2011 میں نجی بینک سے 50 لاکھ روپے کی ادائیگی۔۔۔ فیصل آباد کی نجی سوسائٹی میں کتنی انوسٹمنٹ کی؟رانا ثنا ء اللہ سے کیے گئے نیب سوالات منظرعام پرآ گئے،ہدایات جاری

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر اور سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو نیب لاہور کی جانب سے فراہم کیا گیا سوالنامہ منظر عام پر آگیا ہے جس کے مطابق نیب لاہور نے رانا ثناء اللہ سے 2011ء اور 2015ء میں دو افراد کو منتقل کی گئی لاکھوں روپے



کی رقم بارے معلومات فراہم کرنے کی ہدایات کی گئی ہیں۔ سوالنامے کے مطابق نیب لاہور نے مختلف ہائوسنگ سوسائٹیوں میں رانا ثناء اللہ کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری کی تفصیلات بھی فراہم کرنے کی ہدایات کی گئی ہیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ کی نیب پیشی کی اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی ،ذرائع کے مطابق نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے رانا ثنا اللہ سے 27سوالات کئےرانا ثنا اللہ نے متعدد سوالات کے جوابات دینے کے بجائے کہا مجھے یاد نہیں، نیب ٹیم نے پوچھا کہ مارکیٹ میں جو جائیداد مہنگی ہو وہ آپ نے کیسے سستی خریدی، ذرائع کے مطابق رانا ثنا اللہ نے جواب دیا کہ ہمیں جو مارکیٹ سے سستی و مناسب جائیداد ملی وہ ہم نے خریدی،نیب نے رانا ثناء اللہ سے پام سٹی فیصل آباد الائیڈ سوسائٹی میں کی گئی انویسٹمنٹ سے متعلق سوالات پوچھے ، رانا ثنائاللہ سے 2011 میں نجی بینک کے ذریعے 50 لاکھ روپے کی ادائیگیوں سے متعلق پوچھ گچھ کی گئی، نیب نے سوال کیا کہ آپکے اور آپکی اہلیہ کے نام سے 2 دنوں میں 50 لاکھ کی نجی بینک سے ادائیگیاں ہوئیں؟تمام ادائیگیوں اور حاصل کی گئی رقم سے متعلق کوئی معاہدہ ہوا تو دستاویزات ہمراہ لائے ، وہ کہاں ہیں،رانا ثنا اللہ نے جواب دیا کہ کچھ ریکارڈ ملا ہے وہ نیب کو فراہم کردیا ہے ۔واضح رہے کہ نیب لاہور نے رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ کو سوالنامے کے حوالے سے تمام ریکارڈ کے ہمراہ منگل کی دوپہر دو بجے طلب کر رکھا تھا۔







%d bloggers like this: