثیت سے۔‘‘

11 اگست 1947ء کو کراچی میں قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے دوسرے روز بانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی پالیسی تقریر میں جمہوری ریاست کے آئین کے خدوخال پر واضح روشنی ڈالی۔ آپ کی یہ تقریر جمہوریت اور جمہوری نظام کے ارتقاء کے تناظر میں تھی۔ آپ جمہوریت کے داعی تھے اور ساری زندگی جمہوری جدوجہد کا راستہ اپنائے رکھا۔ آپ کی ذاتی اور معاشرتی زندگی کو دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ سیکیولرزم کے خامی تھے۔


ہماری بدقسمتی ہے کہ آپ قیام پاکستان کے بعد زیادہ دیر زندہ نا رہ سکے اور آپ کی رحلت کے بعد آپ کے خیالات سے انحراف کا مکمل موقع ملا۔ جس کا سب سے پہلا عملی مظاہرہ قرارداد مقاصد کی قانون ساز اسمبلی سے منظوری تھی، جس سے ریاست ابہام کا شکار ہوئی اور اس کا تشخص خراب ہوا۔
بانئ پاکستان کیونکہ خود وکیل تھے اس لئے آئین و قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے تھے۔ دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس سے تقریر کرتے ہوئے انھوں نے آئین و انتظام مملکت کے چند بنیادی اصول بیان کیے۔ بانئ پاکستان کی اس تقریر سے دائیں اور بائیں بازو والے تاریخ دان، سیاستدان، دانشور، صحافی، اور اہل علم اپنے اپنے سیاسی فہم و نظریات کے مطابق معنی اخذ کرتے ہیں۔  چند چیدہ چیدہ نکات قارئین کی خدمت میں حاضر ہیں، ان فرمودات کا مطالعہ کیجیے اور فیصلہ کریں کہ قائداعظم کے ذہن میں سیکیولر ریاست کا خاکہ تھا یا مذہبی ریاست کا۔


قائد پاکستان میں مسلمانوں اور سب اقلیتوں کے لئے ایک جمہوری آئین کے ذریعے یکساں حقوق و مراعات اور فرائض کا تعین کر دینا چاہتے تھے۔
انھوں نے فرمایا اس دستور ساز اسمبلی کو ایک اچھی مثال بنتے ہوئے سب سے پہلے دو فریضہ سرانجام دینے ہیں۔ پاکستان کیلئے ایک دستور مرتب کرنا، اور ایک خود مختار ادارے کے طور پر پاکستان کے وفاقی قانون ساز ادارے کا کردار ادا کرنا۔ایک جمہوری آئین تیار کرنے کیلئے ہمیں اپنی بہترین کوشش کرنا ہو گی۔


پارلیمان کا پہلا فریضہ یاد رکھیے کہ یہ ایک خود مختار قانون ساز ادارہ ہے اور آئین و قانون سازی کے لئے آپ کے پاس مکمل اختیارات ہیں۔ آپ پر بھاری ذمہ داری ہے۔
حکومت کی سب سے پہلی ذمہ داری امن و امان برقرار رکھنا ہے تاکہ ریاست اپنے شہریوں کی جان مال اور ان کے مذہبی عقائد کا مکمل تحفظ کر سکے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اراکین اسمبلی فیصلہ کس طرح کرتے ہیں.


ہندوستان میں رشوت ستانی اور بدعنوانی ایک زہر کی طرح پھیلے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی اسمبلی اور حکومت کو آہنی ہاتھوں سے اس زہر کا قلع قمع کرنا چاہیے۔ دوسری لعنت جو ہمیں ورثہ میں ملی ہے وہ چور بازاری ہے۔ آپ کو اس لعنت کا بھی خاتمہ کرنا ہوگا۔ چور بازاری معاشرے کے خلاف ایک بہت بڑا جرم ہے۔ ذخیرہ اندوزی والے باخبر، چالاک اور بظاہر ذمہ دار نظر آنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو انتہائی سخت سزا ملی چاہیے کیونکہ یہ لوگ خوراک اور دیگر اشیائے ضرورت کی نگرانی اور تقسیم کے نظام کو بگاڑ دیتے ہیں اور عام لوگوں میں فاقہ کشی اور اموات کا سبب بنتے ہیں۔
اقرباء پروری اور بددیانتی جیسی علتیں بھی ہمیں ورثہ میں ملی ہیں، ان برائیوں کو بھی سختی سے کچلنا ہو گا۔ میں خود اقرباء پروری اور احباب نوازی کو کسی صورت برداشت نہیں کروں گا، اور کوئی دبائو خاطر میں نہیں لاوں گا۔


ان تمام معاملات پر اظہار خیال کے بعد بانئ پاکستان نے برصغیر کی تقسیم کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ چند افراد ہندوستان، پنجاب اور بنگال کی تقسیم سے خائف ہیں۔ اس تقسیم کے خلاف بہت کچھ کہا گیابہے، لیکن چونکہ اب تمام فریقین اس تقسیم کو تسلیم کرچکے ہیں، اس لیے ہم سب پر فرض ہے کہ ہم اس عہد سے وفاداری کریں، اور اس پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔


اس خطہ میں بسنے والی تمام برادریوں کے جذبات کو اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے، کسی علاقہ میں ایک برادری اکثریت ہے اور دوسری اقلیت۔ اس تقسیم کے علاوہ کوئی اور صورت قابل عمل نا تھی۔ یہ تقسیم ناگزیر تھی، وقت کے ساتھ ساتھ نیز تجربات سے ثابت ہو گا کہ ہندوستان کی آئینی مشکلات کا حل تقسیم میں مضمر تھا اور تاریخ بھی اس تقسیم کے حق میں فیصلہ کرے گی۔ متحدہ ہندوستان کا تصور ناقابل عمل تھا، اور اس کا انجام خوفناک تباہی تھا۔
ہمیں اب اپنی تمام تر کوششیں اس مملکت اور اس کے لوگوں کی فلاح و بہبود پر موکوز کرنا ہو گی، بالخصوص عام لوگوں کے لئے، ماضی کی تلخیوں کو فراموش، اور باہمی تنازعات کو نظر انداز کرتے ہوئے ملکی تعمیر و ترقی کا حصہ بننا ہو گا، تاکہ کامیابی ہمارے قدم چومے۔

بابائے قوم کامیابی نے حقیقت میں ہمارے قدم چومے، ملک میں 4 دفعہ آئین شکنی ہوئی، نظریہ ضرورت کے تحت عدلیہ نے آئین پاکستان کو ہر آمر کے ساتھ ملکر طاقت کے ٹیکے لگائے، کبھی ایبڈو، پروڈا اور آجکل قومی احتساب بیورو جیسے وٹامنز بھی اس ملک کو دئیے مگر ملکی حالات تا حال تشویشناک ہیں۔


اقرباء پروری، رشوت خوری، چوربازاری، بدعنوانی کا ہم قلع قمع کر چکے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال موجودہ حکومت کا چینی، آٹا اور پٹرولیم مصنوعات کی انکوائری رپورٹس پر عملدرآمد ہے، تمام مجرمان کو قرار واقعی سزا دی جا چکی ہے (ان کی وزارتیں تبدیل کی جا چکی ہیں)، موجودہ حکومت کی مثال اس لئے بھی دی ہے کیونکہ یہ آپ کے وژن پر عملدرآمد کے لئے آئے تھے۔ سابقہ حکومتی عہدیدار تو صادق و امین نہیں تھے۔
مذہبی رواداری تو اس قدر ملک میں عام ہے، کہ پہلے صرف غیر مسلم کو کافر کہا جاتا تھا، الحمداللہ اب مسلمان، مسلمان کو کافر کہہ کر قتل کر دیتا ہے، آئین و قانون کی حکمرانی اتنی ہے کہ ریاست بنا تفتیش لوگوں کو غائب کر دیتی ہے، نیز غداری کے مقدمات درج کر دیتی ہے۔


کاش اس 11 اگست 1947ء کی تقریر کو مطالعہ پاکستان میں شامل کیا جائے تاکہ ہم قائد کی بصیرت کا اندازہ کر سکیں کہ وہ کیسا پاکستان چاہتے تھے

%d bloggers like this: