1999 میں یہ بندہ نواز شریف کا ہمدم و ہمراز تھا اور آج وہی شخص مریم نواز کو پٹیاں پڑھا رہا ہے ۔۔۔۔ پاک فوج کے ریٹائرڈ بریگیڈئر کا تہلکہ خیز انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک)دروغ برگردنِ راوی،بتایا جاتا ہے کہ کارگل پر دی جانے والی ابتدائی بریفنگز میں وزیرِ اعظم نواز شریف کی زیادہ تر توجہ سامنے رکھی گئی اشیائے خورد و نوش سمیت دیگر امورپر مرکوز رہتی ۔ مئی 1999ء کے دوران بھارتی پریس نے پہلی بار پاکستان کے حمایت یافتہ ’’mujahidin‘‘کی بھارتی علاقے



میں موجودگی کی خبر عام کی۔پاک فوج کے ریٹائرڈ افسر بریگیڈئیر (ر) فیصل مسعود اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ 17 مئی 1999ء کو اوجڑی کیمپ میں وزیراعظم پاکستان کو operation ’’کوہ پیما ‘‘سے متعلق پہلی باضابطہ بریفنگ دی گئی۔نسیم زہرہ کی ’ فرام کارگل ٹو کُو‘ میں درج اس بریفنگ کی تفصیلی روداد کے مطابق سیکرٹری دفاع جنرل افتخاراگرچہ خاموش رہے،وزیر خارجہ سرتاج عزیز اور جنرل مجید ملک پیش کردہ منصوبے پر مگر بہت مضطرب ہوئے۔تاہم جب جنرل عزیز نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’سر، قائد اعظم کے بعد تاریخ نے صرف انہی کو ’ فاتح کشمیر‘بننے کا موقع فراہم کیا ہے‘، تووزیر اعظم نےoperationکی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ’mujahidin ‘ کی کامیابیوں پر بھرپور اطمینان اور نیک تمّنائوں کا اظہار کیا ۔فیصلہ ہوا کہ اoperation کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے مجوزہ منصوبے کو DCC کی خصوصی میٹنگ میں زیرِ بحث لایا جائے۔ فاتح کشمیر کے نام سے یاد رکھے جانے کا خواب دیکھنے والے میاں صاحب نے کچھ دن بعد نتائج اپنی خواہش اور چار جرنیلوں کے دعوئوں کے برعکس برآمد ہوتے دیکھے، تو ہاتھ پائوں کا پھولنا فطری تھا۔ جولائی کے پہلے ہفتے میں مجوزہ ڈی سی سی کی میٹنگ ملتوی کرتے ہوئے، جاتی امر ا میں اپنے والد اور برادرِ خورد سے مشاورت کے بعد میاں صاحب نے اچانک صدر کلنٹن سے ملنے کی درخواست کر دی ۔کہتے ہیں جب زمین تپتی ہے تو بلّی اپنے بچوں پر پائوں رکھ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ بحرانی لمحوں میں کچھ یہی رویہ ہمارے اس وقت کے وزیرِ اعظم کا بھی تھا۔ 4 جولائی 1999ء والے دن میاں صاحب صدر کلنٹن سے تنہائی میں ملنے پر بضد تھے۔ واشنگٹن پہنچنے پر ان کو بار باربتایا گیا کہ وہ چاہیں تو تنہا آجائیں، امریکی صدر کو مگرغیر ملکی سربراہوں سے تنہائی میں ملا قاتیں کرنے کی سہولت دستیاب نہیں۔ہمیں نہیں معلوم کہ میاں صاحب اپنے ہر دور حکومت میں سلامتی امور بالخصوص پاک بھارت تعلقات کے باب میں عالمی رہنماوں سے خفیہ یا کم از کم اکیلے میں ملاقاتوں پرہی کیوں مصررہتے ہیں! اکتوبر 1999ء تک میاں صاحب نے اپنے بیشتر قریبی ساتھیوں بشمول شہباز شریف اور چوہدری نثار پر بھی بھروسہ کرنا چھوڑ دیا تھا ۔ 12 اکتوبر کی شام پرویز رشید اور حسین نواز ہی میاں صاحب کے ہمدم و ہمراز تھے۔ لگ بھگ اکیس سال بعد پرویز رشید اب حسین نواز نہیں بلکہ مریم نواز کے اتالیق ہیں۔لندن میں بیٹھے میاں صاحب آج بھی مگر اَوروں کو ہی کوس رہے ہیں۔







%d bloggers like this: