72 گھنٹے میں مقدمہ درج کرنے کی حرکت کی تو آپ کی وزارت نہیں رہے گی، فضل الرحمٰن کا شیخ رشید کو جواب

پاکستان ڈیموکریٹک موومبٹ (پی ڈی ایم) کے صدر اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ہم مذاکرات پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں لیکن مذاکرات کس سے کریں جعلی حکومت سے جو عوام کی نمائندہ نہیں ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے وزیرداخلہ شیخ رشید احمد کے 72 گھنٹے میں مقدمہ درج کرنے کی بات پر ردعمل میں کہا ہے کہ میرے خیال میں آپ نے یہ حرکت کی تو آپ کی وزارت نہیں رہے گی۔

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کہا جارہا کہ کسی نے فوج کے خلاف بات کی تو 72 گھنٹوں میں مقدمہ دائر کردیا جائے گا، 72 گھنٹے میں آپ مقدمہ دائر نہیں کریں گے بلکہ میرا خیال ہے آپ نے یہ حرکت کی تو 72 گھنٹے بعد آپ کی وزارت نہیں رہے گی، یہ اتنا آسان نہیں ہے۔

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ ’جب تک میں وزیر داخلہ ہوں کوئی بھی فوج کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرے گا تو 72 گھنٹے میں اس کے خلاف پرچہ دوں گا’۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ’ہم فوج کے احترام اور تقدس میں کوئی فرق نہیں لانا چاہتے، ہم پورے جنرلز کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر فوج سیاست میں مداخلت کرے گی تو ہم ڈنکے کی چوٹ پر کہیں گے کہ تم اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہے ہو‘۔

%d bloggers like this: