2020ء میں سونے کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوا، سونے کی قیمتوں میں اضافے نے لوگوں کو مالا مال کر دیا

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونا جمعرات کو مزید 350روپے کے اضافے سے ایک لاکھ14ہزارروپے کی سطح پرپہنچ گیا جب کہ مجموعی طور پر گزشتہ سال2020میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 25ہزار600روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔صراف اینڈ جیولر ز ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ روز عالمی گولڈ مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت14ڈالر کے اضافے سے1894ڈالرہوگئی جس کے زیر اثر مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں اضافے کا رجحان برقراررہا او ر ایک تولہ سونے کی قیمت 350روپے کے اضافے سے1لاکھ 14ہزارروپے جب کہ دس گرام سونے کی قیمت 301روپے کے اضافے سے97737روپے ہوگئی۔چاندی

کی فی تولہ قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 1320روپے مستحکم رہی۔درایں اثنا گزشتہ سال 2020میں مجموعی طور پر عالمی گولڈ مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 372ڈالر یعنی24فی صد اضافہ ہوا ہے31دسمبر2019کو عالمی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت1522ڈالر تھی جو بڑھ کر 31دسمبر2020کو 1894ڈالر پر پہنچ گئی ہے جس کے زیر اثر مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت میں ایک سال میں 25ہزار600روپے یعنی 29فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے31دسمبر2019کو فی تولہ سونے کی قیمت 88ہزار400روپے تھی جو ایک سال بعد ایک لاکھ 14ہزار روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی ایک سال میں 21947روپے بڑھ گئی ہے۔ دوسری جانب بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معیشت کی غیر یقینی کی صورتحال میں لوگوں نے سونے پر پیسہ لگایا جس سے سونے کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافہ ہوا اور اس سے انویسٹرز حضرات مالامال ہو گئے، بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سونے کی قیمت میںاضافے کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت ملک میں اس قیمتی دھات کی قیمتیں تاریخ کی ریکارڈ بلند ترین سطح پر ہیں۔پاکستان میں ایک تولہ سونے کی قیمت اس وقت ایک لاکھ نو ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔ سونے کی قیمت میں بے تحاشا اضافے کا معاملہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے اور سونے کی عالمی منڈی میںفی اونس قیمت اٹھارہ سو ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔پاکستان اور عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافہ اس وقت دیکھنے میں آ رہا ہے جب کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں معاشی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لیے مکمل لاک ڈاون اور سمارٹ لاک ڈاون کا نفاذ کیا گیا جس نے معیشت کو شدید متاثر کیااور اس کے نتیجے میں بیروزگاری اور غربت میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ پاکستان میں لاک ڈاون کی وجہ سے جہاں معاشی سرگرمیاں سست ہوئیں تو وہیں حکومت نے دوسرے بہت سارے شعبوں جیسا کہ شادی ہالز اور کیٹرنگ سروسز بھی بند کر دیں۔ شادی ہالز کے بند ہونے کی وجہ سے شادیوں کی تقریبات میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔عام صارف کے ذہن میں یہ سوالہے کہ جب شادی تقریبات موخر ہو چکی ہیں اور زیورات کی طلب میں کمی ہے تو سونے کی قیمت میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟پاکستان میں سونے کے کاروبار سے وابستہ افراد کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ اس قیمتی دھات میں عالمی سطح پر بھاری سرمایہ کاری ہے، جسے موجودہ غیر یقینی معاشی صورت حال میں سب سے محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جا رہاہے۔ان کے مطابق دوسرے لفظوں میں ’سونے کی ذخیرہ اندوزی‘ عالمی اور مقامی سطح پر زور و شور سے جاری ہے جس نے اس کی قمیت میں بے پناہ اضافے کو جنم دیا ہے۔سونے میں سرمایہ کاری کو اس وقت دنیا بھر میں محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں عارف حبیب کموڈٹیز کے چیف ایگزیکٹیو احسن محنتی کا کہنا ہے کہ دنیا میں جب بھی معاشی طور پرغیر یقینی صورتحال ابھری ہے تو سونے میں سرمایہ کاری کو محفوظ سمجھا جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ سونے میں سرمایہ کاری سے دو فائدے ہوتے ہیں ایک تو سرمایہ کاری محفوظ رہتی ہے اور دوسرا سرمائے کی قدر بھی بڑھتی ہی رہتی ہے۔انھوں نے کہا کہ شرح سود پاکستان سمیت دنیا بھر میں کم ہوا ہے جس کی وجہ سے بنکوں میں پیسے رکھنے سے کوئی خاص منافع حاصلنہیں ہوتا اور اس طرح سٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ سرمایہ کار کو خوف میں مبتلا رکھتا ہے۔پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافے کی شرح عالمی مارکیٹ سے بھی زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق احسن محنتی کے مطابق رواں برس کے پہلے چھ مہینوں میں عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں 23 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اگر پاکستان میں ان چھ مہینوں میں سونے کی قیمت میںاضافے کا جائزہ لیا جائے تو یہ 34 فیصد ہے۔انھوں نے کہا کہ عالمی سطح پر قیمت میں اضافے کے ساتھ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی نے مقامی سطح پر سونے کی قیمت کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔’ہمارے تجارتی خسارے اور ادائیگیوں میں عدم توازن کی وجہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور اس میں فی الحال کسی کمی کا کوئیامکان نہیں جس کی وجہ سے سونے کی قیمت میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آتا رہے گا۔‘یوسف سعید کہتے ہیں کہ پاکستان میں سونے کی قیمت تو عالمی سطح پر قیمتوں سے منسلک ہے مگر دوسری جانب ایکسچینج ریٹ میں بہت عدم توازن ہے اور ساتھ ساتھ سونے میں سرمایہ کاری کی شرح بھی بہت زیادہ بلند ہے جس نے طلب کو بڑھا دیا ہے جس کے نتیجے میں اضافے کی شرحبھی بہت زیادہ ہے۔آل سندھ صرافہ جیولرز ایسوی ایشن کے صدر حاجی ہارون رشید چاند کا کہنا ہے کہ اس وقت سونے کی عالمی قمیت فی اونس اٹھارہ سو ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔انھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں بہت سے ملک اور عالمی مالیاتی اداروں کا بھی سونے میں سرمایہ کاری کرنے کا امکان ہے۔ان کے مطابق آنےوالے چند مہینوں سونے کی عالمی سطح پر قیمت دو ہزار ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے اور اسی بنیاد پر پاکستان میں بھی اس کی قیمت میں اضافہ ہو گا۔یوسف سعید کہتے ہیں کہ اگر آنے والے دنوں میں چین اور انڈیا کی جانب سے سونے کی مانگ میں اضافے دیکھنے میں آیا تو اس کی قیمت میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: