2002ء سے 2018ء تک ملکا شراوت کو کیا شرمناک پیشکش کی گئی تھی؟ برسوں بعد اداکار نے خود ہی انکشاف کر دیا

ممبئی (ویب ڈیسک) بولڈ پرفارمنس اور آئٹم گانوں میں جلوے دکھانے والی بولی وڈ اداکارہ 43 سالہ ملکا شراوت نے انکشاف کیا ہے کہ حقیقی شخصیت اور زندگی سے مطابقت نہ رکھنے والے کردار دیے جانے پر انہوں نے ماضی میں 20 سے 30 فلموں میں کام کرنے سے انکار کیا۔



ملکا شراوت ماضی میں بولی وڈ میں اقربا پروری اور کام کے بدلے گندے تعلقات جیسی روایات پر بات کرتی آئی ہیں اور انہوں نے پہلے بھی دعویٰ کیا تھا کہ انہیں بھی گندے طور پر تنگ کیا گیا۔ اداکارہ نے 2018 میں ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ ماضی میں انہیں متعدد بار کہا گیا کہ وہ جس طرح اسکرین پر اداکاروں کے ساتھ رومانس کرتی ہیں، اسی طرح آف اسکرین بھی ان کے ساتھ رومانس کریں۔ ملکا شراوت نے بتایا تھا کہ انہیں کہا جاتا تھا کہ جس کام کو سر انجام دینے میں انہیں آن اسکرین یعنی فلم میں کوئی شرم نہیں آتی تو انہیں اسے بند کمرے میں کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟ اداکارہ نے کسی بھی اداکار، پروڈیوسر و ڈائریکٹر کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ بعض مرتبہ انہیں رات کو 3 بجے تنہائی میں ملنے کے لیے بلایا جاتا۔ اسی طرح انہوں نے جون 2019 میں دعویٰ کیا تھا کہ اب بولی وڈ میں فلم پروڈیوسرز اور ہدایت کار عام اداکاراؤں کے بجائے اپنی گرل فرینڈز کو کاسٹ کر رہے ہیں۔ ملکا شراوت نے کسی بھی فلم ساز یا ان کی گرل فرینڈ کا نام نہیں لیا تھا تاہم دعویٰ کیا تھا کہ اب فلموں میں ہی ہیروز کی گرل فرینڈز ہی کاسٹ کی جا رہی ہیں۔ اسی انٹرویو میں انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ انہیں خواتین کے حقوق پر بات کرنے کی وجہ سے نظر انداز کیا جاتا اور ان کی حق گوئی کی وجہ سے ہی ماضی میں انہیں 20 سے 30 فلموں سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔


اور اب ایک بار پھر انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے غیر مہذب کرداروں کی پیش کش کے باعث ماضی میں ڈھائی درجن فلموں کو مسترد کیا۔ ٹائمز آف انڈیا کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ملکا شراوت نے مذکورہ فلموں کے نام نہیں بتائے اور نہ ہی انہوں نے ان کرداروں کی مکمل طور پر وضاحت کی جن کی انہیں پیش کش کی گئی تھی تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں جن کرداروں کی پیش کش کی گئی وہ ان کی حقیقی شخصیت سے مطابق نہیں رکھتے تھے۔ ملکا شراوت کے مطابق انہوں نے جن کرداروں کی وجہ سے فلموں کو مسترد کیا اگر وہ یہ کردار نبھاتیں تو ان کی حقیقی اور فلمی شخصیت میں تضاد ہوجاتا۔ انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ انہوں نے مذکورہ 20 سے 30 فلموں کی پیش کش کس عرصے میں مسترد کیں۔ مذکورہ انٹرویو میں انہوں نے بھارت میں خواتین کے لباس اور ان کی چال کی وجہ سے انہیں بد اخلاقی اور مار پیٹ کا نشانہ بنائے جانے کے کلچر پر بھی بات کی اور کہا کہ یہ کم علمی اور تعلیم سے دوری کا نتیجہ ہے۔ ملکا شراوت کا کہنا تھا کہ فلموں یا خواتین کے لباس پہننے کا ان کے بد اخلاقی کیے جانے سے کوئی تعلق نہیں، لوگوں کو سمجھنا ہوگا کہ کسی کا لباس دوسروں کو بد اخلاقی کی دعوت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے، جہاں کئی دہائیوں قبل ایک خاتون وزیر اعظم بنیں اور آج متعدد شعبوں کی سربراہی خواتین کے ہاتھوں میں ہے، لیکن اس کے باوجود یہاں خواتین کا استحصال اور انہیں کم اہمیت دیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔


انہوں نے کہا کہ خواتین کی عزت سے متعلق ہمیں گھر سے کام کا آغاز کرنا ہوگا اور پہلے اپنے بیٹوں کو لڑکیوں کی عزت کرنا سکھانا ہوگا اور اس کے بعد بد اخلاقی جرائم کو روکنے کے لیے سخت قوانین بنانے ہوں گے۔ ملیکا شروات نے مذکورہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب کہ کچھ دن قبل ہی سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر پر مداحوں نے کمنٹس کرکے ان کی فلموں کو بھارت میں بد اخلاقی کیسز کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ ٹوئٹر پر صارفین نے ملکا شراوت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی بولڈ فلموں اور کرداروں کی وجہ سے ہی خواتین کا بد اخلاقی ہوتا ہے، جس پر اداکارہ نے تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ خیال رہے کہ ملکا شراوت نے 2002 میں ف می کیریئر کا آغاز کیا تاہم انہیں شہرت 2004 کی ہارر رومانٹک فلم ’مرڈر‘ سے ملی، وہ اب تک 3 درجن سے زائد فلموں میں جلوہ گر ہو چکی ہیں۔ ملکا شراوت نے 2016 میں چینی فلم انڈسٹری کا رخ کیا اور وہ ‘ٹائم ریڈرز‘ میں ایکشن میں دکھائی دیں۔ ملکا شراوت نے اپنے فلمی کیریئر میں متعدد آئٹم سانگس پر بھی شاندار پرفارمنس کی، ان کے مشہور گانوں میں ’جلیبی بائی، شالو کے ٹھمکے، لیلیٰ اور گاگھرا‘ شامل ہیں۔ ملکا شراوت کی آخری ہارر کامیڈی ویب سیریز’بو۔۔ سب کی پھٹے گی‘ 2019 میں ریلیز ہوئی تھی، جس کے ذریعے وہ 2 سال بعد اسکرین پر دکھائی دیں تھیں۔ گزشتہ ایک سال میں ملکا شراوت کی کوئی بھی فلم، گانا یا ویب سیریز سامنے نہیں آئی اور مزید ایک سال تک ان کی کسی فلم کے ریلیز ہونے کی اطلاعات بھی نہیں ہیں۔





%d bloggers like this: